ٹرینڈنگ
عربی زبان کے نامور ادیب اور کئی نسلوں کے استاذ مولانا سعید الاعظمی کی وفات کا سانحہعقابی  روح رکھنے والے ” قاری شبیر احمد صاحب” رخصت ہوئے ـالیکشن کمیشن کی غلطیوں کا خمیازہ عوام کیوں بھگتے؟خودکشی کا بڑھتا رجحان: اسباب، پس منظر اور تدارکمشرقِ وسطیٰ میں امریکہ-اسرائیل اتحاد کو ایک اور بڑا دھچکامرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقادشیخ محمد یحییٰ باسکندی کی مرکز المعارف، ممبئی آمد؛ طلبہ سے خطاب، تعلیم، تزکیہ اور تعلق مع اللہ کی اہمیت پر زورکیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!عربی زبان کے نامور ادیب اور کئی نسلوں کے استاذ مولانا سعید الاعظمی کی وفات کا سانحہعقابی  روح رکھنے والے ” قاری شبیر احمد صاحب” رخصت ہوئے ـالیکشن کمیشن کی غلطیوں کا خمیازہ عوام کیوں بھگتے؟خودکشی کا بڑھتا رجحان: اسباب، پس منظر اور تدارکمشرقِ وسطیٰ میں امریکہ-اسرائیل اتحاد کو ایک اور بڑا دھچکامرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقادشیخ محمد یحییٰ باسکندی کی مرکز المعارف، ممبئی آمد؛ طلبہ سے خطاب، تعلیم، تزکیہ اور تعلق مع اللہ کی اہمیت پر زورکیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!

عربی زبان کے نامور ادیب اور کئی نسلوں کے استاذ مولانا سعید الاعظمی کی وفات کا سانحہ

0%
عربی زبان کے نامور ادیب اور کئی نسلوں کے استاذ مولانا سعید الاعظمی کی وفات کا سانحہ
تہذیب وثقافت

عربی زبان کے نامور ادیب اور کئی نسلوں کے استاذ مولانا سعید الاعظمی کی وفات کا سانحہ

Eastern
1 min read17 views
Save this article for later

عربی زبان کے نامور ادیب اور کئی نسلوں کے استاذ مولانا سعید الاعظمی کی وفات کا سانحہ

از :مولانا بدر الحسن قاسمی
وزارۃ الاوقاف، کویت

مولانا سعید الاعظمی دار العلوم ندوة العلماء کے مہتمم عربی ماہنامہ "البعث الاسلامی” کے چیف ایڈیٹر اور ندوة العلماء کےقدیم اساتذہ میں سے تھے۔ ان کے والد مولانا محمدایوب صاحب اعظمی امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری کے شاگردوں میں سےتھے۔ اور مئو کے تین ہم عصر بڑے علماء مولانا حبیب الرحمن اعظمی مولانا عبد اللطیف نعمانی اورمولانا محمد ایوب ا عظمی کے مثلث کا ایک حصہ رہے وہ طویل عرصہ تک جامعہ اسلامیہ ڈابھیل کے شیخ الحدیث بھی رہے۔ مولانا سعید الاعظمی کی تعلیم کا بڑا مرحلہ مئو میں اپنے والدگرامی کی نگرانی ہی میں پورا ہوا۔
عربی زبان کی مزید پختگی کیلئے انہوں نے بغداد میں رہ کر مولانا سید ابو الحسن ندوی کے استاذ نامور سلفی عالم وادیب ڈاکٹر تقی الدین الہلالی المراکشی سے بھی استفادہ کیا جو پہلے کئ سال تک دار العلوم ندوة العلماء میں بحیثیت استاد رہ چکے تھے اور عربی زبان میں حجت تسلیم کئے جاتے تھے عربی کے علاوہ انہیں انگلش اور جرمن زبان میں بھی مہارت تھی۔مولانا سعید الاعظمی کے بڑے بھائی حکیم عز یز الرحمن اعظمی صاحب دارالعلوم دیوبند میں جامعہ طبیہ کے لائق استاذ تھے اور عمر میں تفاوت کے باوجود میرے ساتھ وہ بےحد بے تکلف تھے غیر معمولی ذہین اور بذلہ سنج انسان تھے۔

انگریزی زبان کے سہ ماہی کورس میں داخلے جاری ہیں
انگریزی زبان کے سہ ماہی کورس میں داخلے جاری ہیں

حضرت شاہ وصی اللہ صاحب الہ آبادی کے فیض یافتہ اورانکے بیحد معتقد تھے اور اپنی طبی علوم میں مہارت کو انکی کرامت کا ہی نتیجہ سمجھتے تھے انکے بارے میں میرا تفصیلی مضمون "تابندہ نقوش” میں شامل ہے۔ مولانا سعید الاعظمی اس طرح ایک علمی خانوادہ کے فرد اور غیر معمولی محنت وقابلیت کے انسان تھے۔ دارالعلوم ندوة العلماء کو خون جگر سے پروان چڑھا نے والوں میں وہ بھی شامل تھے۔

ان سے کئی نسلوں کو فیض پہنچا
تدریس کے علا وہ انکے امتیاز کی ایک بڑی علامت اور انکی اہم پہچان مجلہ” البعث الاسلامی” کی ادارت میں انکی شمولیت اور معاونت اور پھر مولانا محمد الحسنی مرحوم کی جوانمرگی کے بعد بحیثیت ایڈیٹر انکی انفرادیت بھی ہے۔ وہ پچاس سال سے زیادہ عرصہ تک اڈیٹر رہے اور انکے اداریے ہی مجلہ کی زینت بنے رہے۔ مولانا عربی زبان میں بہت زیادہ لکھنے والی شخصیات میں سے ایک ہیں انکے لکھے ہوئے اداریے کئ جلدوں کا مواد فراہم کرتے ہیں۔ حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی صاحب کو ان پر بڑا اعتماد تھا وہ انکی تحریروں کے مداح تھے۔
تاریخ دعوت وعزیمت ” یا رجال الفکر والدعوة في الاسلام” کی بعض جلدوں کا عربی میں ترجمہ بھی انہیں کے قلم سے ہے۔ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب کے بعض رسائل اور فضائل اعمال کے بعض حصوں کی ترجمانی بھی انہوں نے ہی کی ہے۔ خود مولانا سعید الاعظمی کی کی عربی زبان میں اپنی تصنیف کردہ متعدد کتابیں اور لاتعداد مضامین ومقالات ہیں۔البعث الاسلامی کے اداریے اور الرائد میں شائع شدہ مضامین انکے علاوہ ہیں۔ تدریس میں امتیازی شان رکھنے کے علاوہ دارالعلوم ندوہ العلماء کے منصب اہتمام پر بھی وہ فائز تھے اور ندوہ کی مسجد میں جمعہ کے خطیب بھی عام طور پر وہی ہوا کرتے تھے۔ انکی عربی تحریروں کا ذخیرہ انکے شاگردوں کیلئے آئندہ تحقیق و ریسرچ کا بہترین موضوع ہوسکتا ہے۔
مجھ سے انکی ملاقاتیں کویت میں ہوا کرتی تھیں حضرت شیخ الحدیث صاحب کے انتقال کے دن ہم دونوں ہی مدینہ طیبہ میں تھے۔ انکے دولت کدہ پر بھی غالبا ایک آدھ بار حاضری کا اتفاق ہوا دہلی میں فقہ اکیڈمی کے اسٹیج پر بھی ایک دوبار یکجائی ہوئی۔

Advertisement
Advertisement

وہ ایک عرصہ سے بیمارتھے اور انتہائی کمزور ہوگئے تھے اور اب وہ وقت آگیا جس سے کسی کو مفر نہیں ہے اور وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
اللہ تعالی سے دعاء ہیکہ انکے اعمال صالحہ کو قبول فرمائے۔ انکے درجات بلند فرمائے اور انہیں فردوس بریں میں صدیقین و وصالحین کے ساتھ اپنی نعمتوں سے بہرہ ور کر ے آمین مولاناسعید الاعظمی کا دنیا سے رخصت ہوجانا زبردست سانحہ ہے، دارالعلوم ندوة العلماءکیلئے بھی که وہ اپنے قدیم ترین اورمخلص ترین استاد سے محروم ہوگیا ہے۔ اورعربی زبان وادب سے شغف رکھنے والوں کیلئے بھی کہ ان کے درمیان ایک مایہ ناز صاحب قلم اور دینی واصلاحی فکر کے حامل عربی زبان کے مصنف اور قلم کار کی جگہ خالی ہوگئی ہے۔
وماكان قيس هلكه هلك واحد
ولكنه بنيان قوم تهد ما

Eastern

Eastern

Staff writer at Eastern Crescent Urdu.

View all posts →

Comments (0)

Leave a Comment

اوپر تک سکرول کریں۔