ٹرینڈنگ
شیخ محمد یحییٰ باسکندی کی مرکز المعارف، ممبئی آمد؛ طلبہ سے خطاب، تعلیم، تزکیہ اور تعلق مع اللہ کی اہمیت پر زورکیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!تحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باباسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانیملی اداروں کا مستقبل اور نوکِ قلم پر لٹکتی تلوار: ایف سی آر اے (FCRA) ترمیمی بل 2026 کا ایک تجزیہہواہےگوتیزوتندلیکن چراغ اپناجلارہاہےعالمی مذاہب میں حیات بعد الممات کا تصور: ایک تقابلی جائزہجولائی ۲۰۲۶: وہ مہینہ جب ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کے زوال سے انکار ناممکن ہو گیاشیخ محمد یحییٰ باسکندی کی مرکز المعارف، ممبئی آمد؛ طلبہ سے خطاب، تعلیم، تزکیہ اور تعلق مع اللہ کی اہمیت پر زورکیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!تحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باباسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانیملی اداروں کا مستقبل اور نوکِ قلم پر لٹکتی تلوار: ایف سی آر اے (FCRA) ترمیمی بل 2026 کا ایک تجزیہہواہےگوتیزوتندلیکن چراغ اپناجلارہاہےعالمی مذاہب میں حیات بعد الممات کا تصور: ایک تقابلی جائزہجولائی ۲۰۲۶: وہ مہینہ جب ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کے زوال سے انکار ناممکن ہو گیا

شیخ محمد یحییٰ باسکندی کی مرکز المعارف، ممبئی آمد؛ طلبہ سے خطاب، تعلیم، تزکیہ اور تعلق مع اللہ کی اہمیت پر زور

0%
شیخ محمد یحییٰ باسکندی کی مرکز المعارف، ممبئی آمد؛ طلبہ سے خطاب، تعلیم، تزکیہ اور تعلق مع اللہ کی اہمیت پر زور
تہذیب وثقافت

شیخ محمد یحییٰ باسکندی کی مرکز المعارف، ممبئی آمد؛ طلبہ سے خطاب، تعلیم، تزکیہ اور تعلق مع اللہ کی اہمیت پر زور

Eastern
1 min read137 views
Save this article for later

شیخ محمد یحییٰ باسکندی کی مرکز المعارف، ممبئی آمد؛ طلبہ سے خطاب، تعلیم، تزکیہ اور تعلق مع اللہ کی اہمیت پر زور

ممبئی، 31 اگست 2026:
(محمد توقیر رحمانی)سرزمینِ آسام کی بزرگ اور معروف علمی و روحانی شخصیت حضرت شیخ محمد یحییٰ صاحب، امیر شریعت امارت شرعیہ آسام  و شیخ الحدیث دارالعلوم بانسکدی کی گزشتہ روز 30 اگست کو مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سنٹر، ممبئی تشریف  آوری ہوئی۔  جہاں انہوں نے مغرب و عشاء کی نماز کے بعد طلبہ سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے تعلیم کے حقیقی مقصد، عبادتِ الٰہی، توکل، تزکیۂ نفس، تصوف اور تعلق مع اللہ کی اہمیت پر نہایت مؤثر اور فکر انگیز گفتگو فرمائی۔

مولانا محمد یحییٰ جو شیخ احمد علی باسکندی (رح) کے صاحب زادہ ہیں، نے گفتگو کا آغاز کلمۂ طیبہ کے دونوں اجزاء کی باہمی تکمیل کی مثال دیتے ہوئے انسانی زندگی میں مختلف پہلوؤں کے باہمی توازن کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح کلمہ اپنے دونوں اجزاء کے مجموعے سے مکمل ہوتا ہے، اسی طرح زندگی کے مختلف تقاضے بھی باہم مربوط ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات واحد ہے اور انسان کا سر بھی ایک ہے، جبکہ انسانی زندگی میں دنیاوی ضروریات کے ساتھ روحانی تقاضوں کی تکمیل کے لئے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے انسان کو آنکھ، کان، ہاتھ،  پیر و  دیگر اعضاءکے بھی کلمہ کی طرح ہی جوڑےعنایت کی تاکہ انسان بحسن و خوبی اللہ کو پہچان کر دنیاوی تقاضوں کو پورا کر ے اور پھر شریعت کے ذریعہ معرفت کی منزلیں طئے کر ے۔

شیخ محمد یحییٰ باسکندی کی مرکز المعارف، ممبئی آمد؛ طلبہ سے خطاب، تعلیم، تزکیہ اور تعلق مع اللہ کی اہمیت پر زور
شیخ محمد یحییٰ باسکندی 30 اگست 2026 کو بعد نماز مغرب مرکز المعارف، ممبئی میں طلباء و اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء کے ساتھ رسول اکرم ﷺ کے اسمِ مبارک اور آپ ﷺ کی سیرت و تعلیمات سے بھی واقفیت اور تعلق ہونا چاہیے۔ طلبہ کو متوجہ کرتے ہوئے انہوں نے تعلیم کے مقصد پر سوال اٹھایا اور حدیثِ نبوی ﷺ «إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر عمل کی قدر و قبولیت میں نیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے طالب علم کو اپنے مقصدِ تعلیم پر مسلسل غور کرتے رہنا چاہیے۔

مولانا نے واضح کیا کہ شریعت کا علم محض معلومات حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ معرفتِ الٰہی کے لیے ہے۔ علم انسان کے اندر اللہ تعالیٰ کی پہچان، خشیت، اخلاص اور عملی زندگی میں دین کی پاسداری پیدا کرے، یہی تعلیم کی حقیقی روح ہے۔

انہوں نے بزرگانِ دین کے طرزِ عمل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کے اکابر اپنے طلبہ کی علمی فراغت کے بعد انہیں صرف معاشی دوڑ میں لگانے کے بجائے دینی خدمت، اصلاح اور دعوت کے لیے تیار کرتے تھے۔ طلبہ کو یہ احساس دلایا جاتا تھا کہ علم حاصل کرنے کا مقصد صرف ذریعۂ معاش پیدا کرنا نہیں بلکہ دین کی خدمت اور اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی کے تقاضوں کو پورا کرنا بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاش کے حصول پر پوری توجہ مرکوز کرنے کے بجائے مقصدِ زندگی، یعنی عبادتِ الٰہی، کو بھی زندگی کا مرکزی حصہ بنانا چاہیے۔ انسانی زندگی کے یہ دونوں پہلو اپنی اپنی جگہ ضروری ہیں اور کسی ایک پہلو سے غفلت زندگی کے توازن کو متاثر کرتی ہے۔

پروگرام کے دوران حضرت شیخ کی لی گئی تصویر
پروگرام کے دوران حضرت شیخ کی لی گئی تصویر

خطاب کے دوران مولانا محمد یحییٰ باسکندی نے توکل علی اللہ کی خصوصی تلقین فرمائی اور قرآن کریم کی آیت«وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ»پیش کرتے ہوئے طلبہ کو اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور بھروسہ رکھنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر انسان اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسبِ فیض کا راستہ اختیار کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے کسبِ معاش کے راستے بھی پیدا فرماتا ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ انسان کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ مضبوط ہو۔ اسی ضمن میں انہوں نے کہا کہ اگر دل میں خوفِ خدا پیدا ہوجائے تو دنیا کا خوف باقی نہیں رہتا۔ جس طرح دنیاوی معاملات میں لوگ اپنے افسران اور ذمہ دار افراد سے تعلق قائم رکھتے ہیں اور اپنے کاموں میں ان سے رابطہ رکھتے ہیں، اسی طرح ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط ہونا چاہیے۔ زندگی کے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کی نگرانی، قدرت اور مدد کا احساس موجود رہنا چاہیے۔

مولانا نے موجودہ دینی تعلیمی نظام کے ایک اہم پہلو کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ دارالعلوم دیوبند اور علماء امت کے رہنما ہیں، لیکن محض تعلیم کافی نہیں؛ رہنمائی، تربیت اور تزکیۂ نفس بھی ضروری ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بعض اوقات تعلیم پر تو بھرپور توجہ دی جاتی ہے، لیکن تربیت و تزکیہ اور تعلق مع اللہ کے پہلو سے غفلت ہوجاتی ہے، جس کے نتیجے میں حسد، بغض اور جماعت بندی جیسی خرابیاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو متوجہ کیا کہ علم کے ساتھ دل کی اصلاح اور اخلاق و کردار کی تعمیر بھی ضروری ہے، تاکہ علمی فراغت کے بعد معاشرے کے لیے حقیقی رہنما اور خادمِ دین بن سکیں۔

مولانا نے طلبہ کو خود احتسابی کی دعوت دیتے ہوئے سوال کیا: ہمارا معاشرہ ہم سے کیا چاہتا ہے؟ ہمارے والدین نے ہمیں تعلیم دلا کر ہم سے کیا توقعات وابستہ کی ہیں؟
انہوں نے طلبہ کو باور کرایا کہ تعلیمی سفر صرف ذاتی کامیابی یا معاشی استحکام کے حصول کا ذریعہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ والدین کی امیدوں، معاشرے کی ضروریات اور دین کی خدمت کے تقاضوں کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔

Advertisement
Advertisement

مولانا محمد یحییٰ باسکندی نے طلبہ کو دورانِ تعلیم، خصوصاً کلاس میں، باوضو رہنے کی تاکید فرمائی۔ انہوں نے وضو کی روحانی برکت اور علم کے ساتھ اس کے تعلق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وضو انسان کے لیے ایک روحانی رابطے اور خیر و برکت کا ذریعہ بنتا ہے۔ انہوں نے وضو کو ایک طرح کے ’’نیٹ ورک‘‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ جس طرح کسی نظام کے مؤثر رہنے کے لیے رابطہ ضروری ہوتا ہے، اسی طرح علم کے نور اور برکت کے لیے بھی روحانی تعلق کی حفاظت ضروری ہے۔

انہوں نے ایک بامعنی مثال دیتے ہوئے طلبہ سے پوچھا کہ اگر گاڑی پنکچر ہوجائے تو فوراً اس کے انتظام کی فکر کی جاتی ہے، لیکن اگر انسان کی اپنی زندگی کی گاڑی پنکچر ہوجائے تو اس کی اصلاح اور درستگی کا کیا انتظام ہے؟ انہوں نے وضو اور اس کے متبادل ذرائع کی طرف توجہ دلاتے ہوئے طلبہ کو پاکیزگی اور طہارت کی اہمیت کا احساس دلایا۔

عشاء کی نماز کے بعد بھی مولانا نے طلبہ سے خطاب جاری رکھا اور بالخصوص تصوف، تزکیۂ نفس اور باطن کی اصلاح کی اہمیت پر گفتگو فرمائی۔ انہوں نے واضح کیا کہ تصوف کا اصل مقصد انسان کے باطن کی اصلاح، اخلاق کی تطہیر اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنا ہے۔ علمی قابلیت کے ساتھ روحانی تربیت بھی ضروری ہے، تاکہ علم کردار اور عمل میں جلوہ گر ہوسکے۔

Advertisement
Advertisement

خطاب کے اختتام پر مولانا محمد یحییٰ باسکندی نے طلبہ اور ادارے کے لیے دعا فرمائی۔ ان کی دعا کے ساتھ مجلس اختتام پذیر ہوئی۔ طلبہ نے نہایت توجہ اور انہماک کے ساتھ ان کی گفتگو سماعت کی اور ان کی نصیحتوں سے استفادہ کیا۔ مولانا محمد یحییٰ باسکندی کا یہ خطاب طلبہ کے لیے علم کے ساتھ عمل، تعلیم کے ساتھ تربیت، معاش کے ساتھ مقصدِ زندگی، اور ظاہری ترقی کے ساتھ تعلق مع اللہ کی اہمیت کو اجاگر کرنے والا ایک مؤثر اور فکر انگیز پیغام ثابت ہوا۔ اخیر میں مرکزالمعارف کے ڈائریکٹر مولانا محمد برہان الدین قاسمی نے طلباء اور ادارے کی طرف سے ان کا شکریہ ادا کیا اور ادارے کی فلاح وبہبود کیلئے دعاء کی درخواست کی اور ان کی باتوں پر طلباء و اساتذہ کی طرف سے عمل کا یقین دلایا۔

Eastern

Eastern

Staff writer at Eastern Crescent Urdu.

View all posts →

Comments (0)

Leave a Comment

اوپر تک سکرول کریں۔