ٹرینڈنگ
عقابی  روح رکھنے والے ” قاری شبیر احمد صاحب” رخصت ہوئے ـالیکشن کمیشن کی غلطیوں کا خمیازہ عوام کیوں بھگتے؟خودکشی کا بڑھتا رجحان: اسباب، پس منظر اور تدارکمشرقِ وسطیٰ میں امریکہ-اسرائیل اتحاد کو ایک اور بڑا دھچکامرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقادشیخ محمد یحییٰ باسکندی کی مرکز المعارف، ممبئی آمد؛ طلبہ سے خطاب، تعلیم، تزکیہ اور تعلق مع اللہ کی اہمیت پر زورکیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!تحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ بابعقابی  روح رکھنے والے ” قاری شبیر احمد صاحب” رخصت ہوئے ـالیکشن کمیشن کی غلطیوں کا خمیازہ عوام کیوں بھگتے؟خودکشی کا بڑھتا رجحان: اسباب، پس منظر اور تدارکمشرقِ وسطیٰ میں امریکہ-اسرائیل اتحاد کو ایک اور بڑا دھچکامرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقادشیخ محمد یحییٰ باسکندی کی مرکز المعارف، ممبئی آمد؛ طلبہ سے خطاب، تعلیم، تزکیہ اور تعلق مع اللہ کی اہمیت پر زورکیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!تحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باب

عقابی  روح رکھنے والے ” قاری شبیر احمد صاحب” رخصت ہوئے ـ

0%
عقابی  روح رکھنے والے ” قاری شبیر احمد صاحب” رخصت ہوئے ـ
آرٹس اور میوزک

عقابی  روح رکھنے والے ” قاری شبیر احمد صاحب” رخصت ہوئے ـ

Eastern
1 min read16 views
Save this article for later

عقابی  روح رکھنے والے ” قاری شبیر احمد صاحب” رخصت ہوئے ـ

از ـ محمود احمد خاں دریابادی

ہمارا کیا بھروسہ ہم تو نابینا ہیں اے کشفی
نظر والوں میں بھی ہم نے بصیرت کی کمی پائی

یہ کشفی لکھنوی کا شعر ہے ۔مگر یہ شعر حضرت مولانا قاری شبیر احمد صاحب پر پوری طرح صادق نہیں آتا، قاری صاحب نابینا ضرور تھے، مصلحت خداوندی سے چشم ظاہر کی بصارت اگرچہ انھیں نہیں عطا ہوئی تھی، مگر مبداء فیاض نے تلافی کے طور پر بے شمار ایسی خصوصیات عطا کردی تھیں جو انھیں عام آدمیوں سے ممتاز کرتی ہیں ۔
چشم بصیرت، علمی قابلیت، یادداشت، وسعت مطالعہ، طلاقت لسانی، زبان وقلم پر مضبوط پکڑ، نفاست طبع، اور نستعلیقت جیسی درجنوں خوبیاں اُن کے اندر بدرجہ اتم موجود تھیں ـ شیرینی آمیز ملیح لہجہ، گفتگو میں ایسی صاف، شستہ، اور فصیح زبان استعمال کرتے کہ ” وہ کہیں اورسنا کرے کوئی ۔”

سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کرکے دیکھتے ہیں

میں نے اُن سے کچھ پڑھا تو نہیں، مگر ہمیشہ انھیں استاذ کا درجہ دیا ہے ـ دراصل حضرت قاری صاحب ہمارے استاذ حضرت مفتی عزیرالرحمان مدظلہ کے درسی ساتھی تھےـ ایک زمانے میں طلبا اور انتظامیہ کے درمیان دارالعلوم دیوبند کے اندر جو شدید اختلاف رونما ہوا تھا اس کا شکار حضرت مفتی صاحب اور حضرت قاری صاحب سمیت اس وقت کے کچھ مزید انتہائ باصلاحیت اور مایہ ناز طلبا بھی ہوئے تھے، جیسے حضرت مولانا طاہر گیاوی، مولانا اعجاز اعظمی وغیرہ ۔ انتظامیہ کے احتساب کا شکار ایسے بیشتر طلبا کا داخلہ امروہہ کے مدرسے میں ہوگیا تھا، وہیں سے یہ سب لوگ فارغ ہوئے ـ مجھے یاد ہے حضرت مفتی عزیزالرحمان مدظلہ کبھی کبھی یہ شعر پڑھا کرتے تھے ،
لیکن ہم اُن فضاوں کے پالے ہوئے تو ہیں
ہم واں نہیں ہیں واں سےنکالے ہوئے تو ہیں

Advertisement
Advertisement

اس جملہ معترضہ کے بعد آمدم برسر مضمون ۔ قاری صاحب جب بھی ممبی تشریف لاتے مفتی صاحب سے ملنے دارالعلوم امدادیہ ضرور آتے ـ میں بعمر ۱۳ سال وہاں پنجم میں شرح وقایہ وغیرہ پڑھتا تھا ـ بچپن سے ہی کاغذقلم سے رشتہ استوار ہوگیا تھا ـ مختلف موضوعات پر چھوٹے چھوٹے مراسلے اخبارات کے خطوط کے کالم میں لکھ کر بھیجتا تھا، کبھی چھپ بھی جاتے تھے، میں وہ اخبار دکھا کر ساتھیوں پر دھونس جماتا تھا ۔
ایک دن میں نے سوچا کہ بس بہت ہوئے یہ مراسلے، اب مضامین لکھنا چاہیئے ـ چنانچہ زندگی کا پہلا باضابطہ مضمون لکھا اور حضرت مفتی صاحب کے سامنے اصلاح کے لئے پیش کردیا ـ اتنے میں حضرت قاری صاحب تشریف لے آئے، مفتی صاحب نے فرمایا کہ قاری صاحب آگئے ہیں ان کو دکھاتے ہیں ۔  تھوڑی دیر بعد مفتی صاحب نے میرا تعارف کرایا، نام بتایا، فرمایا کہ یہ یہاں پنجم میں پڑھتا ہے، اپنی زندگی کا پہلا مضمون لکھ کر لایا ہے، آپ آگئے ہیں تو اس کی اصلاح کردیجئے ۔
” پڑھئے، قاری صاحب نے فرمایا ـ میں پڑھنا چاہتَا ہی تھا کہ مفتی صاحب نے میرے ہاتھ سے لے کر خود ہی پڑھنا شروع کردیا ـ۔خضرت قاری صاحب بغور سنتے رہے، درمیان ایک دوجملوں کا اضافہ فرمایا، کہیں کہیں کچھ جملے حذف کرنے کے لئے کہا ۔ مضمون مکمل سننے کے بعد فرمایا یہ پہلی کوشش اچھی ہے، مشق جاری رکھئے، اہل زبان کی کتابوں کا مطالعہ بھی کرتے رہیں ۔

پھر سوال کیا آج کل مطالعے میں کیا چل رہا ہے ، میں نے کچھ نام لئے، ابن صفی، کرشن چندر، پطرس بخاری، وغیرہ ۔
فرمانے لگے اپنی درسی کتابوں کا مطالعہ کب کرتے ہیں، میں کچھ نہیں بولا ـ کچھ اور کتابوں کی نشاندھی کی، پھر فرمایا علما میں بھی اچھی بامحاورہ زبان لکھنے والے لوگ ہیں ۔ پہلے سید مودودی صاحب، وحیدالدین خاں کا نام لیا، پھر فرمایا ان کی زبان تو اچھی ہے مگر فکر صحیح نہیں ہے، اس لئے فی الحال علم میں پختگی آنے تک ان کا مطالعہ مت کیجئے،  ہاں مولانا مناظر احسن گیلانی، عبدالماجد دریابادی وغیرہ کو پڑھ سکتے ہیں ۔

اس کے بعد بھی بہت ملاقاتیں ہوتی رہیں، کبھی دواخانے تشریف لاتے، ہر مرتبہ یہ سوال ضرور کرتے کہ آج کل کیا پڑھ رہے ہو ـ میری عادت تھی میں دواخانے کے کاونٹر پر خالی اوقات میں کسی نہ کسی کتاب کا مطالعہ کرتا رہتا تھا، ایک مرتبہ میں کاونٹر پر بیٹھا کتاب پڑھ رہا تھا، اچانک تشریف لے آئے، خیر خیریت کے بعد حسب معمول کہنے لگے کہ آج کل کیا پڑھ رہے ہو، میں نے بتایا کہ اس وقت دلاور فگار کا مجموعہ کلام ” از سرِنو ” پڑھ رہا تھا، فرمایا دکھاؤ، میں نے وہ کتاب ہاتھ میں دیدی، انھوں نے پہلے تو کتاب کو ہرطرف سے ٹٹول کردیکھا، کھول کر صفحات کو محسوس کیا، ضخامت دیکھی ۔ (اس موقعے پر ایک حقیقت عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جو لوگ کتابوں کے شائق ہوتے ہیں، بینائی ہو نہ ہو کتابیں اُن سے بات کرتی ہے، صفحات کی اپنی مسحور کن خوشبو ہوتی ہے، جس کو مطالعے کا ذوق رکھنے والا ہی محسوس کرسکتا ہے ـ ) بہرحال حضرت قاری صاحب نے معلوم کیا کہ یہ کتاب کہاں ملے گی ـ میں نے عرض کیا کہ مل تو کئی جگہ جائے گی، مگر میں یہ کتاب پڑھ چکا، یہی لیتے جائیے، پہلے تو انکار کرتے رہے، مگر میرے مسلسل اصرار پر یہ کہتے ہوئے تیار ہوئے کہ کل واپس کرجاوں گا، ساتھ میں جو خادم تھے ان کو کتاب پکڑادی ۔ تعجب اس پر ہوا کہ ڈھائی پونے تین سو صفحات کی کتاب رات بھر میں پڑھ کر صبح حضرت کے خادم کتاب واپس کرگئے ۔

Advertisement
Advertisement

اسی طرح حضرت قاری صاحب کو اللہ تعالی نے لوگوں کے اذھان کے مطابق مشکل معاملات کے تفہیم کی صلاحیت بھی وافر مقدار میں بخشی تھی ۔ پڑھنے کے زمانے میں ہی ایک مرتبہ میں نے پوچھا کہ جماعت اسلامی سے ہم لوگ کیوں اختلاف رکھتے ہیں؟  ” فرمایا کہ شریعت کا ایک مزاج ہے، اس کی تعبیر وہی معتبر ہوگی جس کا سلسلہ صحابہ کرام، تابعین، دیگر اسلاف امت سے ہوتا ہوا نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم تک پہونچتا ہے ۔ دین کی ایسی تعبیر جو اسلاف میں سے کسی نے نہیں کی وہ بظاہر کتنی ہی نیک نیتی سے کی جائے اس کو قبول نہیں کیا جائےگا ۔فرمایا ، جیسے نماز ہے وہ شریعت کا ایک اہم اور مستقل فریضہ ہے،  اب اگر کوئی اصرار کے ساتھ یہ کہتا ہے شریعت نے نماز کو اس لئے فرض کیا ہے، کہ دن میں پانچ وقت ورزش ہوجائے، جمعہ اور عیدین کی جماعت سے دشمنان اسلام کے سامنے دین کی شوکت کا اظہار ہو، مسلمانوں کے اندر ڈسپلن آجائے تاکہ جہاد میں صف بندی کی مشق ہوتی رہے ، اور اطاعت امام کا جذبہ بھی پیدا ہو ۔  ظاہر ہے ایسی تشریح جو کہیں سے منقول نہیں کسی طرح قابل قبول نہیں ہوسکتی ـ ” نماز ایک مستقل فرض ہے، اگر صرف ورزش، جہاد وغیرہ ہی اس کا مقصد ہوتا، تو علالت میں بیٹھ کر،کبھی لیٹ کر نماز کی ضرورت نہیں تھی ۔

فرمایا، مودودی صاحب نے بھی کئی معاملات میں سواد اعظم سے الگ موقف اختیار کیا ہے ، مثلا ان کی مشہور کتاب خلافت ملوکیت کے آغاز میں انھوں نے کچھ قرانی آیات نقل کی ہیں، ترجمہ بھی دیا ہے ـ آپ اُن کا ترجمہ دیکھیں اور اسی آیت کاترجمہ جو دیگر مفسرین نے کیا ہے دیکھیں آپ کو مودودی صاحب کی نئی تعبیر کا اندازہ ہوجائے گا ۔

ہاں یاد آیا! مولانا عطاءالرحمان وجدی کا نام آپ نے سنا ہوگا، ایک زمانے میں جماعت اسلامی کے بڑے لوگوں میں سے تھے، بانی جماعت سے اختلاف کے بعد الگ ہوئے، اپنی جماعت” وحدت اسلامی ” بنائی، اب بھی قائم ہے، مہاراشٹر کے کچھ علاقوں میں سرگرم بھی ہے ـ سہارنپور کے رہنے والے تھے ۔ ایک مرتبہ ان کی جماعت نے اورنگ آباد میں ایک بڑا کنونشن کیا، علماء کونسل کی طرف سے میں نے شرکت کی، اور وحدتِ امت کے عنوان پر ایک مقالہ پیش کیا، الحمدللہ مقالہ بہت پسند کیا گیا، وجدی صاحب نے اپنی پیرانہ سالی کے باوجود کھڑے ہوکر مجھے گلے لگایا، پیٹھ تھپ تپا کر شاباشی دی ۔

دوسرے دن صبح واپسی تھی، اپنی گاڑی سے گیا تھا ـ سوچا چلتے چلتے وجدی صاحب سے ملاقات کرلی جائے، چنابچہ ہوٹل سے چیک آوٹ کرکے اُن کی قیام گاہ پہونچا، ملاقات ہوئی، چائے وغیرہ کے دوران مزید تعارف ہوا، جب اُنھیں معلوم ہوا کہ میری فراغت دارالعلوم دیوبند سے ہے تو مزید خوشی کا اظہار کیا ۔ پھر کہنے لگے ” برسوں پہلے دیوبند میں اسٹرائیک ہوئی تھی، کچھ طلبا الگ کئے گئے تھے، ان میں کچھ طلبا سہارنپور میں کسی دوسرے مدرسے میں داخلے کی کوشش کررہے تھے، کسی شناسا کے ذریعے میرے گھر پہونچے، ایک رات قیام بھی کیا، اُن میں شبیر نام کا ایک نابینا لڑکا بھی تھا، انتہائی قابل اور ذہین تھا، نابینا ہونے کے باوجود مطالعے کا شوقین، میری اجازت سے میری ڈھیر ساری کتابوں کو اپنے ایک ساتھی کے ذریعے اُلٹ پلٹ کر دکھواتا اور جستہ جستہ تقریبا رات بھر پڑھواتا رہا ـ پتہ نہیں آج کل کہاں ہے، اس کے بعد ملاقات نہیں ہوئی ۔”  میں نے جب بتایا کہ وہ قاری شبیرصاحب ہیں، بہار میں ایک مدرسے کے مہتمم ہیں، کامیابی سے مدرسہ چلا رہے ہیں ـ یہ سنکر انھوں نے اطمینان کا اظہار کیا، کہنے لگے کہ "مجھے بہت تعجب ہوا تھا کہ اتنا قابل لڑکا کیسے ان ہنگاموں میں پڑگیا ۔”

Advertisement
Advertisement

یہ واقعہ میں نے اس لئے بھی نقل کیا کہ حضرت قاری شبیرصاحب کی طالبعلمی کے زمانے میں ان کی قابلیت پر اکابرین دارالعلوم کی فکری اختلاف رکھنے والے ایک جہاں دیدہ عالم کے تاثرات سامنے آجائیں ۔ سچ ہے ” پوت کے پاوں پالنے میں ہی نظر آنے لگتے ہیں ۔”

اب وہ دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں، یقین ہے ان کے ہزاروں شاگرد، ان کا مدرسہ ان کے لئے صدقہ جاریہ ثابت ہونگے ـ اللہ تعالی انھیں اعلی علیین میں جگہ عطافرمائے، تمام پسماندگان کو صبرجمیل عطا کرے ۔

اس کا تبسم اس کا ترنم اس کی تجلی پائے تو
پریم پجاری پریم نگر تک منزل منزل جائے تو

Eastern

Eastern

Staff writer at Eastern Crescent Urdu.

View all posts →

Comments (0)

Leave a Comment

اوپر تک سکرول کریں۔