
یہ ہے اصلی ہندوستان
یہ ہے اصلی ہندوستان
تحریر: ابوالاعلی سید سبحانی
راجستھان میں مساجد کے انہدام کے خلاف تمام مذاہب کے لوگوں نے مل کر زبردست اور تاریخی احتجاج درج کرایا۔ یہ اس احتجاج کی محض تین تصویریں ہیں۔ ورنہ سوشل میڈیا پر بہت سی تصویریں اور بہت سی ویڈیوز گردش میں ہیں۔
ان تصاویر کو دیکھ کر ذہن نے فوراً اس بات کی گواہی دی کہ:– یہی اصلی ہندوستان ہے– بھائی چارے اور رواداری والا ہندوستان – ملی جلی دوستانہ تہذیب والا ہندوستان – جہاں ہندومسلمان ہمیشہ مل جل کر رہے – جہاں کے باشندوں نے ہمیشہ ایک دوسرے کا احترام کیا – جہاں ایک ہی محلے میں ہندو بھی بستے تھے، مسلمان، سکھ اور عیسائی بھی – جہاں ایک ہی محلے میں سب کی عبادت گاہیں بھی ہوتی تھیں – جہاں ایک ہی محلے میں سب اپنے اپنے تہوار بھی مناتے تھے اور جہاں سب ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کا خیال بھی رکھتے تھے – یہی اصلی ہندوستان ہے اور یہی ہندوستان کی اصل پہچان اور اصل تاریخ ہے۔

بعد میں جو کچھ ہوا اور جو آج بھی بڑھتا چلا جارہا ہے، وہ غلط ہے۔ اس ملک میں نفرت کا کاروبار بہت بعد کا کھیل ہے، اس ملک میں نفرت کی سیاست بہت بعد کی ایجاد ہے۔ اس ملک میں ہندومسلم فسادات اور ہندومسلم منافرت کا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔
یہاں مسلم حکمراں بھی رہے اور غیرمسلم حکمراں بھی لیکن، یہاں ایسی نفرت، ایسی دشمنی اور ایسی آپسی دوری کبھی نہیں رہی۔
افسوس کہ ملک میں نفرت کی منڈی جس وقت لگائی جارہی تھی اس وقت لوگوں نے توجہ نہیں دی ، دھیرے دھیرے نفرت کا بازار بڑھتا چلاگیا، رواداری، محبت اور میل جول کا سلسلہ کمزور پڑنے لگا۔ اور آج جو صورت حال ہے وہ سب کے سامنے ہے سب نے اس وقت سرینڈر کردیا ہے۔ کیا ہندو، کیا مسلمان، کیا سکھ اور کیا عیسائی، سب اس کے جال میں پھنستے چلے گئے اور سب ایک دوسرے سے دور بہت دور جاتے چلے گئے۔اس طرح نفرت کی منڈی کو خوب پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ اندیشوں، غلط فہمیوں اور بہتان تراشیوں کا خوب خوب کاروبار ہوا اور آج حالت یہ ہے کہ سب کچھ کنٹرول سے باہر ہوا جارہا ہے اور کوئی اس کے خلاف کھڑے ہونے، زبان کھولنے اور آواز اٹھانے کو تیار نہیں۔

ایسے وقت میں راجستھان کی یہ خبر دل کو سکون دینے والی ہے۔ یہ ملک بھر کے لیے امید کی کرن ہے۔ یہ ملک بھر کے امن پسند شہریوں کے لیے حوصلہ بخش تصویر ہے۔
آئیے، ان تصویروں کو غور سے دیکھیں! ان کو نظر میں رکھ کر مستقبل کا ایک خاکہ تیار کرنے کی کوشش کریں اور اس میں تمام ہندوستانیوں کو شامل کرنے کی کوشش کریں ، ہر مذہب، ہر ذات اور ہر علاقے کے ہندوستانیوں کو۔
یاد رکھیں! ظلم اور نفرت کے اس زہریلے اور خطرناک ماحول کو تبدیل کرنے کے لیے باہر تو نکلنا پڑے گا۔ کیسے نکلنا ہوگا، اور کس کس کو ساتھ رکھنا ہوگا، اس کا فیصلہ ہماری اپروچ، ذہانت، حکمت اور دوراندیشی پر منحصر ہوگا۔ بہرحال، راجستھان کی یہ تصویر ہماری بہترین رہنمائی کرسکتی ہے۔
You May Also Like
تہذیب وثقافتتحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باب
تحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باب بقلم: مولانا محمد برہان...
آرٹس اور میوزکملی اداروں کا مستقبل اور نوکِ قلم پر لٹکتی تلوار: ایف سی آر اے (FCRA) ترمیمی بل 2026 کا ایک تجزیہ
ملی اداروں کا مستقبل اور نوکِ قلم پر لٹکتی تلوار: ایف سی آر اے...
تہذیب وثقافتہواہےگوتیزوتندلیکن چراغ اپناجلارہاہے
ہواہےگوتیزوتندلیکن چراغ اپناجلارہاہے ( آسام کے سیلاب متأثرین اور مظلوم طبقات کیلئے مولانابدرالدین اجمل...
تہذیب وثقافت"آزادی کا سفر: قربانی، جدوجہد اور ہمارا فریضہ"
یومِ آزادی (15 اگست) کے موقع پر ایک تاریخی تقریر عنوان: "آزادی کا سفر:...
Uncategorizedتحریک ریشمی روما ل کا ایک تاریخی جائزہ
بقلم: مولانا محمد برہان الدین قاسمی (ڈائریکٹر مرکزالمعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر ممبئی ،...

Comments (0)
Leave a Comment