
قوتِ گویائی ایک عظیم ترین نعمت
قوتِ گویائی ایک عظیم ترین نعمت
از: محمد جاوید قاسمی
حق ایجوکیشن اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کانپور
قوتِ گویائی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے۔انسان کو یہ نعمت اس لیے عطا کی گئی ہے تاکہ وہ اپنے احساسات وجذبات ، خیالات وافکار اور اپنے مافی الضمیر کا اظہار دوسروں سے کرسکے، اپنے دکھ درد کو بیان کر سکے اور اچھے اور مثبت پیغامات لوگوں تک پہنچا سکے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو قوتِ گویائی جیسی عظیم نعمت عطا کرنے کے ساتھ اس کے صحیح استعمال کے اصول اور آداب بھی سکھائے ہیں کہ گفتگو کس طرح اور کس قدر کی جائے ، اور مخاطب سے بات کرتے وقت آواز کیسی رکھی جائے۔ اسلام نے جس طرح دوسری نعمتوں کے سلسلے میں اعتدال کی تعلیم دی ہے ،اسی طرح گفتگو کے معاملے میں بھی میانہ روی اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔ دورانِ گفتگو آواز نہ اتنی پست ہو کہ مخاطب کو سمجھنے میں دشواری پیش آئے اور نہ اتنی بلند کہ آس پاس موجود دوسرے لوگوں کے لیے باعثِ تکلیف بن جائے ۔
چنانچہ قرآنِ کریم اس بات کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:
وَاغۡضُضۡ مِنۡ صَوۡتِكَؕ اِنَّ اَنۡكَرَ الۡاَصۡوَاتِ لَصَوۡتُ الۡحَمِيۡرِ ۞
"اور اپنی آواز آہستہ رکھو، بے شک سب سے بری آواز گدھوں کی آواز ہے۔” (لقمان: 19)
اس سے واضح ہوا کہ بلا ضرورت چیخنا چلانا، شور مچانا اور اپنی آواز سے دوسروں کو تکلیف پہنچانا ایک ناپسندیدہ طرز عمل ہے۔ اس لیے ان لوگوں کو اس قرآنی ہدایت سے سبق لینا چاہیے جو دینی و دنیاوی جلسوں میں بلا ضرورت اتنی بلند آواز میں اسپیکر استعمال کرتے ہیں کہ ان کی آواز آس پاس کے لوگوں کے لیے باعثِ زحمت اور تکلیف بن جاتی ہے۔
گفتگو کا ایک اہم ادب یہ بھی ہے کہ مخاطب کی ذہنی و فکری صلاحیت اور صورتِ حال کو ملحوظ رکھتے ہوئے بات کی جائے۔ گفتگو خوش اسلوبی، نرمی اور متانت کے ساتھ ہو، جلد بازی سے گریز کیا جائے اور الفاظ کو اس طرح ادا کیا جائے کہ مخاطب بہ آسانی سمجھ سکے۔ موقع و محل کی مناسبت سے چہرے کے تاثرات اور مناسب اشارات بھی گفتگو کو مؤثر بناتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کے طرزِ تکلم میں بھی یہی اعتدال، ٹھہراؤ اور وضاحت نمایاں تھی۔ آپ علیہ السلام ٹھہر ٹھہر کر اور واضح انداز میں گفتگو فرماتے تھے۔
اماں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ کے طرزِ تکلم کے بارے میں فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ اس طرح ٹھہر ٹھہر کر گفتگو فرماتے تھے کہ اگر کوئی آپ کے الفاظ کو گننا چاہتا تو گن سکتا تھا۔ (بخاری)
گفتگو کے سلسلے میں قرآنِ مجید نے ایک نہایت اہم اور بنیادی اصول بیان کیا ہے کہ بولتے وقت اس حقیقت کو پیش نظر رکھا جائے کہ انسان کی زبان سے ادا ہونے والا ہر لفظ محفوظ کیا جا رہا ہے ، اس کی نگرانی کی جارہی ہےاور اسے اپنے کلام کے بارے میں جواب دہ ہونا ہوگا۔چنانچہ دورانِ گفتگو اس بات کا خیال رکھا جائے کہ کوئی غیر مناسب یا فضول لفظ زبان سے نہ نکلنے پائے ۔قرآنِ مجید اس حقیقت کی طرف ان الفاظ میں متوجہ کرتا ہے:
مَا يَلۡفِظُ مِنۡ قَوۡلٍ اِلَّا لَدَيۡهِ رَقِيۡبٌ عَتِيۡدٌ ۞
"انسان کوئی لفظ زبان سے نکال نہیں پاتا، مگر اس پر ایک نگران مقرر ہوتا ہے، ہر وقت (لکھنے کے لیے) تیار۔” (ق: 18)
اس سے معلوم ہوا کہ انسان کو ضرورت کے مطابق اتنا ہی بولنا چاہیے جتنا ضروری ہو۔ شارعِ اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک عادت تھی کہ آپ بقدرِ ضرورت گفتگو فرماتے اور غیر ضروری کلام سے گریز کرتے تھے۔
اسی تناظر میں اگر بسیار گوئی کی عادت کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حد سے زیادہ اور بے مقصد گفتگو انسان کے لیے دنیا و آخرت، دونوں اعتبار سے نقصان دہ ہوسکتی ہے۔ دنیاوی اعتبار سے اس کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ بسیار گو شخص رفتہ رفتہ اپنا وقار کھو بیٹھتا ہے۔ لوگ اسے سنجیدہ اور باوزن انسان نہیں سمجھتے۔ کیونکہ جو شخص ہر موقع پر زیادہ بولنے کا عادی ہو، اس کی بات کی اہمیت بھی رفتہ رفتہ کم ہوجاتی ہے۔زیادہ بولنے والا شخص اکثر غور و فکر کے بغیر گفتگو کرتا ہے۔ جو کچھ ذہن میں آتا ہے، اسے فوراً زبان پر لے آتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کبھی کبھار اس کی زبان سے ایسی بات نکل جاتی ہے جس پر بعد میں اسے ندامت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑتاہے ۔
نیز ایسا شخص اپنی بات دوسروں تک پہنچانے میں تو غیر معمولی دلچسپی لیتا ہے لیکن دوسروں کی بات سننے اور سمجھنے پر کم توجہ دیتا ہے۔اس لیے وہ غور و فکر،مشاہدے اور دوسروں سے سیکھنے کے مواقع بھی کھودیتا ہے۔
اسی طرح بے جا گفتگو دوسروں کی دل آزاری کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ جس کے نتیجے میں باہمی تعلقات متاثر ہوتے ہیں ،اور انسان اپنے عزیزوں، دوستوں اور رشتہ داروں سےبھی دور ہوتا چلا جاتا ہے۔
بسیار گوئی کا اخروی نقصان اس سے بھی زیادہ سنگین ہے ،کیونکہ زیادہ بولنے کی وجہ سے زبان پھسلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور انسان کی زبان سے ایسی بات نکل سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بن جائے ۔اس لیے زبان کی حفاظت دراصل انسان کے دین اور آخرت کی حفاظت کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔

دراصل بسیار گوئی کی عادت میں مبتلا شخص زیادہ بول کر لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرنا چاہتا ہے، کبھی وہ اپنی صلاحیت و لیاقت کا اظہار کرتا ہے،کبھی اپنی معلومات کا مظاہرہ اور کبھی دولت و ثروت یا اپنے مقام و مرتبے کو نمایاں کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کوشش میں وہ مبالغہ آرائی، بلکہ بعض اوقات لاشعوری طور پر دروغ گوئی کا بھی شکار ہو جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بے فائدہ اور غیر ضروری گفتگو سے منع فرمایا ہے۔ ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا :
جو شخص اللّٰہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے ۔(بخاری)
مشہور صحابی رسول حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس خطبہ دیا اور لمبی چوڑی گفتگو کی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "خطبوں میں بہت زیادہ باتیں شیطانی فضولیات میں سے ہیں۔” (الادب المفرد)
بلاشبہ قوتِ گویائی خداوند متعال کی عطا کردہ عظیم ترین نعمت ہے۔ ذرا تصور کیجیے کہ اگر اللہ تعالیٰ انسان کو اس نعمت سے محروم کر دیتے تو زندگی کس قدر مشکل اور دشوار ہوجاتی۔ انسانوں میں جو لوگ اس نعمت سے محروم ہیں، وہ اس کی قدر و قیمت سے بخوبی واقف ہیں۔

اس لیے اس نعمت کی قدر یہی ہے کہ اسے خیر اور بھلائی کے لیے استعمال کیا جائے، ضرورت کے وقت بقدرِ ضرورت گفتگوکی جائے، غیر ضروری اور بے فایدہ کلام سے اجتناب کیا جائے، مخاطب کے احترام کو ملحوظ رکھا جائےاور زبان سے نکلنے والے ہر لفظ کو ذمہ داری کے ساتھ ادا کیا جائے،بسیار گوئی جیسی بری عادت سے خود کو محفوظ رکھا جائے اور زبان کو بے لگام چھوڑنے کے بجائے اسے شعور، حکمت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ یوں یہ عظیم نعمت انسان کے لیے دنیا میں عزت و وقار اور آخرت میں نجات و کامیابی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
You May Also Like
تہذیب وثقافتاسلام میں خواتین کا مقام
اسلام میں خواتین کا مقام از: ابوجعفر فاروقی قرآن مقدس کی متعدد آیات اور...
آراءخدمت خلق کی اہمیت
از- نجم الہدی قاسمی، آسام کیا دوسروں کی مدد کرنا، خدمت کرنا، دوسروں کا...
اسلام
متفرقاتنئے سال کا آغاز محاسبہ نفس اور منشور حیات کیساتھ کریں
نئے سال کا آغاز محاسبہ نفس اور منشور حیات کیساتھ کریں محمد توقیر رحمانی...
کالم نگاراچھا کام اور اچھی صفت دونوں ضروری ہیں
اچھا کام اور اچھی صفت دونوں ضروری ہیں مدثر احمد قاسمی اللہ رب العزت...
آراءمذہب اسلام میں عید کا تصور ہر کسی کے لیے خوشی اور ملن کا سنگم
مذہب اسلام میں عید کا تصور ہر کسی کے لیے خوشی اور ملن کا...

Comments (0)
Leave a Comment