"خان سر” مسلمان ہیں–خان سر مسلمان نہیں ہیں!
مدثر احمد قاسمی
اسسٹنٹ ایڈیٹر ایسٹرن کریسنٹ، ممبئی
یہ ہمارے عہد کا ایک عجیب اور افسوسناک المیہ ہے کہ کسی فرد کی صلاحیت، خدمات اور کامیابیوں کو پسِ پشت ڈال کر اس کی شناخت کو موضوعِ بحث بنا دیا جاتا ہے۔ آج کل معروف ماہرِ تعلیم "خان سر” کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ پیش آرہا ہے۔ ایک ایسی شخصیت جس نے لاکھوں نوجوانوں، بالخصوص غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ کے لیے تعلیم کو آسان، سستا اور عام فہم بنایا، ان کی تعلیمی خدمات اور حصولیابیوں پر گفتگو کرنے کے بجائے ان کے مذہب اور اصل نام کو موضوع بنایا جارہا ہے۔
ان کے شاگردوں میں ہر مذہب، ذات اور طبقے کے لوگ شامل ہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان سے فائدہ اٹھانے والوں میں غیر مسلم طلبہ کی تعداد مسلمانوں سے کہیں زیادہ رہی ہے۔ لیکن افسوس کہ آج بعض حلقے، خصوصاً سنگھی ذہنیت رکھنے والے بعض میڈیا ہاؤسز، ان کی شخصیت کو "فیصل خان” کے نام سے متعارف کرا کے ایک نئی بحث چھیڑنے کی کوشش کررہے ہیں

دوسری جانب مسلمانوں کے اندر بھی ایک طبقہ ایسا موجود ہے جو ان کے ماضی کے بعض اعمال یا بیانات کی بنیاد پر انہیں صحیح مسلمان تسلیم کرنے میں تردد کا شکار ہے۔ حالانکہ اسلامی تعلیمات اس معاملے میں نہایت واضح ہیں۔ اسلام کسی انسان کے ماضی کو اس کے مستقبل پر ہمیشہ کے لیے مسلط نہیں کرتا۔ توبہ کا دروازہ زندگی کی آخری سانس تک کھلا رہتا ہے اور بندوں کے دلوں کا حال صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ حال ہی میں خان سر نے اعلانیہ نکاح کے ذریعے ازدواجی زندگی کا آغاز کیا ہے، جو ایک مثبت اور شرعی قدم ہے۔
اس وقت قوم و ملت کی بھلائی اسی میں ہے کہ خان سر کو دونوں طرف سے عزت و احترام ملے اور ان کے مشکلات کو حل کرنے کی مثبت کوشش کی جائے!
