ٹرینڈنگ
دارالعلوم دیوبند میں رابطہ مدارس اسلامیہ کا کل ہند اجلاس، تعلیمی و انتظامی اصلاحات کے لیے اہم تجاویز منظورممبئی میں علماء کے لیے دو روزہ پیرا لیگل ٹریننگ ورکشاپ کا انعقادقوتِ گویائی ایک عظیم ترین نعمتآذربائیجان کے الہام علیوف اپنی ہی سیاسی قبر کھود رہے ہیںعربی زبان کے نامور ادیب اور کئی نسلوں کے استاذ مولانا سعید الاعظمی کی وفات کا سانحہعقابی  روح رکھنے والے ” قاری شبیر احمد صاحب” رخصت ہوئے ـالیکشن کمیشن کی غلطیوں کا خمیازہ عوام کیوں بھگتے؟خودکشی کا بڑھتا رجحان: اسباب، پس منظر اور تدارکدارالعلوم دیوبند میں رابطہ مدارس اسلامیہ کا کل ہند اجلاس، تعلیمی و انتظامی اصلاحات کے لیے اہم تجاویز منظورممبئی میں علماء کے لیے دو روزہ پیرا لیگل ٹریننگ ورکشاپ کا انعقادقوتِ گویائی ایک عظیم ترین نعمتآذربائیجان کے الہام علیوف اپنی ہی سیاسی قبر کھود رہے ہیںعربی زبان کے نامور ادیب اور کئی نسلوں کے استاذ مولانا سعید الاعظمی کی وفات کا سانحہعقابی  روح رکھنے والے ” قاری شبیر احمد صاحب” رخصت ہوئے ـالیکشن کمیشن کی غلطیوں کا خمیازہ عوام کیوں بھگتے؟خودکشی کا بڑھتا رجحان: اسباب، پس منظر اور تدارک

آج ممبئی کی طوفانی ہوا بائک ڈرائیونگ کے تناظرمیں 

0%
آج ممبئی کی طوفانی ہوا بائک ڈرائیونگ کے تناظرمیں 
آراء

آج ممبئی کی طوفانی ہوا بائک ڈرائیونگ کے تناظرمیں 

Eastern
1 min read8 views
Save this article for later

طوفانوں سے لڑنے میں مزا اور ہی کچھ ہے

ای  سی نیوز ڈیسک13 مئی 2024

طہ جون پور

      جب دن کے تقریباً ساڑھے چار بج رہے ہوں، مئی کا مہینہ ہو، اوپر سے سورج کی سوزش، نیچے سے زمین کی تپش، اپنا پورا اثر دکھا رہی ہو، گویا گرمی اپنے چَرَم پر ہو ،      ایسے میں کون یہ امید کرسکتا ہے         کہ آگے خوفناک اندھیروں کی کا ایک طوفان آرہا ہے.

     کرلا، ویسٹ میں، اپنی پھوپھی سے ملاقات کرکے جوں ہی لال بہادر شاستری روڈ پر آیا، تو آسمان میں دیکھا کہ کچھ موسم برسات جیسا ہے، لیکن تقریباً دو سو میٹر اور آگے برج کے پاس بڑھا،  تو دیکھا کہ یہاں طوفانی ہوا        اورگردو و غبار کا منظر ہے. چناں چہ لمحوں میں یہ طوفان آنکھ میں، اپنے اثرات دکھانے لگا اور گردو غبار میں ہر ایک کو لے لیا. بچے دل کے سچے تو، اس موقع پر، روڈ کے کنارے لطف اندوز ہورہے تھے، تو نوجوان منچلے، اس خوفناک منظر کو دجالی آنکھ میں کیمرے میں قید کرکے، اس منظر کو حیات جاودانی بخشنے کی کوشش میں لگے تھے.

مجھے یہاں سے اب بھی تقریباً 15 کیلو میٹر دور جانا تھا، جو کہ کچھ خاص نہیں تھا، لیکن آج تو کرکٹ کی اصطلاح میں اگر کہا جائے، تو بہت ہی احتیاط و صبر سے، لمبی پاری کھیلنی تھی. چناں چہ بائک کی رفتار کو یہیں سے سلو کردیا، اور دھیرے دھیرے آگے بڑھنے لگے. درمیان میں کئی ایک جگہ، گاؤں کے بھونڈر کا سابقہ پڑا، تیز رفتار ہوا، گولائی میں ناچتے ہوئے ٹکراتی، لیکن آہستہ آہستہ بڑھتا رہا.

لغزش نہیں آئے گی میرے عزم سفر میں،

پیروں پہ نہیں، اپنے ارادوں پہ کھڑا ہوں

سائن اسٹیشن کے پاس پہونچا، تو برادرم (مفتی) نفیس جون پوری کو فون کیا، اور کہا کہ دعا کریں، انھوں نے فورا کہا                         کہ: اللهم لا تقتلنا بغضبك و لا تهلكنا بعذابك. میں نے، اس پر آمین کہا اور پھر کہاکہ حسن اتفاق سائن اسٹیشن کے پاس پہونچا ہوں، کہنے لگے، موسم خراب ہے. یہیں رک جائیں، میں نے کہا، گاڑیاں چل رہی ہیں اور میں بھی اسی کا حصہ ہوں. آگے بڑھ کر جب ممبئی شہر کی طرف رخ کیا، تو بارش کی بوندا باندی شروع ہوچکی تھی، اور بڑھ ہی رہی تھی. موسم دیکھ یہ یقین ہوگیا تھا، کہ

اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا

اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا.

آج ممبئی کی طوفانی ہوا بائک ڈرائیونگ کے تناظرمیں 
ممبئی کی بارش میں بھی روڈ پر ٹریفک

   سب کچھ بھیگ جاتا، اس لیے کچھ کو بچانے کی فکر کی. برادرم مولانا رضوان اعظمی کا لیپ ٹاپ ایک بیماری کا شکار ہے، جو اس وقت ساتھ تھا.    اس لیپ ٹاپ پر جراح کی جراحی سے قبل، مزید بیماریوں کے خطرات منڈلانے لگے، کہ کہیں بارش کے دوچار قطرات، اپنا اثر نا دکھادیں. اس لیے سب سے پہلے، اس کو ایک پولی تھین میں رکھا. موبائل اور دیگر موم کی طرح نرم آلات کو، بائک کی ڈگی میں، ڈال دیا اور پھر نکل پڑا.

طوفانوں سے آنکھ ملاؤ، سیلابوں پر وار کرو،

ملاحوں کا چکر چھوڑو، تیر کے دریا پار کرو

بائک پر سوار ہوتے ہی سب سے پہلے، گاڑی کو بالکل سلو چلانے لگا، کیوں کہ چھوٹے پہیہ، کی گاڑی کے پھسلنے کا خطرہ زیادہ رہتا ہے، اس لیے بس چیونٹی کی رفتار چلنے لگا، لیکن یہ بات ذہن میں تھی، کہ اس موقع پر لوگ خوب پھسلتے ہیں، کیوں کہ عام رفتار چلاتے ہیں اور نتیجہ، منہ کے بَل زمین پر آجاتے ہیں.             اس طرح چلتا رہا، چند کیلو میٹر سفر ہوا، گاڑیاں چلتی رہیں، ویسے بھی ممبئی میں کب گاڑیاں رکتی ہیں، اچانک نظر پڑی کہ ایک صاحب، تقریباً پچاس میٹر کی دوری پر، بائک سے گر کر زمین پر گھسٹ رہے ہیں. میں قریب گیا. اپنی بائک کنارے لگایا اور  سپورٹ کیا. پیچھے سے آنے والی گاڑیوں کو، اشارہ کیا، کہ مزید کنارے ہوکر چلیں.

یہ سب چل ہی رہا تھا، کہ پیچھے بہ مشکل تیس میٹر کی دوری پر، ایک چچا، بائک سے گرگئے. ان کے قریب پہنچا، ان کی گاڑی اٹھوائی اور کہا: کہ سست رفتار چلائیں. کہنے لگے، میری تو سست ہی تھی، میں نے کہا: اور آہستہ آہستہ چلائیں.

خیر یہاں سے آگے بڑھا، بائیکہ بِرِج سے تھوڑا پہلے دیکھا کہ جانب مخالف میں لمبی ٹریفک ہے. سمجھ میں آگیا کہ کچھ ہوا ہے. تھوڑا اور آگے بڑھا، دیکھا، کہ یہاں دو لوگ الٹے پڑے تھے، لوگ ان کا سامان اٹھارہ تھے. میں آگے نکل گیا اور چند منٹ بعد اپنی منزل پہ آگیا.

ساحل کے سکوں سے کسے انکار ہے لیکن

طوفان سے لڑنے میں مزا اور ہی کچھ ہے.

Eastern

Eastern

Staff writer at Eastern Crescent Urdu.

View all posts →

Comments (0)

Leave a Comment

اوپر تک سکرول کریں۔