ٹرینڈنگ
عالمی مذاہب میں حیات بعد الممات کا تصور: ایک تقابلی جائزہجولائی ۲۰۲۶: وہ مہینہ جب ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کے زوال سے انکار ناممکن ہو گیا*جنتر منتر احتجاج۔۔۔ اور ہمارے لیے کچھ کام کی باتیںکوکروچ تحریک کی پہلی بڑی کامیابیمعروف سعودی عالمِ دین مفتی محمد عمر شفیق حجازی حفظہ اللہ کا مرکزالمعارف، ممبئی کا دورہدیوبند میں "Concept of Life After Death in World’s Major Religions” کی تقریبِ اجراعالمی یومِ آبادی: مسئلہ آبادی ہے ہی نہیں!اہل ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس اعلی سطحی وفد کی چیف الیکٹورل آفیسر مہاراشٹر سے اہم ملاقاتعالمی مذاہب میں حیات بعد الممات کا تصور: ایک تقابلی جائزہجولائی ۲۰۲۶: وہ مہینہ جب ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کے زوال سے انکار ناممکن ہو گیا*جنتر منتر احتجاج۔۔۔ اور ہمارے لیے کچھ کام کی باتیںکوکروچ تحریک کی پہلی بڑی کامیابیمعروف سعودی عالمِ دین مفتی محمد عمر شفیق حجازی حفظہ اللہ کا مرکزالمعارف، ممبئی کا دورہدیوبند میں "Concept of Life After Death in World’s Major Religions” کی تقریبِ اجراعالمی یومِ آبادی: مسئلہ آبادی ہے ہی نہیں!اہل ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس اعلی سطحی وفد کی چیف الیکٹورل آفیسر مہاراشٹر سے اہم ملاقات

آسام اسمبلی میں یکساں سول کوڈ بل: برابری کے نام پر دھوکہ

0%
آسام اسمبلی میں یکساں سول کوڈ بل: برابری کے نام پر دھوکہ
سیاست

آسام اسمبلی میں یکساں سول کوڈ بل: برابری کے نام پر دھوکہ

Eastern
1 min read0 views
Save this article for later

آسام اسمبلی میں یکساں سول کوڈ بل: برابری کے نام پر دھوکہ

از:    (مولانا) محمد بدر الدین اجمل

            ایم، ایل، اے: بننا کندی، آسام

آسام اسمبلی میں حکومت کے ذریعہ جو  یونیفارم سول کوڈ بل پاس کیا گیا ہے یہ سراسر ناانصافی اور غیر برابری پر مبنی ہے۔ اس  قانون کے  تحت شادی، طلاق، وراثت، گود لینے اور دیگر خاندانی معاملات کے لیے تمام شہریوں پر ایک ہی قانون لاگو ہوگا۔ مختلف مذاہب کے الگ الگ پرسنل لاکو ختم  کردیا گیا ہے  لیکن  قبائلی برادریوں کو اس قانون سےالگرکھا گیا ہے۔اس قانون کے حساب سے  مسلمان سمیت تمام لوگوں  کے لئے ایک سے زیادہ شادیوں پر پابندی ہوگی جبکہ لیو اِن ریلیشن شپ(یعنی شادی کے بغیر لڑکے اور لڑکی کے ایک ساتھ رہنے ) کی  اجازت ہوگی اور اس کا باظابطہ رجسٹریشن بھی ہوگا۔لڑکیوں کو وراثت میں  لڑکوں کے برابرحصہ ملے گا لیکن زندگی میں باپ ساری جائیداد بیٹوں کو ہی وصیت کردے تو بیٹیوں کو باپ کی وراثت سےکچھ بھی نہیں ملےگا۔ حکومت کہتی ہے کہ اس  کا مقصد تمام شہریوں کو یکساں حقوق فراہم کرنا ہے جبکہ حقیقیت یہ ہے کہ اس سے مختلف مذاہب، سماج اور فرقوں کے  مذہبی اور ثقافتی روایات متاثر ہوں گی۔

واراثت میں  عورتوں کاحق

جہاں تک واراثت میں  عورتوں کو برابری کا حصہ دینے کی بات ہے تو مسلم پرسنل لا میں عورتوں کوجو حصہ دیا گیا ہے  وہ بہت انصاف پر مبنی اوراللہ کی طرف سے نازل کردہ قانون ہے  جس میں تبدیلی نہیں ہوسکتی ۔ قرآن  کریم کی سورہ نساء آیت نمبر 1 1، 12 اور 176 میں اسلام کے قانونِ میراث کو بہت ہی واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔  اس کے علاوہ  وراثت و میراث اسلامی فقہ کا ایک بہت ہی اہم اور تفصیلی موضوع ہے جس پر متعدد کتابیں مدارس میں پڑھائی جاتی ہیں جن  میں سب  سےمشہور کتاب، السراجی فی المیراث ہے۔

اس لئے یہ بات درست نہیں کہ اسلام میں ہمیشہ عورت کو مرد کے مقابلے میں کم وراثت ملتی ہے۔ شریعت کے وراثتی قوانین انصاف اور ذمہ داریوں کی بنیاد پر بنائے گئے ہیں، نہ کہ صرف مرد اور عورت کے فرق کی وجہ سے۔اسلام میں بعض مواقع ایسے ہیں جہاں عورت اور مرد کا حصہ برابر ہوتا ہے، بلکہ بعض جگہ عورت کو مرد سے زیادہ حصہ ملتا ہے، اور بعض صورتوں میں عورت وارث بنتی ہے جبکہ مرد کو کچھ  بھی نہیں ملتا۔ تیس سے زیادہ ایسی صورتیں ہیں جن میں عورت مرد کے برابر یا اس سے زیادہ حصہ پاتی ہے، یا اکیلی وارث ہوتی ہے۔

مثال کے طور پر مرنے والی نے باپ ، بیٹا او رنانی کو چھوڑا ہو تو باپ اور نانی دونوں کوبرابر  چھٹا حصہ یعنی16.66 فیصد ملے گا (مثال کے طور پرسوروپے میں 16.66 روپے  اورایک لاکھ میں سے 16660) حالانکہ نانی کا رشتہ ،باپ کے مقابلے دور کا ہے۔اسی طرح  ماں شریک بھائی اور بہنوں کا حصہ ہمیشہ برابر ہوتا ہے ۔ بعض صورتوں میں تنہارشتہ دار، مرد ہو یا عورت ، پوری جائیداداس کو ہی ملے گی، جیسے کسی نے صرف باپ کو چھوڑا ہوتوباپ کو ساری جائیداد مل جائے گی ، یا صرف ماں کو چھوڑا ہو تواسکو بھی پوری جائیداد مل جائے گی۔ اسی طرح سے اسلام میں اگر کوئی اپنی زندگی میں جائیداد تقسیم کرنا چاہے تو اس کے لئے یہ حکم ہے کہ وہ اپنے بیٹے اور بیٹیوں کو برابر  کا  حصہ دے۔

Advertisement

بعض صورتوں میں عورت کا حصہ مرد سے بڑھ جاتا ہے ؛ جیسے  ایک عورت نے اپنی وفات کے وقت ساٹھ ایکڑ زمین چھوڑی اور شوہر ، باپ ، ماں اور دو بیٹیوں کو وارث کے طور پر چھوڑا ، تو ہر بیٹی کو سولہ (۱۶ ) ایکڑ زمین ملے گی، جو کل  ترکہ کا آدھے سے زیادہ ہے ، اوراگر اسی صورت میں دو بیٹیوں کے بجائے دو بیٹوں کو چھوڑا ہو  تو ہر بیٹے کا حصہ ساڑھے بارہ ایکڑ ہوگا ، یعنی دونوں بیٹوں کو آدھے سے بھی کم ملے گا۔ اس طرح کی متعدد صورتیں ہیں جن میں مرد کے مقابلہ عورت کا حصہ زیادہ ہوتا ہے ۔

بعض ایسی صورتیں بھی ہیں جن میں مرد کو حصہ نہیں ملتا ہے ،لیکن اگر اسی کی ہم درجہ عورت رشتہ دار ہو تو وہ میراث میں حصہ پاتی ہے ، جیسے کسی عورت  کی وفات کے  بعد ان کے وارثین  میں شوہر ، باپ ، ماں ، بیٹی اور پوتی ہو ، تو پوتی چھٹے حصےیعنی16.66  فیصدجائیداد پائے گی(سوروپے میں 16.66 روپے اور ایک لاکھ میں سے 16660) اور پوتی کی جگہ پوتا ہو تو اسے کوئی حصہ نہیں ملتا ۔

 اس کے مقابلے میں صرف چار مخصوص صورتیں ایسی ہیں جن میں عورت کا حصہ مرد کے مقابلے میں آدھا ہوتا ہے۔جن معاملات میں مرد کو عورت سے زیادہ حصہ دیا گیا ہے، اس کی وجہ اس پر آنے والی مالی ذمہ داریاں ہیں۔ مثال کے طور پر باپ پر اپنی بیوی اور بچوں کا خرچ لازم ہے، جبکہ ماں پر ایسی ذمہ داری نہیںاگرچہ وہ  مالدار ہو یا کمانے والی ہو۔ اسی طرح بیٹے کو اپنی بیوی، اولاد اور بعض حالات میں والدین کا خرچ بھی اٹھانا پڑتا ہے، جبکہ بیٹی پر یہ ذمہ داریاں نہیں ہوتیں۔ اسی لیے بعض صورتوں میں بیٹے کا حصہ بیٹی سے اور باپ کا حصہ ماں سے زیادہ رکھا گیا ہے۔

لہٰذا وراثت میں حصوں کا فرق مرد یا عورت ہونے کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ان کی ذمہ داریوں  کےلحاظ سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے عورت کے حقوق اور اس کی فطری ضروریات کا بھی خاص خیال رکھا ہے۔ چونکہ عورت پر عام طور پر مالی ذمہ داری نہیں ہوتی، اس کے باوجود اسے وراثت میں باقاعدہ حصہ دیا گیا ہے، جو اسلام کے عادلانہ اور متوازن نظام کو بتاتاہے۔یہ باتیں میری اپنی نہیں بلکہ قرآن  کریم کی سورہ نساء آیت نمبر  11، 12 اور 176  نیز احادیث اور کتب فقہ سےلی گئی  ہیں۔

Advertisement
Advertisement

ایک سے زائد شادی

جہاں  تکاسلام میں تعدد ازواج یعنی ایک سے زیادہ شادی کامعاملہ ہے تو اس کی اجازت دی گئی ہےلیکن اس کے ساتھ ایسی سخت شرطیں بھی رکھی گئی ہیں جن پر عمل کرنا آسان نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک کےمسلم سماج میں ایک  سےزیادہ شادی کا رواج عام نہیں ہے۔بلکہ مسلمان،نا کے برابر ایک سے زیادہ شادیاں کرتے ہیں، وہ بھی  بعض اوقات  پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوتی ہے مثلاً اگر پہلی بیوی کسی دائمی بیماری میں مبتلا ہو یا اولاد نہ ہو۔

اسلام میں انسانی اور فلاحی جذبے کے تحت بھی ایک سے زیادہ شادی کی اجازت ہے، مثلاً کسی بیوہ یا مطلقہ خاتون کو سہارا دینے کے لئے،یا  اگر کسی جگہ عورتوں کی تعدادمردوں کے مقابلے میں  زیادہ ہو تو ایسی صورت میں ایک سے زیادہ شادی کی اجازت  سماج کے لئے ایک رحمت ہوتی ہے تاکہ معاشرے میں اخلاقی برائی نہ پیدا ہونے لگے اور نسل انسانی کو فروغ ملتا رہے ۔

 اسلام میں ایک سے زیادہ شادی کی پہلی اور بنیادی شرط یہ ہے کہ شوہر اپنی تمام بیویوں کے درمیان مکمل انصاف اور برابری قائم رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔قرآن کریم نے سورہ نساء آیت نمبر 3  میں  صاف کہا ہے کہ "اگر انصاف نہیں کرسکتے تو صرف ایک ہی شادی کرو”۔ پھر بھی  اگر کوئی مرد دوسری یا تیسری شادی کے بعد اپنی کسی بیوی پر ظلم کرتا ہے تو یہ شریعت کا قصور نہیں بلکہ اس مرد کا ذاتی جرم ہے جس پر اسے سزا دی جاسکتی ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ جن لوگوں کو قانونی طور پرایک سے زیادہ شادی کی اجازت نہیں ہے، ان میں بھی بعض اوقات مسلمانوں کے مقابلے میں ایک سے زیادہ شادی کا رواج زیادہ پایا جاتا ہے۔

Advertisement
Advertisement

ویسے بھی 1961 کے بعد ہندوستان میں ایسا کوئی جامع سروے نہیں ہوا جس میں تمام شہریوں کے مذہب، شادی اور سماجی تناسب کو واضح طور پر درج کیا گیا ہو۔ اس آخری سروے کے مطابق مسلمانوں میں تعددِ ازدواج کی شرح  مقابلۃ  کم تھی، جو صرف 5.7 فیصد تھی۔ ہندوؤں میں یہ شرح 5.8 فیصد تھی، جبکہ بدھ مت اور جین مت کے ماننے والوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ تھی،یعنی  7.9 فیصد بدھ اور 6.7 فیصد جین ایک سے زیادہ شادی کرنےوالے تھے۔سب سے زیادہ شرح قبائلی برادریوں میں تھی جہاں 15.25 فیصد افراد تعددِ ازدواج پر عمل کرتے تھے۔ جبکہ حالیہ آسام اور دوسرے صوبوں کے یکسا ںسول کوڈ قانون میں قبائلی برادریوں کو  ہی اس قانون سے الگ رکھا گیا ہے نیز مسلمانوں کے علاوہ باقی مذاہب کے لوگوں کے لئے ایک سے زائد شادی پہلے سے ہی جرم تھا پھر بھی ان میں ایک سے زیادہ شادی کی تعداد سروے کے مطابق  مسلمانوں  سے زیادہ پائی گئی ہے۔

اس کے باوجود بعض گمراہ کن پروپیگنڈا کرنے والے اس جھوٹ کو بار بار دہراتے ہیں تاکہ وہ لوگوں کے ذہنوں میں  وہ جھوٹ، سچ کے طور پر جگہ بنا لے۔ مسلمانوں کے بارے میں یہ تصور کہ وہ تعددِ ازواج کے زیادہ شوقین ہیں یا دوسروں سے زیادہ اس پر عمل کرتے ہیں، انہی پھیلائے گئے پروپیگنڈوں میں سے ایک ہے، جسے سیاسی اور فرقہ وارانہ مقاصد کے لیے ہوا دی جاتی ہے۔

اسلام کا نظام زندگی ہر جگہ اور ہر وقت کے لئےہے

یہ بات واضح رہے کہ اسلام پوری دنیا کے لئے یکساں ہے، ایسا نہیں ہے کہ ہندستان میں رہنے والے مسلمان کے لئے سود کھانا ، شراب پینا اور بیٹی و بیٹے کے درمیان نا انصافی کرنا جائز ہو اور سعودی عرب  یا اندونیشیا  میں جائز نہ ہو۔ دنیا میں مسلمان جس ملک میں بھی ہو وہ قرآن وحدیث کا پابند ہے اور اسی پر عمل کرتا ہے، ہمارا ملک ایک جمہوری ملک ہے یہاں تو ہر انسان کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا حق خو د اس ملک کے دستور نے دیا ہے، یہاں اس طرح کے قانون بنا کر ملک   کی اقلیتوں کو ہراساں کرنا سراسر ظلم، شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور دستور ہند میں موجود مذہبی آزادی نیز اقلیت کے حقوق کے خلاف ہے۔ ہم اس ظلم کیمخالفت میں   آج بھی آواز اٹھاتے ہیں اور آئندہ بھی اٹھاتے رہیں گے۔

Advertisement
Advertisement

آسام میں منظور کیا گیا یونیفارم سول کوڈ بظاہر برابری اور یکسانیت کے نام پر پیش کیا گیا ہے، لیکن حقیقت میں یہ مختلف مذہبی اور ثقافتی روایات، خصوصاً مسلم پرسنل لامیں مداخلت ہے۔ اسلام کا عائلی اور وراثتی نظام صدیوں سے انصاف، توازن اور ذمہ داریوں کی بنیاد پر قائم ہے، جس میں مرد و عورت کے حقوق کا تعین ان کی معاشی و خاندانی ذمہ داریوں کے مطابق کیا گیا ہے، نہ کہ جنس کی بنیاد پر۔ اسی طرح تعددِ ازدواج اسلام میں کوئی لازمی حکم نہیں بلکہ سخت شرائط کے ساتھ ایک محدود اجازت ہے، جس کا غلط استعمال شریعت کانہیں بلکہ افراد کا قصور ہے۔ ایک جمہوری اور کثیر مذہبی ملک میں حقیقی مساوات کا تقاضا یہ ہے کہ تمام شہریوں کے مذہبی عقائد، شخصی قوانین اور ثقافتی شناخت کا احترام کیا جائے۔ لہٰذا ایسے قوانین نافذ کرتے وقت ملک کے آئینی اصولوں، مذہبی آزادی اور ’’اتحاد میں تنوع‘‘ کی روایت کو ہر حال میں پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔

Eastern

Eastern

Staff writer at Eastern Crescent Urdu.

View all posts →

Comments (0)

Leave a Comment

اوپر تک سکرول کریں۔