اختلاف ایک فکری حقیقت اورشرعی رہنمائی

Eastern
11 Min Read
21 Views
11 Min Read

اختلاف ایک فکری حقیقت اورشرعی رہنمائی

از:  مولانا بدرالدین اجمل  القاسمی
معروف سیاسی وسماجی قائد، رکن شوری دارالعلوم دیوبند اور صدر جمیعت علمائے ہند آسام

اختلاف انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ جب دو انسان سوچتے ہیں، سمجھتے ہیں اور کسی مسئلے کو دیکھتے ہیں تو لازماً ان کی رائے میں فرق پیدا ہو سکتا ہے۔ اسلام اس فطری حقیقت کو نظر انداز نہیں کرتا بلکہ اسے ایک منظم اور مہذب طریقہ عطا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں اختلافِ رائے کو مکمل طور پر رد نہیں کیا گیا بلکہ اس کے آداب اور اصول واضح کیے گئے ہیں۔اختلاف دراصل کسی مسئلے میں دو یا زیادہ آراء کا پایا جانا ہے، بشرطیکہ وہ علمی بنیادوں پر ہو اور اس کا مقصد حق تک پہنچنا ہو، نہ کہ اپنی ضد یا انا کو ثابت کرنا۔ اگر اختلاف دلیل، اخلاص اور ادب کے ساتھ ہو تو یہ رحمت بن جاتا ہے، اور اگر یہی اختلاف جہالت، تعصب اور نفرت میں بدل جائے تو فساد کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

اسلام نے اختلاف کا ایک نہایت متوازن اور مہذب طریقہ سکھایا ہے۔ قرآن مجید ہمیں حکم دیتا ہے: فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِیعنی جب کسی بات میں اختلاف ہو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو۔ اس اصول سے واضح ہوتا ہے کہ اختلاف کا آخری معیار ذاتی رائے نہیں بلکہ وحیِ الٰہی ہے۔نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کی زندگی میں ہمیں علمی اختلاف کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں، لیکن ان اختلافات کے باوجود دلوں میں محبت، احترام اور وحدت قائم رہتی تھی۔ فقہی مسائل میں ائمہ کرام کے درمیان اختلاف ہوا، مگر کسی نے دوسرے کو گمراہ یا دشمن نہیں سمجھا۔ یہی اسلامی منہج ہے کہ اختلاف رہے مگر اخلاق نہ ٹوٹے۔

اسلامی تعلیمات کے مطابق اختلاف کا پہلا اصول اخلاص ہے، یعنی نیت یہ ہو کہ حق واضح ہو، نہ کہ اپنی بات منوائی جائے۔ دوسرا اصول علم ہے، یعنی بغیر تحقیق اور دلیل کے رائے قائم نہ کی جائے۔ تیسرا اصول ادب ہے، یعنی اختلاف کے باوجود دوسرے کی عزت اور احترام کو برقرار رکھا جائے۔اختلاف کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ بات دلیل کے ساتھ کی جائے، آواز کو پست رکھا جائے، اور ذاتی حملوں سے اجتناب کیا جائے۔ قرآن مجید نے حتیٰ کہ فرعون جیسے شخص سے بھی نرم گفتگو کا حکم دیا،   سورہ اور آیت تو عام انسانوں کے درمیان سختی اور بدزبانی کیسے جائز ہو سکتی ہے؟

Advertisement
Advertisement

اختلاف اگر علم، تحقیق اور اخلاص کی بنیاد پر ہو تو یہ ترقی کا ذریعہ بنتا ہے۔ فقہی اختلافات نے امت کو مختلف حالات اور زمانوں کے مطابق حل فراہم کیے۔ یہی اختلاف علمی وسعت اور فکری گہرائی کا سبب بنتا ہے۔لیکن اگر اختلاف تعصب، ضد، انا اور جہالت پر مبنی ہو تو یہ امت کے لیے زہر قاتل بن جاتا ہے۔آج کے دور میں زیادہ تر مسائل علمی اختلاف سے نہیں بلکہ منفی رویوں سے پیدا ہو رہے ہیں۔ ایک ہی مسئلے پر مختلف رائیں ہونا مسئلہ نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اختلاف کو دشمنی بنا دیا ہے۔

درست طریقے سے سمجھا جائے تو اختلاف امت کے لیے خیر ہے، کیونکہ یہ فکری وسعت، اجتہاد اور تحقیق کو جنم دیتا ہے۔ اگر تمام لوگ ایک ہی رائے پر مجبور ہوں تو علمی ترقی رک جاتی ہے۔ اسی لیے فقہ اسلامی میں متعدد مکاتبِ فکر وجود میں آئے، جو دراصل امت کے لیے آسانی اور وسعت کا سبب ہیں۔

لیکن جب اختلاف کو ذاتی لڑائی، گروہ بندی اور نفرت میں بدل دیا جائے تو وہی اختلاف امت کے لیے سب سے بڑا فتنہ بن جاتا ہے۔ آج امت کا بڑا المیہ یہی ہے کہ علمی اختلاف کو برداشت نہیں کیا جاتا، اور چھوٹے چھوٹے مسائل پر بڑی بڑی تقسیمیں پیدا ہو جاتی ہیں۔

یہاں ایک نہایت اہم نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ “اختلاف” اور “خلاف” ایک چیز نہیں ہیں۔ اختلاف کا مطلب ہے رائے کا فرق جو دلیل اور احترام کے ساتھ ہو، جبکہ خلاف کا مطلب ہے دشمنی، ضد اور ٹکراؤ۔

اختلاف علم و فکر کا نام ہے، جبکہ خلاف نفرت اور فساد کا نام ہے۔ اختلاف امت کو وسعت دیتا ہے، جبکہ خلاف امت کو توڑ دیتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ آج ہم نے علمی اختلاف کو چھوڑ کر عملی طور پر “خلاف” کو اختیار کر لیا ہے، جس کا نتیجہ انتشار اور دوری کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اختلاف کو ختم کرنا ہمیشہ ممکن نہیں، لیکن اختلاف کے آداب کو زندہ رکھنا ہمیشہ ممکن ہے۔ اگر امت مسلمہ دوبارہ اس منہج کو اپنا لے جو قرآن و سنت اور سلف صالحین کا تھا، تو یہی اختلاف رحمت بن سکتا ہے، ورنہ یہی اختلاف زحمت اور فتنہ بن کر رہ جائے گا۔

خوارج نے حضرت علیؓ کی تکفیر کی اور ان کے خلاف تلوار اٹھائی۔ اس کے باوجود جب حضرت علیؓ سے ان کے بارے میں پوچھا گیا کہ "کیا یہ کافر ہیں؟” تو آپؓ نے فرمایا: "نہیں، یہ کفر سے تو بھاگے ہیں۔” پوچھا گیا: "کیا یہ منافق ہیں؟” فرمایا: "نہیں، منافق تو اللہ کو بہت کم یاد کرتے ہیں اور یہ لوگ تو دن رات ذکر و تلاوت کرتے ہیں۔” پھر فرمایا: "یہ ہمارے بھائی ہیں جنہوں نے ہمارے خلاف بغاوت کی ہے۔"

عبرت: اگر سیدنا علیؓ اپنے خلاف تلوار اٹھانے والوں کو "بھائی” کہہ سکتے ہیں، تو ہم محض ایک نظریاتی یا مسلکی اختلاف پر کسی کو اسلام سے خارج یا دشمن کیسے قرار دے سکتے ہیں؟

امام شافعیؒ اور ان کے شاگرد یونس بن عبد الاعلیٰ کے درمیان ایک علمی مسئلے پر بحث ہوئی۔ بحث اس قدر بڑھی کہ یونس بن عبد الاعلیٰ غصے میں آکر مجلس چھوڑ کر گھر چلے گئے۔

سمر کیمپ کیلئے رابطہ کریں
سمر کیمپ کیلئے رابطہ کریں

رات ہوئی تو یونس نے اپنے دروازے پر دستک سنی۔ پوچھا: "کون ہے؟” جواب ملا: "محمد بن ادریس” (امام شافعیؒ کا نام)۔ یونس کہتے ہیں کہ میں نے زندگی میں کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ خود میرے گھر تشریف لائیں گے۔ جب میں نے دروازہ کھولا تو امام شافعیؒ نے ایک ایسی بات کہی جو آج کے ہر مسلمان کے لیے مشعلِ راہ ہے:

"اے یونس! سیکڑوں مسائل ہمیں جوڑتے ہیں، کیا ایک مسئلہ ہمیں جدا کر دے گا؟"

پھر آپؒ نے فرمایا: "حق کا پیچھا کرو، لیکن جس سے تمہارا اختلاف ہے اسے اپنا دشمن مت سمجھو۔ تمہارا کام پل تعمیر کرنا ہے، دیواریں کھڑی کرنا نہیں۔”

عبرت: آج ہم ایک معمولی مسئلے پر سالوں کے تعلقات اور رشتہ داریاں توڑ دیتے ہیں۔ کیا ہمارے لیے امام شافعیؒ کا یہ طرزِ عمل کافی نہیں؟

امام احمد بن حنبلؒ، امام شافعیؒ کے شاگرد تھے، لیکن کئی مسائل میں ان کا اپنی استاد سے سخت علمی اختلاف تھا۔ اس کے باوجود امام احمد فرماتے تھے:

"میں نے چالیس سال سے اپنی کوئی ایسی نماز نہیں پڑھی جس میں امام شافعیؒ کے لیے دعا نہ کی ہو۔"

جب ان کے بیٹے نے پوچھا کہ ابا جان! شافعی کون تھے کہ آپ ان کے لیے اتنی دعا کرتے ہیں؟ تو امام احمدؒ نے فرمایا: "بیٹا! شافعی دنیا کے لیے سورج کی مانند اور بدن کے لیے عافیت کی مانند تھے۔"

عبرت: ذرا سوچیے! ایک طرف سخت علمی اختلاف ہے اور دوسری طرف رات کی تنہائیوں میں سجدوں کے اندر ان کے لیے دعائیں ہو رہی ہیں۔ آج ہم جس سے اختلاف کرتے ہیں، کیا اس کے لیے دعا کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں یا صرف اسے نیچا دکھانے کی فکر کرتے ہیں؟

Advertisement
Advertisement

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اختلاف کو برداشت کرنا سیکھیں، دلیل کو اپنائیں، اور اخلاق کو ہر حال میں مقدم رکھیں۔ کیونکہ امت صرف علم سے نہیں بلکہ حسنِ اخلاق اور وسعتِ ظرف سے مضبوط ہوتی ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ اختلافِ رائے کوئی برائی نہیں بلکہ علم کی وسعت اور فکر کی تازگی کی علامت ہے، بشرطیکہ اسے "خلاف” اور دشمنی میں نہ بدلا جائے۔ آج امتِ مسلمہ جس نازک دور سے گزر رہی ہے، اس میں ہمیں "جوڑنے” والی باتوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے نہ کہ "توڑنے” والی بحثوں پر۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا علمی اختلاف امت کے لیے زحمت کے بجائے رحمت بنے، تو ہمیں اپنے لہجوں میں وہی نرمی، دلوں میں وہی وسعت اور نیتوں میں وہی اخلاص پیدا کرنا ہوگا جو ہمارے اسلاف کا طرۂ امتیاز تھا۔ یاد رکھیے! امت صرف کتابوں کے مطالعے سے نہیں، بلکہ آپسی محبت، حسنِ اخلاق اور دوسروں کی رائے کو احترام دینے سے مضبوط ہوتی ہے۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اختلاف کے صحیح آداب کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ مولیٰ کریم ہمیں حق بات کو قبول کرنے کا حوصلہ، باہمی تعصب سے نجات اور امتِ محمدیہ ﷺ کے درمیان الفت و محبت پیدا کرنے کا ذریعہ بنائے۔

آمین یا رب العالمین!

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Trending News

مرکزالمعارف ممبئی میں اکیسواں جلسۂ تقسیمِ اسناد کا شاندار انعقاد

مرکزالمعارف ممبئی میں اکیسواں جلسۂ تقسیمِ اسناد کا شاندار انعقاد ای سی…

Eastern

ایران، عالمی مزاحمت اور مغربی بالادستی کا زوال

ایران، عالمی مزاحمت اور مغربی بالادستی کا زوال از: محمد برہان الدین…

Eastern

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل مسعود

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل…

Eastern

ٹریل بلیزر: فکر، ایمان و سائنس کا سنگم

ٹریل بلیزر: فکر، ایمان و سائنس کا سنگم از____ محمد توقیر رحمانی…

Eastern

ماہ ربیع الاول اور اسوۂ نبوی ﷺ کا تقاضا

ماہ ربیع الاول اور اسوۂ نبوی ﷺ کا تقاضا از____ محمد توقیر…

Eastern

انسان کی تخلیق محض وجود کیلئےنہیں ، خلافتِ ارضی کی عظیم ذمہ داری کیلئے ہے

انسان کی تخلیق محض وجود کیلئےنہیں ، خلافتِ ارضی کی عظیم ذمہ…

Eastern

Quick LInks

اختلاف ایک فکری حقیقت اورشرعی رہنمائی

اختلاف ایک فکری حقیقت اورشرعی رہنمائی از:  مولانا بدرالدین اجمل  القاسمی معروف…

Eastern

”اختلافِ رائے علم و تحقیق کے پوشیدہ گوشوں کو منکشف کرتی ہے“ (محمد برہان الدین قاسمی)

”اختلافِ رائے علم و تحقیق کے پوشیدہ گوشوں کو منکشف کرتی ہے“…

Eastern

مادیت کے عہد میں ایمان کی آزمائش

مادیت کے عہد میں ایمان کی آزمائش از: مولانا صادق ابو حسان…

Eastern