”اختلافِ رائے علم و تحقیق کے پوشیدہ گوشوں کو منکشف کرتی ہے“ (محمد برہان الدین قاسمی)
ای سی نیوز ڈیسک
12 اپریل 2026
"اسلام میں عورتوں کی خدمات” کے عنوان سے ایم بی ایم سی آڈیٹوریم، میرا روڈ (ایسٹ) میں ایک فکر انگیز اور علمی پروگرام منعقد ہوا، جس کا مقصد اسلامی تاریخ میں خواتین کے نمایاں کردار کو اجاگر کرنا اور موجودہ دور میں ان کی مثبت و فعال شرکت کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔
پروگرام کا آغاز IIWA کی صدر عظمیٰ ناہید کے تمہیدی خطاب سے ہوا، جس میں انہوں نے زندگی کے مختلف شعبوں میں خواتین کی خدمات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے قرآنی آیت (الرجال قوامون علی النساء) کی وضاحت کرتے ہوئے “قوام” کے مفہوم کو محافظ اور کفیل کے طور پر بیان کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اسلام میں مرد کو عورت پر فوقیت نہیں بلکہ اس کی حفاظت اور کفالت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
عالمی شہرت یافتہ برطانوی اسلامی اسکالر ڈاکٹر محمد اکرم ندوی نے اپنے کلیدی خطاب میں مختلف مذاہب میں خواتین کے تاریخی مقام کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام مذاہب نے کسی نہ کسی حد تک خواتین کو پسماندگی کا شکار بنایا، جب کہ اسلام نے انہیں عزت، وقار اور حقوق عطا کیے۔ انہوں نے بالخصوص فقہ اور حدیث کے میدان میں خواتین کی نمایاں خدمات کا ذکر کیا اور خواتین محدثات کے کردار کو اجاگر کیا، جنہوں نے احادیثِ نبویہ کی حفاظت اور اشاعت میں اہم کردار ادا کیا۔

اپنے صدارتی خطاب میں مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی کے ڈائریکٹر مولانا محمد برہان الدین قاسمی نے علمی اختلافات کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ محققین اور مجتہدین کے درمیان اختلافِ رائے سے تحقیق کے نئے دروازے کھلتے ہیں اور یہ علمی ترقی کا ذریعہ بنتا ہے، تاہم بغیر تحقیق کے کسی کی اندھی تقلید درست نہیں۔ اختلافِ رائے دراصل فکر کی جمود شکن قوت ہے، جو تحقیق کے نئے افق روشن کرتی اور علم کے پوشیدہ گوشوں کو منکشف کرتی ہے۔ نہوں نے تاریخ کے تناظر میں تعلیم، طب، معیشت، سماجیات اور ادب کے میدانوں میں خواتین کی گراں قدر خدمات کو بھی اجاگر کیا۔
اس پروگرام میں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے علماء اور خواتین نے شرکت کی، جس سے یہ پیغام ملا کہ اسلامی تعلیمات کے دائرے میں رہتے ہوئے خواتین کے کردار کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
