ٹرینڈنگ
سچ اور جھوٹ میں "سچ” ننگا اور کڑوا کیوں ہوتا ہے؟مقبوضہ فلسطین کے عربوں اور ہندوستانی مسلمانوں کی سیاست کا قیاس نامعقول ہےUCC: مسلم پرسنل لا بورڈ نے مہاراشٹر حکومت کے سوالات کے جوابات کے لیے QR کوڈ جاری کیادارالعلوم دیوبند میں رابطہ مدارس اسلامیہ کا کل ہند اجلاس، تعلیمی و انتظامی اصلاحات کے لیے اہم تجاویز منظورممبئی میں علماء کے لیے دو روزہ پیرا لیگل ٹریننگ ورکشاپ کا انعقادقوتِ گویائی ایک عظیم ترین نعمتآذربائیجان کے الہام علیوف اپنی ہی سیاسی قبر کھود رہے ہیںعربی زبان کے نامور ادیب اور کئی نسلوں کے استاذ مولانا سعید الاعظمی کی وفات کا سانحہسچ اور جھوٹ میں "سچ” ننگا اور کڑوا کیوں ہوتا ہے؟مقبوضہ فلسطین کے عربوں اور ہندوستانی مسلمانوں کی سیاست کا قیاس نامعقول ہےUCC: مسلم پرسنل لا بورڈ نے مہاراشٹر حکومت کے سوالات کے جوابات کے لیے QR کوڈ جاری کیادارالعلوم دیوبند میں رابطہ مدارس اسلامیہ کا کل ہند اجلاس، تعلیمی و انتظامی اصلاحات کے لیے اہم تجاویز منظورممبئی میں علماء کے لیے دو روزہ پیرا لیگل ٹریننگ ورکشاپ کا انعقادقوتِ گویائی ایک عظیم ترین نعمتآذربائیجان کے الہام علیوف اپنی ہی سیاسی قبر کھود رہے ہیںعربی زبان کے نامور ادیب اور کئی نسلوں کے استاذ مولانا سعید الاعظمی کی وفات کا سانحہ

اگر اب بھی نہ جاگے تو۔۔۔۔۔۔۔بہار کے مسلمانوں کے لیے ایک فکری پیغام

0%
اگر اب بھی نہ جاگے تو۔۔۔۔۔۔۔بہار کے مسلمانوں کے لیے ایک فکری پیغام
صوبائی سیاست

اگر اب بھی نہ جاگے تو۔۔۔۔۔۔۔بہار کے مسلمانوں کے لیے ایک فکری پیغام

Eastern
1 min read4 views
Save this article for later

اگر اب بھی نہ جاگے تو۔۔۔۔۔۔۔بہار کے مسلمانوں کے لیے ایک فکری پیغام

ازـــــــ مدثر احمد قاسمی

جمہوری نظام میں کسی بھی طبقے کی حیثیت اُس وقت مضبوط اور مؤثر بنتی ہے جب وہ اپنی آبادی کے تناسب سے نمائندگی حاصل کرے۔ افسوس کہ بہار جیسے باشعور صوبے میں مسلمانوں کی نمائندگی اُن کی آبادی کے لحاظ سے اسمبلی میں کبھی بھی نہیں رہی۔ یہ ایک المیہ ہے جس کی جڑیں نہ صرف سیاسی ناانصافی میں ہیں بلکہ ہمارے اپنے اندر پائی جانے والی غفلت، بیزاری اور نادانی میں بھی ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی قوم اپنے اجتماعی مفاد سے بے پروا ہو جاتی ہے، تو دوسروں کے فیصلے اُس کی تقدیر لکھنے لگتے ہیں۔ بہار اسمبلی میں مسلمانوں کی تعداد ایک طویل عرصے سے کم ہوتی جا رہی ہے، جب کہ ان کی آبادی صوبے کی کل آبادی کا تقریباً 18 فیصد ہے۔ اگر انصاف کی بنیاد پر دیکھیں تو 243 نشستوں والی اسمبلی میں مسلمانوں کا حصہ کم از کم 44 سیٹوں پر ہونا چاہیے۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ ہے۔

یہ محرومی صرف نمائندگی کی نہیں، بلکہ آواز دبنے، مسائل نظرانداز ہونے اور پالیسی سازی سے دور رہ جانے کی بھی ہے۔ جب تک ہماری نمائندگی نہیں بڑھے گی، تب تک ہماری سماجی و تعلیمی پسماندگی، روزگار کی قلت، اور سیکورٹی کے مسائل جوں کے توں رہیں گے۔ نمائندگی کا مطلب صرف کرسی حاصل کرنا نہیں، بلکہ اپنی قوم کے مفادات کا تحفظ کرنا، انصاف کے لیے آواز اٹھانا، اور عوامی فیصلوں میں مؤثر کردار ادا کرنا ہے۔

Advertisement
Advertisement

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ووٹ صرف ایک پرچی نہیں، بلکہ ایک امانت ہے۔ اگر ہم جذباتی نعروں، وقتی فائدوں یا ذات برادری کی بنیاد پر ووٹ دیتے رہے، تو نقصان ہمیشہ ہمارا ہی ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان متحد ہو کر، ہوش مندی کے ساتھ اپنے ووٹ کا استعمال کریں اور اپنی سیاسی حصے داری کو یقینی بنائیں۔

یہ وقت ہے کہ ہم شکایتوں کے بجائے شعور کی راہ اپنائیں۔ اپنی نمائندگی کے لیے اٹھیں، اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں، اور جمہوری میدان میں اپنی موجودگی کو محسوس کرائیں۔ کیونکہ جب مسلمان نمائندگی کے ساتھ ایک منظم پریشر گروپ کے طور پر ابھریں گے، تب ہی ان کے مسائل کی گونج ایوانوں میں سنی جائے گی، اور تب ہی بہار کی سیاست میں انصاف، توازن اور حقیقی جمہوریت کی روح قائم ہوگی۔

"وقت کا تقاضا ہے کہ مسلمان خوابِ غفلت سے جاگیں، اور اپنی نمائندگی کو اپنی بقا کا مسئلہ سمجھ کر میدان میں آئیں۔”

Eastern

Eastern

Staff writer at Eastern Crescent Urdu.

View all posts →

Comments (0)

Leave a Comment

اوپر تک سکرول کریں۔