گلزار اعظمی ہمت و شجاعت کا پہاڑ
گلزار اعظمی کی وفات:
از قلم: ڈاکٹرارشد قاسمی
ممبئی کا تجارتی شہر، بھنڈی بازار کی پر رونق گلیاں اور ان گلیوں میں ایک میانہ قد ، وجیہ پرسنالٹی کا مالک ،بالکل سپید رنگت ، سادگی کا پیکر ، بلیک کلر کی اصلاحی ٹوپی، رنگین کرتا ، لنگی میں ملبوس ، پان سے سرخ دہن و ہونٹ اور اسکی کچھ چھینٹیں سفید ڈاڑھی کے کچھ بالوں پر اور بسا اوقات کرتے پر بھی ۔ آج سے قبل تک ان خصوصیات کا حامل کہیں اخبار میں مستغرق، یا موبایل پر نیوز سنتا کوئی شخص کہیں نظر آجائے تو آپ اسے گلزار اعظمی کہ سکتے تھے ۔
۲۰۱۰ سے ٢٠١٢ تک صابو صدیق ہاسپیٹل بھنڈی بازار میں ملازمت کے دوران شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا جب انکی زیارت نہ ہوتی ۔ میری ہاسپیٹل ڈیوٹی صبح نو بجے شروع ہوتی مگر میں ساڑھے آٹھ بجے جمعیت آفس پہنچ جاتا اور آدھا گھنٹہ اخبار بینی میں صرف کرتا ۔ اس دوران الحاج گلزار اعظمی صاحب کی مصروفیات بھی دیکھتا ۔آپ جمعیت علماء قانونی امدادی کمیٹی کے ذمہ دار تھے بلکہ انھیں قانونی امدادی کمیٹی کا بانی کہا جائے تو بہتر ہوگا چنانچہ ملک بھر کے متاثرین ان سے ملنے آتے کبھی دیکھتا وکلاءسے صلاح و مشورہ کررہے ہیں کیسز کی باریکیاں سمجھ رہے ہیں کراس کوشچننگ کررہے ہیں کبھی کسی حبس بیجا کے شکار اہل خانہ سے مظلومیت کی داستان سن رہے ہیں آنسو پوچھ رہے ہیں داد رسی کررہے ہیں حوصلہ دے رہے ہیں قانونی امداد کے ساتھ مستحق اہل خانہ کو مالی امداد جارے کرنے کا حکم بھی دے رہے ہیں ۔کبھی دیکھتا پریس کا نفرنس کررہے ہیں اور نپی تلی زبان میں میڈیا اہلکاروں کو مسکت جواب دے رہے ہیں۔ جب کبھی کسی اسیر کی رہائ ہوتی تو وہ جیل سے سیدھا جمعیت آفس پہنچتا اس وقت گلزار صاحب کی خوشی دیدنی ہوتی چہرہ چمک رہا ہوتا سب کا استقبال کرتے گلے ملتے اور پھر میڈیا کو بریفنگ دیتے ۔
گلزار اعظمی صاحب عالم تو نہیں تھے عصری تعلیم یافتہ بھی نہیں تھے ۔مگر وہ اپنے سینے میں ملت کے لئے دھڑکتا دل رکھتے تھے بلاشبہ فراست ایمانی کے نور سے مزین تھے وہ ہمت وشجاعت کے پہاڑ تھے حق گو تھے اور اپنی بات ببانگ دہل کہتے تھے وہ قانونی داو پیچ کو ایک وکیل سے زیادہ جانتے اور برتتے تھے وہ بڑے سے بڑے آفیسر کے سامنے کبھی جھکتے تھے نہ ڈرتے تھے اور نہ تملقانہ انداز اختیار کرتے تھے ۔ میں نے کئ بار ان سے سنا کہ انکی زندگی معصوم اسیروں کی رہائ کے لئے وقف ہوچکی ہے بلاشبہ یہی مشن ہی انکا اوڑھنا بچھونا تھا انکی اپنی کوئی ذاتی زندگی نہیں تھی انکی ہر صبح کسی امید کے ساتھ ہوتی مگر ہر شام کوئی نیا چیلینج انکا منتظر ہوتا ۔
وہ معصوموں کی رہائی کا جو صبر آزما کانٹوں بھرا چیلینج لیکر کھڑے ہوئے تھے اسکا ہر قدم زندگی سے زیادہ موت سے قریب تھا، مگر انکے چہرہ پر کبھی خوف کا سایہ نہیں دیکھا گیا ۔ وہ حکومتوں اور انکی ایجینسیوں کو عدالت میں چیلینج کرتے تھے مگر دھمکیوں کا انکے اعصاب پر کوئی اثر محسوس نہیں ہوتا تھا ۔ وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اس یقین کے ساتھ جیتے تھے کہ موت کے متعینہ وقت سے قبل کوئی موت نہیں دے سکتا۔ میں جب بھی انھیں دیکھتا یہی سوچتا تھا شہادت انکا مقدر بنے گی ۔۔۔مگر ایسا نہیں ہوا۔
اسیروں کی آس ، مظلوموں کی امید، دکھے دلوں کا مرہم اور بے یارو مددگار آنکھوں کا یقین، بیوگی کی طرح زندگی گزارنے والی سیکڑوں خواتین کا سہارا گلزار اعظمی اب مرحوم ہوگئے ۔ اللہ انکی خدمات کو قبول فرمائے انکی آخرت کی ساری منزلیں آسان فرمائے جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے۔ آمین!
https://urdu.easterncrescent.net/hindustan-ki-tahrike-azadmi/
You May Also Like
فیچرخانقاہ رائے پور کا روحانی سفر
اسجد عقابی مضمون نگار دارالعلوم وقف دیوبندمیں شعبہ انگریزی کے استاذ ہیں۔ مرکز المعارف...
فیچرحضرت مولانا عبدالعلیم فاروقی مدظلہ سے یادگار ملاقات
ناصرالدین مظاہری ہمارے علاقہ اودھ ہی کے نہیں پورے ملک کے ممتاز علماء کی...
فیچرممبئی میں جاری چھبیسواں قومی اردو کتاب میلہ میں 'علما کا اردو ادب' کے عنوان پر شاندار پروگرام کا انعقاد
معاذ مدثر قاسمی ممبئی، 7/ جنوری: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی...
Uncategorizedمرے ہاتھ لگ گئی ہے ترے گھر کی کچھ سیاہی
عبدالعلیم قاسمی بارہ بنکوی مضمون نگار شانتی نکیتن انڈین اسکول دوحہ، قطر میں اسلامیات...
مزاح و مذاق شریعت کے آئینے میں
مدثر احمد قاسمی معاشرے میں خوشگوار ماحول پیدا کرنے اور کبھی تفریح طبع کے...
ووٹر لسٹ میں نام درست کرنے اور جوڑنے کا عمل جاری ہے
مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی ہمارے ملک کے آئین نے ہر بالغ شہری کو...

Comments (4)
Leave a Comment
[…] گلزار بھائی کی خصوصیت یہ رہی کہ اس طرح کے متعدد جھگڑوں کے باوجود ہمارے لئے اُنھوں نے اپنے دل میں کوئی بغض نہیں رکھا، چونکہ ہم بھی اُن کے مزاج سے واقف تھے اِس لئے اکثر ہم ہی فون کرکے بات چیت کی پہل کرلیا کرتے تھے، ایسا بھی ہوا ہے کہ اُنھوں نے فون کیا یا کہیں سامنا ہوا تو مخاطب کرکے خیریت دریافت کرلی، اور پھر تعلقات معمول پر لوٹ آئے ـ اُن کے بڑکپن کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ ہم سے عمر میں بہت بڑے ہونے کے باوجود ہمیشہ ” محمود بھائی ” کہتے رہے ـ […]
Your place is valueble for me. Thanks!…
Great job on this
Super helpful