
ہواہےگوتیزوتندلیکن چراغ اپناجلارہاہے
ہواہےگوتیزوتندلیکن چراغ اپناجلارہاہے
( آسام کے سیلاب متأثرین اور مظلوم طبقات کیلئے مولانابدرالدین اجمل قاسمی کی بےلوث خدمات کے تناظر میں )
بہ قلم : مفتی محمدساجدکُھجناوری
استاذ جامعہ اشرف العلوم رشیدی گنگوہ
اس سینۂ گیتی پر روشن سب طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں وہ نفوس بھی ہیں جو صرف اپنے لئے جیتے اور مرتے ہیں دوسروں کے دکھ درد اور غم حیات سے انھیں واسطہ نہ مطلب وہ تو بس اپنی دنیا بنانے یا ذاتی موج مستی کو معراج زندگی سمجھ کر نفع رسانی کے مطلوب انسانی جذبہ سے بھی کوسوں دور ہیں ، ظاہر ہے کہ اس قماش کے افراد کوسماجی احساسات اور اجتماعی تقاضوں کا نہ شعور ہوتااور ناہی وہ انسانیت کو دھرم کے مساوی یا اس سے بڑھ کر دیکھنے کاحوصلہ رکھتے ہیں ،
لیکن یہاں کی مٹی بہت زرخیز اور شاداب ہے اس کے سینہ پہ وہ قیادت بھی براجمان ہے جس کا کردار وعمل بتاتا ہے کہ درد دل کے واسطے ہی انسان پیدا ہوتے ہیں ، جس کی لغت میں ساری مخلوق ایک اللہ کا کنبہ ہونے کی حیثیت رکھتی ہے اور وہ بلا امتیاز مذہب و ملت انسانوں کی خدمت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بناکر نفع رسانی کا ریکارڈ قائم کرتے ہیں ۔
ایسے خوش نصیب خدام ملک وملت کی اگر کوئی محدود فہرست بھی مرتب کی جائے تو ریاست آسام کے معروف عالم دین اور قائدجمعیت ،اے آئی یوڈی ایف کے سربراہ مولانابدرالدین اجمل قاسمی کا نام بلاخوف تردید اس میں شامل رہے گا۔
مولاناکا نام سب سے پہلے اس وقت پردۂ سماعت سے ٹکرایاجب یہ ناچیز دارالعلوم دیوبند میں تجویدوقرأت اور پھر درس نظامی کا طالب علم تھا ،مولانا اجمل صاحب آج کی طرح سن 1999/میں بھی وہاں کی مجلس شوری کے رکن رکین تھےاور ضرورت مند طلبہ کی فریاد رسی ، عطیات کی فراہمی ، علمی منصوبوں کی انجام پذیری جیسے ابواب خیر میں ان کی کشادہ دستی طلبہ واساتذہ کے مابین مانوس تھی ، بعض ناحیوں سے ہمیں اس کا پتہ بھی تھا ، چنانچہ یادآیاہمارا پنجابی ساتھی ایک ایسے عارضہ کاشکار ہوا جس سے نکلنے کیلئے اس زمانہ میں بھی لاکھوں روپئے کی ضرورت تھی ، حضرۃ الاستاذ مولاناسیدارشدمدنی ناظم تعلیمات تھے ، آپ کی ہدایت پر وہ طالب علم مولانابدرالدین اجمل صاحب سے ملا تو ان کا ردعمل مثبت تھا جس کے بعد روبصحت ہوکروہ اپنا تعلیمی سلسلہ بھی جاری رکھ سکا اور فاضل دارالعلوم ہوا۔

حسن اتفاق دیکھئے مولاناکےنام اور کام سے مزید دلچسپی اس وقت بڑھی جب ان کے صاحبزادگان مولاناعبدالرحمان اور مولاناعبدالرحیم صاحبان سے فضیلت کے سال درسی رفاقت سے بڑھ کر ایک علمی پروجیکٹ میں مشاورت کاسابقہ پڑا مجھے دور سے سہی دونوں بھائی بہت مہذب سنجیدہ اور ذہین محسوس ہوئے بھائی عبدالرحمان اجمل نسبتازیادہ فعال اور خلیق لگتے ہیں ، اپنے والدبزرگوار کے ردیف بن کراپنےصوبہ کی ساؤتھ شلمارا دھوبڑی سیٹ کے دوبار ایم ایل اے رہ چکے ہیں ۔
جون دوہزار اٹھارہ میں پہلی دفعہ اپنے بہی خواہ وتلامذہ شیخ عبدالستارایڈوکیٹ ہائی کورٹ مولوی قمرالزماں اور مولوی غلام نبی کی تحریک پرآسام جانے اور وہاں کے بعض اضلاع گوہاٹی ، کامروپ ، نلباری اور ہوجائی وغیرہ میں قائم تعلیمی اداروں کو دیکھنے کا موقعہ ملا اور مختلف شعبوں سے وابستہ شخصیات سے ملاقاتیں ہوئیں تو یہ دیکھ اور معلوم کرکے مسرت ہوئی کہ حضرت مولانابدرالدین اجمل نے تعلیم گاہوں کے قیام سے لےکر ایوان سیاست تک مظلوم طبقات خصوصا مسلمانوں کیلئے اپنے تن من دھن تک کو قربان کیا ہے ، ملک بھر کے بڑے تجار میں ان کا نام آتا ہے وہ اگر چاہتے تو ریاست آسام کے حساس اور نازک قومی سیاسی اور ملی مسائل سے دست کش ہوکر شاہی زندگی گزارسکتے تھے مگر انھیں اپنی ریاست اور وہاں کے مکینوں سے اتنا پیار ہے کہ ضرورت کے ہر موقعہ پر وہ اپنوں کے درمیان رہنے اور ان کے غم کا مداوا کرنے کو خدمت اور عبادت سمجھتے ہیں۔
سرحدی ریاست ہونے کے باعث آسام کے مسائل کم نہیں ہیں ، این آرسی اور شہریت ثابت کرنے جیسے عنوانات ہی آسامیوں کیلئے خاصے اعصاب شکن ہیں جس کے بہانے متعصب حکومتیں اپنے ہی شہریوں کے ساتھ سوتیلا سلوک روا رکھنے کو کارثواب سمجھتی ہے ایسے میں جمعیۃ علماءہند اور مولانا اجمل کا پشتیبان بننا خدمت سے بڑھ کر عبادت ہی شمار ہوگی ۔

ابھی حال ہی میں بالائی آسام کے اندر سیلاب نے جو تباہی مچائی ہے اس میں بھی حسب توقع مولانا اجمل صاحب مسیحا بن کر نمودار ہوئے ہیں جنھوں نے اس قومی آفت سے ہوئی تباہی سے جانبر ہونے کیلئے سو کروڑ روپئے کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے ، محب گرامی مولاناعبدالرحمان اجمل کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق دو کروڑ روپئے تو نقد کی شکل میں ذاتی طور سے مولانابدرالدین اجمل بلاتفریق مذہب وملت سیلاب زدگان کو تقسیم کرچکے ہیں ،میڈیارپورٹس کے مطابق مولانا اجمل صاحب نے سیلاب زدگان کیلئے جو ماسٹرپلان تیار کیاہے اس میں مکانات کی تعمیرنو،بیت الخلاء اور صفائی کا اہتمام ، خواتین کیلئے روایتی لباس ، مفت طبی کیمپس کا قیام ، غذائی اجناس اور تعلیمی امداد جیسے اہم منصوبے شامل ہیں ، اللہ تعالی مولانا اجمل صاحب کو صحت وعافیت کے ساتھ یونہی بافیض بنائے رکھے اور ان کا اقبال بلند سے بلندتر ہوتا رہے۔
You May Also Like
تہذیب وثقافتتحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باب
تحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باب بقلم: مولانا محمد برہان...
تہذیب وثقافت"آزادی کا سفر: قربانی، جدوجہد اور ہمارا فریضہ"
یومِ آزادی (15 اگست) کے موقع پر ایک تاریخی تقریر عنوان: "آزادی کا سفر:...
تہذیب وثقافتمادیت کے عہد میں ایمان کی آزمائش
مادیت کے عہد میں ایمان کی آزمائش از: مولانا صادق ابو حسان پوترک فلاحی...
تعلیمموبائل کی کشش اور تربیت کی ذمہ داری
موبائل کی کشش اور تربیت کی ذمہ داری از: محمد توقیر رحمانی لیکچرر: مرکز...
اسکولبچے اپنے والدین کے کردار کا عکس ہیں، والدین ہی ان کے خاموش مگر حقیقی معلم و مربی ہیں
بچے اپنے والدین کے کردار کا عکس ہیں، والدین ہی ان کے خاموش مگر...
تہذیب وثقافتعصرحاضر کے 'مقدس سراب' اور بندگی کی گمشدہ شاہراہ
عصرحاضر کے 'مقدس سراب' اور بندگی کی گمشدہ شاہراہ از: مولانا صادق ابوحسان پوترک...

Comments (0)
Leave a Comment