”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل مسعود
ای نیوز ڈیسک
4 جنوری 2026
ممبئی____ آج بروز اتوار، 4 جنوری 2026 کو مرکزالمعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی میں امسال کا فائنل تقریری مسابقہ نہایت تزک و احتشام، علمی وقار اور فکری سنجیدگی کے ساتھ منعقد ہوا۔ اس مسابقے میں طلبہ نے حالاتِ حاضرہ سے ہم آہنگ، متنوع اور فکر انگیز موضوعات پر پُرجوش اور پُراعتماد تقاریر پیش کر کے اپنی علمی و خطابی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
پروگرام کی نظامت کے فرائض مولانا سلمان عالم قاسمی نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ انہوں نے اپنے ابتدائی کلمات میں مرکزالمعارف کی بنیاد، اس کے تعلیمی وژن اور مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہاں کے فارغین آج ملک کی تقریباً تمام بڑی یونیورسٹیوں، کالجوں اور مدارس کے ساتھ ساتھ دنیا کے درجنوں ممالک میں علمی، تعلیمی اور دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
پروگرام کا آغاز قاری انعام الحسن قاسمی کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد مولانا حسنین ربانی کی نعتِ رسول ﷺ نے محفل کو روحانی کیف و سرور سے بھر دیا۔
یہ تقریری مسابقہ دو مراحل پر مشتمل تھا۔ پہلا راؤنڈ گزشتہ روز سنیچر کو منعقد ہوا، جس میں تیس طلبہ نے شرکت کی۔ پہلا مرحلہ دو گروپوں میں تقسیم تھا، جہاں سے ہر گروپ سے چار چار طلبہ کا انتخاب عمل میں آیا۔ یوں فائنل راؤنڈ میں آٹھ منتخب طلبہ نے اپنی خطابی مہارتوں کا شاندار مظاہرہ کیا۔
مسابقے میں بطور حکم مرکزالمعارف کے سینئر لیکچرر اور سابو صدیقی انجینئرنگ کالج کے سابق پروفیسر جناب عارف انصاری صاحب، سابق ایئر انڈیا آفیسر جناب سہیل مسعود صاحب اور مفتی طہٰ قاسمی جو مختلف زبانوں کے ماہر اور دھان باڑی مسجد، بھنڈی بازار، ممبئی میں امام و خطیب ہیں نے شرکت کی۔ پروگرام کی صدارت آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن، جناب حافظ اقبال چونا والا نے فرمائی، جبکہ ملت ٹائمز کے چیف ایڈیٹر جناب شمس تبریز قاسمی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کر کے پروگرام کو وقار بخشا۔ مرکزالمعارف کے انچارج مولانا عتیق الرحمن قاسمی اور مرکزالمعارف مسجد کے ٹرسٹی جناب جعفر بھائی کی موجودگی نے بھی طلبہ کی حوصلہ افزائی میں اہم کردار ادا کیا۔
طلبہ کی تقاریر کے بعد حکم حضرات نے ان کی محنت، اعتماد اور فکری پختگی کو سراہتے ہوئے قیمتی مشورے دیے۔ مفتی طہٰ قاسمی نے تاکید کی کہ تقاریر ہمیشہ مکمل تیاری کے ساتھ کرنی چاہئیں اور بغیر تیاری کے خطاب سے گریز کرنا چاہیے۔ جناب سہیل مسعود صاحب نے طلبہ کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ تقریر میں صرف لہجے پر نہیں بلکہ سامعین کی توجہ برقرار رکھنے اور مواد میں گیرائی پیدا کرنے پر بھی خصوصی توجہ دی جانی چاہیے، ورنہ تقریر اپنا اثر کھو دیتی ہے۔ پروفیسر عارف انصاری صاحب نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی میدان میں تو شاید سوال نہ ہو، لیکن عملی زندگی اور سماجی خدمت کے میدان میں آپ سے سوالات ضرور کیے جائیں گے، اس لیے تقریر کی تیاری کے وقت مختلف زاویوں سے خود سے سوال کرنا اور ان کے جوابات تقریر میں شامل کرنا بے حد ضروری ہے۔
بعد ازاں نتائج کا اعلان کیا گیا، جس کے مطابق مولوی توثیق الرحمن نے پہلی پوزیشن حاصل کی، مولوی قمر الحسین دوسری اور مولوی محمد رئیس نے تیسری پوزیشن اپنے نام کی۔
مہمانِ خصوصی جناب شمس تبریز قاسمی نے اپنے خطاب میں طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ علماء ہیں اور ایک اضافی زبان سے واقفیت نے آپ کی ذمہ داریوں کو مزید بڑھا دیا ہے—چاہے وہ دعوت کا میدان ہو، مدارس کی نمائندگی ہو یا اسلام کے پیغام کی اشاعت۔ اب آپ کے لیے عملی میدان میں کام کا دائرہ وسیع ہو چکا ہے، جس کے لیے مسلسل جدوجہد، مضبوط اعتماد، واضح وژن، منصوبہ بندی اور عملی تجربات ناگزیر ہیں، کیونکہ یہی کامیابی کی اصل کنجیاں ہیں۔
آخر میں صدرِ پروگرام جناب حافظ اقبال چونا والا کی پُراثر دعا پر پروگرام اختتام پذیر ہوا۔
اس کامیاب اور یادگار پروگرام کے انعقاد میں مولانا اسلم جاوید قاسمی اور مولانا محمد توقیر رحمانی نے اپنی ٹیم کے ساتھ گراں قدر خدمات انجام دیں۔