ٹرینڈنگ
مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ-اسرائیل اتحاد کو ایک اور بڑا دھچکامرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقادشیخ محمد یحییٰ باسکندی کی مرکز المعارف، ممبئی آمد؛ طلبہ سے خطاب، تعلیم، تزکیہ اور تعلق مع اللہ کی اہمیت پر زورکیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!تحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باباسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانیملی اداروں کا مستقبل اور نوکِ قلم پر لٹکتی تلوار: ایف سی آر اے (FCRA) ترمیمی بل 2026 کا ایک تجزیہہواہےگوتیزوتندلیکن چراغ اپناجلارہاہےمشرقِ وسطیٰ میں امریکہ-اسرائیل اتحاد کو ایک اور بڑا دھچکامرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقادشیخ محمد یحییٰ باسکندی کی مرکز المعارف، ممبئی آمد؛ طلبہ سے خطاب، تعلیم، تزکیہ اور تعلق مع اللہ کی اہمیت پر زورکیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!تحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باباسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانیملی اداروں کا مستقبل اور نوکِ قلم پر لٹکتی تلوار: ایف سی آر اے (FCRA) ترمیمی بل 2026 کا ایک تجزیہہواہےگوتیزوتندلیکن چراغ اپناجلارہاہے

اراکین وہمدردان مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جے پی سی ممبر سے ملاقات، مجوزہ وقف ترمیمی بل واپس لینے کا مطالبہ

0%
اراکین وہمدردان مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جے پی سی ممبر سے ملاقات، مجوزہ وقف ترمیمی بل واپس لینے کا مطالبہ
سماج

اراکین وہمدردان مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جے پی سی ممبر سے ملاقات، مجوزہ وقف ترمیمی بل واپس لینے کا مطالبہ

Eastern
1 min read5 views
Save this article for later

اراکین وہمدردان مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جے پی سی ممبر سے ملاقات، مجوزہ وقف ترمیمی بل واپس لینے کا مطالبہ

ای سی نیوز ڈیسک
04 ستمبر 2024

ممبئی ـ ۳ ستمبر، گذشتہ کل شام پانچ بجے بھیونڈی کے رکن پارلیمنٹ جو وقف ترمیمی بل کے لئے بنائی گئی جوائنٹ پارلمنٹری کمیٹی کے رکن بھی ہیں مسٹر شریش مہاترے عرف بالیا ماما کے ساتھ بمقام انجمن اسلام سی ایس ٹی ممبئی ، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اراکین وہمدردان کی میٹنگ ہوئی، انھیں میمورنڈم پیش کیا گیا جس میں مکمل وقف ترمیمی بل ۲۰۲۴ کو دستور کے خلاف بتاتے ہوئے اُسے واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

ملاقات میں شامل بورڈ کے ممبران نے زبانی طور پر گفتگو کرتے ہوئے اُن کو بتایا کہ پچھلے کچھ عرصے سےمستقل یہ جھوٹ پھیلایا جارہا ہے کہ وقف بورڈ جس زمین یا جائداد پر دعویٰ کردے حکومت وہ زمین وقف کو دینے پر مجبور ہوجاتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خود وقف کی ہزاروں ایکڑ زمینوں پر دوسروں کا غیرقانونی قبضہ ہے، جس کو چھڑانے کے لئے جدوجہد کی جارہی ہے، مگر اس بل کے پاس ہونے کے بعد وہ ساری مقبوضہ زمینیں وقف کے قبضے سے نکل جائیں گی۔

اراکین وہمدردان مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جے پی سی ممبر سے ملاقات، مجوزہ وقف ترمیمی بل واپس لینے کا مطالبہ
Advertisement

پرسنل لاء بورڈ کے ممبران نے مزید بتایا کہ اب تک وقف کے لئے کئی سطح پر مشتمل عدالتی نظام ہے، وقف ٹربیونل کے بعد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک جانے کی گنجائش ہے، مگر موجودہ ترمیم کے بعد عدالتوں کے سارے امور ضلع کے کلکٹر کو منتقل ہوجائیں گے، ظاہر ہے ملک کا کوئی بھی کلکٹر حکومت کی مرضی کے خلاف فیصلہ کرنے کی ہمت نہیں کرسکتا، اسی طرح وقف بورڈ میں غیرمسلم ممبران کی شمیولیت، سی ای او کے لئے مسلم کی شرط ختم کرنے کی تجویز پر بھی اعتراض کیا گیا، نیز اس ترمیمی بل کی مزید خامیوں کو بھی اُجاگر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہمیں لگتا ہے کہ وقف کی زمینوں پر قبضہ کرنے کے لئے یہ قانون لایا جارہا ہے، یہ ہمارے لئے قطعا ناقابل قبول ہے، مسلمان اس مجوزہ بل میں ترمیم کے بجائے اس پورے بل کو ہی مسترد کرتے ہیں۔

لہذا حکومت اس وقف ترمیمی بل ۲۰۲۴ کو فورا واپس لے، ورنہ مسلمان دستور میں دئے گئے حقوق کے مطابق آخر دم تک اس بل کے خلاف جدوجہد کرتے رہیں گے۔مسلم نمائندوں کی گفتگو سننے کے بعد بالیا ماما نے یقین دلایا کہ میں ضرور جوائنٹ پارلمینٹری کمیٹی کو مسلمانوں کے جذبات سے آگاہ کرونگا، ساتھ ہی انھوں نے اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین بھی دلایا ۔

ملاقات میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی طرف سے مولانا محمود احمد خاں دریابادی، ڈاکٹر ظہیرقاضی، مفتی سعیدالرحمن، مولانا نظام الدین فخرالدین پروفیسر مونسہ بشریٰ عابدی، شاکر شیخ، مولانا انیس احمد اشرفی، مولانا برہان الدین قاسمی، ڈاکٹر عظیم الدین، مولانا رشید احمدندوی، سرفراز آرزو، فہیم شیخ ،حافظ اقبال چوناوالا، مولانا غفران ساجد قاسمی، ہمایوں شیخ، مولانا طہ قاسمی، رئیس شیخ ایم ایل اے، نظام الدین راعین، اور دیگر حضرات شریک تھے ۔

Eastern

Eastern

Staff writer at Eastern Crescent Urdu.

View all posts →

Comments (1)

Leave a Comment

Abdul gani
2 سال ago

This is against the law and injustice to Muslims and we will not tolerate it.'

اوپر تک سکرول کریں۔