ٹرینڈنگ
مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ-اسرائیل اتحاد کو ایک اور بڑا دھچکامرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقادشیخ محمد یحییٰ باسکندی کی مرکز المعارف، ممبئی آمد؛ طلبہ سے خطاب، تعلیم، تزکیہ اور تعلق مع اللہ کی اہمیت پر زورکیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!تحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باباسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانیملی اداروں کا مستقبل اور نوکِ قلم پر لٹکتی تلوار: ایف سی آر اے (FCRA) ترمیمی بل 2026 کا ایک تجزیہہواہےگوتیزوتندلیکن چراغ اپناجلارہاہےمشرقِ وسطیٰ میں امریکہ-اسرائیل اتحاد کو ایک اور بڑا دھچکامرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقادشیخ محمد یحییٰ باسکندی کی مرکز المعارف، ممبئی آمد؛ طلبہ سے خطاب، تعلیم، تزکیہ اور تعلق مع اللہ کی اہمیت پر زورکیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!تحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باباسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانیملی اداروں کا مستقبل اور نوکِ قلم پر لٹکتی تلوار: ایف سی آر اے (FCRA) ترمیمی بل 2026 کا ایک تجزیہہواہےگوتیزوتندلیکن چراغ اپناجلارہاہے

ہتک عزت کا مقدمہ اللہ رب العزت کی عدالت میں

0%
ہتک عزت کا مقدمہ اللہ رب العزت کی عدالت میں
آراء

ہتک عزت کا مقدمہ اللہ رب العزت کی عدالت میں

Eastern
1 min read4 views
Save this article for later

مدثر احمد قاسمی

(کالم نگار ایسٹرن کریسنٹ میگزین کے اسسٹنٹ ایڈیٹر ہیں)

دنیا بھر میں مختلف شکلوں میں ہتک عزت کا قانون نافذ ہے۔اس قانون کے تحت عموما بے عزتی کرنے یا بلا وجہ الزام لگانے پر مدعی علیہ پر مقدمہ دائر کیاجاتا ہے جس کی اسے بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے۔ ارباب اختیار اور قانون دانوں نے یہ قانون اس وجہ سے بنایا ہے تاکہ بد تہذیب افراد بے لگام نہ ہوجائیں اور باعزت لوگوں کی عزت تار تار نہ ہوتا رہے۔ اس حوالے سے جب ہم اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہیں تو قرآن و حدیث میں جا بجا اس بات کی ہمیں ہدایت ملتی ہے کہ ہم کسی کی عزت نہ اچھالیں اور کسی کی تحقیر نہ کریں۔اس تعلق سے قرآن مجید کی یہ آیت بہت ہی جامع ہے: "اے مسلمانو ! (مردوں کا) ایک گروہ دوسرے گروہ کا مذاق نہ اُڑائے ، ممکن ہے کہ وہ اُن سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اُڑایا کریں ، ہوسکتا ہے کہ وہ دوسری عورتیں اِن سے بہتر ہوں, نہ ایک دوسرے کو طعنہ دو اور نہ ایک دوسرے کا برا نام رکھو، ایمان لانے کے باوجود برا نام ( رکھنا ) گناہ ہے، اور جو توبہ نہ کرے ، وہی لوگ ظلم کرنے والے ہیں.”(الحجرات:11)

چونکہ اسلام میں کسی کی بے عزتی کرنا، کسی پر بے جا تہمت اور بہتان لگانا غلط اور سخت گناہ ہے۔اس لیئےاس عمل سے باز آنا انتہائی ضروری ہے۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے  وہ فرماتے ہیں : "بے گناہ لوگوں پر الزام لگانا  آسمانوں سے زیادہ بوجھل ہے، یعنی بہت بڑا گناہ ہے۔” (کنزالعمال)

دنیاوی عدالتوں میں ہتک عزت کے مقدموں کی کار روائی اور فیصلے میں سزا کی خبریں آئے دن ہم پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں۔ اس تعلق سے احکم الحاکمین اللہ رب العزت کی عدالت میں جو فیصلہ ہوگا اور جوسزا ہوگی،اس کی ایک جھلک ہم ذیل کی کی حیث میں پا سکتے ہیں۔مسند احمد کی ایک روایت میں ہے: "جس نے کسی کے بارے میں ایسی بات کہی (الزام لگایا ، تہمت ، یا جھوٹی بات منسوب کی) جو اس میں حقیقت میں تھی ہی نہیں ، تو اللہ اسے (الزام لگانے والے، تہمت لگانے والے ، جھوٹی بات منسوب کرنے والے کو) دوزخ کی پیپ میں ڈالے گا (وہ آخرت میں اِسی کا مستحق رہے گا) یہاں تک کہ اگر وہ اپنی اِس حرکت سے (دنیا میں) باز آ جائے (رک جائے، توبہ کر لے تو پھر نجات ممکن ہے)۔”

ہتک عزت کا مقدمہ اللہ رب العزت کی عدالت میں
عدالت خداوند

دنیاوی عدالتوں میں ہتک عزت کے تعلق سے ایک عجیب حقیقت یہ ہے کہ اکثر معاملوں میں صرف صاحب ثروت لوگ ہی اپنی بے عزتی کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کرتے ہیں۔ جبکہ امیروں سے زیادہ غریبوں کی بے عزتی ہوتی رہتی ہے۔ اس رجحان سے عملا ایسا لگتا ہے کہ عزت کے حقدار صرف صاب ثروت لوگ ہیں؛کم سرمایہ والوں کا اسپر کوئی حق ہی نہیں ہے۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ اگر ہم نے اس باب میں انصاف قائم نہیں کیا تو پھر ہمیں اللہ کی پکڑ سے کوئی نہیں بچا سکتا ہے؛ کیونکہ وہ شخص جس کی بے عزتی ہوئی ہے اور جو ذلیل کیا گیا ہے اگر اس کو دنیاوی عدالتوں سے انصاف نہیں ملا اور اس نے زبان قال یا حال سے اللہ کے دربار میں شکایت کر دی تو ہماری پریشانی میں اضافہ طے ہے، جیسا کہ ذیل کی حدیث سے ہمیں یہ پیغام صاف مل رہا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مظلوم کی بد دعا سے بچو، یہ آگ کی چنگاریوں کی مانند آسمان کی طرف اٹھتی ہے“۔(الحاکم)

مذکورہ تفصیلات کی روشنی میں ہمیں اپنی پوزیشن کا اندازہ ضرور لگانا چاہیئے کہ ہم دوسروں کو عزت دینے یا بے عزت کرنے کے معاملے میں کس مقام پر کھڑے ہیں۔ اس سے یہ اندازہ ہو جائے گا کہ ہم دنیاوی اعتبار سے کتنے مہذب ہیں اور مذہبی حساب سے کتنے متدین ہیں۔ اس باب میں منصفانہ تجزیہ کے بعد ہمارے لیئے یہ ضروری ہوگا کہ ہم اپنے آپ کو صحیح ڈگر پر ڈال دیں تاکہ دنیاوی عتاب سے بھی بچیں اور آخرت کے عذاب سے بھی۔

Eastern

Eastern

Staff writer at Eastern Crescent Urdu.

View all posts →

Comments (0)

Leave a Comment

اوپر تک سکرول کریں۔