یکساں سول کوڈ کےتعلق سے میری رائے
مولانا محمد بدر الدین اجمل (دھوبری آسام سےلوک سبھاممبر)
لا کمیشن آف انڈیا (ایل سی آئی) نے 14 جون، 2023 کو ‘یکساں سول کوڈ’ کے عنوان سے ایک تازہ پبلک نوٹس جاری کیا ہے جس میں عام لوگوں، سول سوسائٹی کے اراکین اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے 15 جولائی 2023 تک تجاویز طلب کی گئیں ہیں۔
عوام پورے جوش وجذبہ کے ساتھ لاء کمیشن آف انڈیا کو اپنی چھوٹی بڑی تحریروں کے ذریعہ جواب اور مشورے دے رہے ہیں۔ بیرون ملک رہنے والے بہت سے ہندوستانی حضرات کو بھی لاء کمیشن آف انڈیاکے نام خط لکھتے ہوئے اور ‘قانون سازی کے اس عمل’ میں فعال طور پر حصہ لیتے ہوئے دیکھا جارہاہے، جویقینا ہماری ہندوستانی جمہوریت کے لیے ایک اچھی چیز ہے، لیکن مجھے شک ہے کہ حکومت ان تمام مشوروں کو سنجیدگی سےنہ لیکر وہی کریگی جو اس کے لئے سیاسی طور پر مفید ہوگی۔ بہر کیف حکومت ہندنے تقریباً پانچ سالوں بعد اس پولرائزنگ اور جذباتی مسئلہ کو ایک بار پھربڑے ہی کامیابی کے ساتھ موضوع بحث بنایاہے، تاکہ آئندہ 2024 کے عام انتخابات میں اسے ایک آسان سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ میں اس موضوع پر مندجہ ذیل تین نکات کے ذریعہ عوم کی خدمت میں اپنے خدشات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔
1۔ بنیادی حقوق کو ختم نہ کیا جائے
آئین ہند کی دفعہ 25 بنیادی حقوق میں سے ایک ہے جس میں لکھا ہے "۔۔۔تمام اشخاص کو آزادی ضمیر اور آزادی سے مذہب قبول کرنے، اس کی پیروی کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا مساوی حق ہے ۔”
اس کے برعکس، اسی آئین ہند کی دفعہ 44 جو کہ ایک ہدایتی اصول(Directive Prinsiple) ہے، جس کے الفاظ اس طرح ہیں: "مملکت یہ ‘کوشش’ کرے گی کہ بھارت کے پورے علاقے میں شہریوں کے لیے یکساں سول کوڈ کی ضمانت ہو۔” سیدھی سی بات یہ ہے کہ کوئی ڈائریکٹیو پرنسپل ۔ جس کی حیثیت ایک مشورے یا اختیاری کام کی ہے کسی بھی شہری کے بنیادی حقوق کو ختم نہیں کر سکتا۔ "ہدایتی اصول” کا مطلب ہے کہ اس نے ہندوستان کے مستقبل کے قانون سازوں کے لیے صرف ایک ‘طاقت’ پیدا کی ہے نہ کہ ‘فرض’۔ ہندوستان کی دستور ساز اسمبلی کافی بحث و مباحثے کے بعد یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کو محض ایک ‘کوشش’ کے طور پر رکھنے پر راضی ہوئی۔ یہ اس حقیقت کو بھی آشکارا کرتاہے کہ یکساں سول کوڈ اُس وقت بھی ہندوستان کے کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی معاشرے میں ناقابل عمل تھا اور وہی متنوع آبادی والی حالت آج بھی موجود ہے، بلکہ پہلے کی بنسبت زیادہ واضح ذاتی شناخت اور الگ افتخار کے ساتھ۔
آئین ہند کی دفعہ 25 کے علاوہ دفعہ 26 اور 29 بھی ‘شہریوں کے حقوق’ میں شامل ہیں۔ دفعہ 26 "مذہبی امور کے انتظام وانصرام کی آزادی کے تعلق سےہے: … ہر مذہبی فرقہ یا اس کے کسی بھی طبقے کو حق حاصل ہوگا (الف) مذہبی اور خیراتی مقاصد کے لیے ادارے قائم کرنے اور برقرار رکھنے کا۔ (ب) مذہب کے معاملے میں اپنے معاملات کوخود حل کرنا؛…”
دفعہ 29 اقلیتوں کے مفادات کے تحفظ کے بارے میں ہے: "(1) ہندوستان کی سرزمین یا اس کے کسی بھی حصے میں رہنے والے شہریوں کے کسی بھی شخص کو اپنی الگ زبان، رسم الخط یا منفرد ثقافت کی حفاظت کا حق حاصل ہوگا۔ "
یکساں سول کوڈ کےنفاذ سے ہندوستانی آئین کے دیگر اور کئی دفعات متاثر ہونگے بشمول ان بنیادی حقوق کے جو دفعہ 25، 26 اور 29 میں پوری وضاحت کے ساتھ مذکورہیں۔ مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی لانےکے اقدام کو ہندوستانی مسلمانوں نے ہمیشہ مذہب اور مذہبی اعمال میں مداخلت گرداناہے، اس لئے یہ آئینی طور پر فراہم کردہ بنیادی حقوق کے سراسر خلاف ہے۔ ایک ہدایتی اصول کسی بھی بنیادی حق یا حقوق کو منسوخ نہیں کر سکتا اور نہ ہی ہرگز ایسا ہوناچاہئے، بصورت دیگر یہ ہندوستانی آئین کے بنیادی اصول کے خلاف ہو گا- یعنی وہ حقوق جو کہ آئین ہند کی تمہید میں مذکور ہے، نیز اس طرح کرنے کی صورت میں یہ ‘تنوع میں اتحاد’ کی ثقافت کے حوالے سے اپنی منفر شناخت رکھنے والے ہندوستان کی مثالی جمہوری اقدار کو زبردست چوٹ پہنچانے کے مترادف ہوگا۔
2۔ یکساں سول کوڈ ہندوستان میں نا ممکن ہے
تنوع بھارت کی خوبصورتی ہے۔ آئین ہند تمام شہریوں کے لیے “سماجی، اقتصادی اور سیاسی انصاف” کا خواہاں ہے۔ اس نے مذہبی اور نسلی اقلیات اور سماجی و اقتصادی طور پر پس ماندہ طبقات جیسے درج فہرست برادریاں اور درج فہرست قبائل کے حقوق کے تحفظ کے لیے مختلف طریقے اپنائے ہیں۔ جس طرح مختلف قسم کے پھولوں سے باغ کے حسن میں اضافہ ہوتا ہے، اسی طرح سے مختلف مذاہب، ثقافتوں اور رنگوں کے حامل افراد ہی اس عظیم ملک کی خوبصورتی ہیں۔ یہ ہندوستان کا منفر اور بنیادی تصور ہے۔
ایک ملک ایک قانون کا نظریہ یہاں ممکن نہیں ہے۔ آدی واسی لوگوں کی اپنی تہذیب اور رسوم و رواج ہیں۔ ایک مرد کے پاس ایک سے زائد بیویاں ہو سکتی ہیں، اسی طرح ایک عورت بھی ایک سے زائد شوہر رکھ سکتی ہے۔ ان کے یہاں شادی کے مختلف طریقے ہیں اور میت کی تدفین کے لیے مختلف رسوم۔ ہمارے شمال مشرقی ریاستوں میں مختلف النوع تہذیب اور ثقافت موجود ہیں جن کو ایک کرنا ممکن نہیں ہے۔
ہندوستان میں یکساں سول کوڈ کا شوشہ ایک مغالطہ اور سیاسی حربہ ہے۔ اس کو عوام کے لئے قابل عمل بنا نا قطعاً ناممکن اور غیر معقول ہے ۔ اس لیے موجودہ حکومت، لا کمیشن آف انڈیا کے ذریعے عام شہریوں کے لیے یہ ہسٹریائی ماحول کیوں پیدا کر رہی اس کے پس پردہ مقاصد کا ادراک کوئی کر پائے یا نہ کر پائے، ہمارے موجودہ وزیر اعظم صاحب ا ور ان کے افراد کو ضرور ہو گا ۔ میری نظر میں، اس طرح کی کوششیں ہندوستان کے اندر اقلیتوں کے لئے باعث تکلیف، ملک میں افراتفری اور انتشار کاسبب بنے گی، اور دنیا میں ایک سیکولر جمہوری ملک کےطور پر ہندوستان کی شبیہ کو داغدار کرے گی۔
3۔ مسلم پرسنل لاء (شریعہ) اپلیکیشن ایکٹ 1937
ہندوستان میں مسلم پرسنل لا غیر آئینی نہیں ہے۔ یہاں کے مسلمانوں کا عائلی نظم ونسق ایک غیر ترمیم شدہ دفعہ کے ذریعہ ہوتاہے، اور یہ دفعہ دوسرے بہت سے دفعات کی طرح برطانوی قوانین سے مستعار لیے گئے ہیں۔ شریعت ایپلیکیشن ایکٹ جو 7 اکتوبر 1937 میں وضع کیا گیا تھا اور اسی وقت سے نافذالعمل رہا ہے۔ اگر حکومت ہند مسلمانوں کے تعلق سے سنجیدہ ہے تو اسی سریعت ایکٹ کو حتمی شکل دے دے ۔
بجا طورپر یہ ایک عام خیال ہے کہ یونیفارم سول کوڈ، کی وجہ سے پرسنل لاء ،جس کے ضمن میں شادی، طلاق، وراثت اور تمام اقلیتوں، بشمول مسلمان جن کے پرسنل لاء ان کے مذہب اور عبادت کا حصہ ہیں، کے منفرد خاندانی اور سماجی طریقے آتے ہیں، ختم ہو جائیں گے. یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پرسنل لاز تمام بڑے مذاہب اور سماج کے الگ الگ شناخت کے لازمی حصہ ہوتے ہیں۔ پرسنل لاز کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ ان لوگوں کی زندگی کے تمام شعبوں میں مداخلت کے مترادف ہوگی جنہیں یہ لوگ روایتا اور رسما، نسل در نسل کرتے آرہے ہیں۔ ہندوستان ایک سیکولر ریاست ہے اور اسے ایسا کچھ نہیں کرنا چاہیے جس سے لوگوں کی مذہبی اور ثقافتی اقدار کو خطرہ ہو۔
بہت سے سماج خاص طور پر اقلیتی سماج – مسلمان، عیسائی اور سکھ وغیرہ، یونیفارم سول کوڈ کو اپنی مذہبی آزادی اور مختلف شناخت پربےجا قدغن سمجھتے ہیں۔ انہیں خوف ہے کہ ایک کومن کوڈ (مشترکہ ضابطہ) ان کی روایات کو مسخ کر دے گا اور ایسے قوانین نافذ کر دے گا جو بنیادی طور پر اکثریتی مذہبی قوانین سے متاثر ہوں گے۔ ہندوستان کی آئین میں اپنی پسند کے مذہب کی آزادی کا حق دیاگیاہے۔ یکساں قوانین کوبنانے اور اسکو زبردستی لاگو کرنے سے مذہب کی آزادی کا دائرہ کم ہو جائے گا یا اسے بہت زیادہ محدود کر دیا جائے گا۔ لہٰذا، دانشمندی اور سمجھداری یہی ہے کہ یونیفارم سول کوڈ کے معاملے کو ہمیشہ ہمیش کے لئے پس پردہ ڈال دیاجائے اور یہی ملک کے مفاد میں بہتر ہوگا۔
—————————————–
(مولان محمد بدر الدین اجمل دھوبری، آسام سے لوک سبھا ممبر اور آل انڈیا یونایئٹیڈ ڈیموکراٹک فرنٹ و جمعیت علمائے آسام کے صدرہیں)