مسلمان نوجوانوں کی خدمت میں تین اہم گزارشات
محمد برہان الدین قاسمی
ایڈیٹر ایسٹرن کریسنٹ، ممبئی
پہلی بات یہ ہے کہ مسلمان نوجوان کے لیے پست ہمت ہونا مناسب نہیں۔ اسے چاہیے کہ اپنی بات دلائل، حکمت اور اچھے انداز میں پیش کرے، مگر نرمی، وقار اور شائستگی کے ساتھ۔ غیر ضروری جوش، جذباتی نعروں اور لفاظی سے گریز کرے۔ یہ بھی یاد رکھے کہ جس چیز کو آپ اپنی کامیابی سمجھ رہے ہیں، ممکن ہے وہ کسی دوسرے کے لیے باعثِ ناگواری یا تکلیف ہو۔ ایسے لوگ آپ کی کسی لغزش یا غلطی کے انتظار میں ہو تے ہیں، اس لیے اپنے طرزِ عمل سے کسی کو غیر ضروری موقع نہ دیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ ملک کے حالات پہلے جیسے نہیں رہے، اور بہت سے نوجوان مختلف سطحوں پر غیر معمولی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ بظاہر آپ کتنے ہی باصلاحیت، مضبوط یا کامیاب کیوں نہ ہوں، بعض اوقات دوسروں کے مقابلے میں آپ کو زیادہ آزمائشوں سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔ اس حقیقت کو سمجھے بغیر صرف دوڑتے رہنا انسان کو تنہا کر دیتا ہے، اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ اپنی ناکامیوں یا مشکلات کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرانے لگتا ہے کہ کسی نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔

اس لیے دانش مندی اسی میں ہے کہ حالات کو حقیقت پسندانہ انداز میں سمجھا جائے، احتیاط اور حکمت کے ساتھ کام کیا جائے، اور ایسے مواقع پیدا نہ ہونے دیے جائیں جو مشکلات میں اضافہ کریں۔ اور اگر اس کے باوجود آزمائشیں آجائیں تو صبر، استقامت اور حوصلے کے ساتھ ان کا سامنا کیا جائے، کیونکہ صحیح سمت میں مسلسل محنت، قربانی اور ثابت قدمی کے بغیر کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔
اور ایک تیسری بات یہ کہ کسی بھی ناکامی کے لیے ہمیشہ کسی اور کو ذمہ دار ٹھہرانے کی عادت نہ بنائیں۔ یہ دیکھنے کی کوشش کریں کہ اس معاملہ میں آپ نے خود کیا کیا، کیا کرسکتے تھے اور آئندہ کیا کرنے والے ہیں۔
بہادر قومیں اپنے زخموں کو بار بار نہیں کریدتیں، نہ ہر وقت روتی اور شکوے کرتی رہتی ہیں، بلکہ اپنی کمزوریوں کو سمجھ کر اپنی طاقت، صلاحیت اور تیاری میں اضافہ کرنے کی فکر کرتی ہیں۔ وہ ماضی سے سبق لیتی ہیں لیکن ماضی میں جینا شروع نہیں کردیتیں۔
یہ بزدلوں کا شیوہ ہے کہ ہر ناکامی کا الزام دوسروں پر ڈال کر خود کو بری الذمہ سمجھ لیں۔ اس سے نہ حالات بدلتے ہیں اور نہ مستقبل بنتا ہے۔ حالات اس وقت بدلتے ہیں جب آدمی اپنی ذمہ داری کو سمجھے، اپنی غلطیوں کا جائزہ لے اور آگے بڑھنے کی تیاری کرے۔
