موبائل کی کشش اور تربیت کی ذمہ داری

Eastern
11 Min Read
40 Views
11 Min Read

موبائل کی کشش اور تربیت کی ذمہ داری

از: محمد توقیر رحمانی
لیکچرر: مرکز المعارف، ممبئی

اکثر والدین یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کا بچہ بات نہیں مانتا، ہر وقت موبائل یا اسکرین میں گم رہتا ہے، اور اسے اس لت سے کیسے نکالا جائے، یہ سوال انہیں مسلسل پریشان رکھتا ہے۔ مگر اکثر اس پریشانی میں وہ اس بنیادی حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ کوئی بھی عادت اچانک پیدا نہیں ہوتی؛ وہ آہستہ آہستہ سہولت کے چھوٹے چھوٹے فیصلوں سے جنم لیتی ہے۔ جو چیز ابتدا میں وقتی سکون کا ذریعہ محسوس ہوتی ہے، وہی رفتہ رفتہ ایک مستقل ضرورت بن جاتی ہے۔ عام طور پر ابتدا یوں ہوتی ہے کہ بچہ روتا ہے، ضد کرتا ہے یا بے چین ہوتا ہے، اور اسے خاموش کرانے کے لیے سب سے آسان راستہ موبائل تھما دینا سمجھا جاتا ہے۔ چند لمحوں میں خاموشی لوٹ آتی ہے، اور والدین یہ محسوس کرتے ہیں کہ مسئلہ حل ہوگیا۔ لیکن یہی آسان تدبیر جب بار بار دہرائی جاتی ہے تو بچے کے ذہن میں ایک خاموش تعلق قائم ہو جاتا ہے کہ بے چینی کا علاج، اکتاہٹ کا مداوا اور سکون کا ذریعہ یہی اسکرین ہے۔ پھر وہ ہر چھوٹی بڑی خلش میں اسی طرف رجوع کرتا ہے۔

بچے کا ذہن نرم مٹی کی مانند ہوتا ہے؛ جس سانچے میں اسے ڈھالا جائے، وہ اسی شکل کو اختیار کر لیتا ہے۔ جب اسے مسلسل یہ تجربہ ہو کہ تفریح، سکون اور توجہ کا مرکز موبائل ہے، تو آہستہ آہستہ یہ عادت اس کی طبیعت کا حصہ بن جاتی ہے۔ پھر چند لمحے خاموش بیٹھنا، کتاب سے تعلق جوڑنا یا کسی سنجیدہ مشغلے میں دل لگانا اس کے لیے دشوار محسوس ہونے لگتا ہے۔ کچھ عرصے بعد والدین کو احساس ہوتا ہے کہ بچہ موبائل کا عادی ہو چکا ہے، اور وہ فوری حل تلاش کرنے لگتے ہیں۔ مگر یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ بچہ اسکرین کا عادی کیسے ہوا؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس کے ذہن کو سکون اور دلچسپی کے معنی کس نے سکھائے؟ کیونکہ تربیت نصیحت سے کم اور ماحول کی خاموش تکرار سے زیادہ جنم لیتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں مسئلہ صرف ایک عادت کا نہیں رہتا، بلکہ پورے تربیتی رویّے پر غور کا تقاضا کرتا ہے۔

Advertisement
Advertisement

جب کسی عادت کی جڑیں طبیعت میں اتر جائیں تو پہلا ردِّعمل عموماً بے صبری کا ہوتا ہے۔ انسان فوراً نتیجہ چاہتا ہے۔ والدین بھی یہی چاہتے ہیں کہ آج فیصلہ کریں اور کل سے بچہ بدل جائے۔ یہ خواہش اپنی جگہ فطری ہے، کیونکہ ہر باشعور انسان اپنے اندر، اپنے ماحول میں اور اپنی اولاد میں بہتری دیکھنا چاہتا ہے۔ مگر زندگی کا ایک اٹل اصول یہ ہے کہ جو چیز تدریج کے ساتھ بنتی ہے، اس کی اصلاح بھی تدریج ہی سے ہوتی ہے۔ تبدیلی کا عمل کسی بٹن دبانے سے وقوع پذیر نہیں ہوتا؛ یہ شعور، صبر اور تسلسل کے اشتراک سے جنم لیتا ہے۔ جس طرح ایک بیج کو درخت بننے میں موسموں کی گردش درکار ہوتی ہے، اسی طرح ایک غلط عادت کے ازالے کے لیے بھی وقت، حکمت اور استقامت ناگزیر ہیں۔ اگر ایک بچہ آہستہ آہستہ موبائل کی طرف مائل ہوا، پھر اس سے مانوس ہوا، اور آخرکار وہ اس کی طبیعت کا حصہ بن گیا، تو یہ سب ایک دن میں نہیں ہوا۔ یہ ایک خاموش سفر تھا، جس میں ہر دن کی چھوٹی سی رعایت نے مل کر ایک مضبوط عادت کی صورت اختیار کرلی۔ اب اگر والدین یہ چاہیں کہ اسی مضبوط عادت کو ایک ہی جھٹکے میں توڑ دیا جائے، تو یہ ایسے ہی ہے جیسے برسوں سے بہتے ہوئے دریا کا رخ ایک لمحے میں موڑنے کی کوشش کی جائے۔ دریا کا رخ بدلا جا سکتا ہے، مگر اس کے لیے نئی نہر کھودنی پڑتی ہے، راستہ بنانا پڑتا ہے اور پانی کو تدریج کے ساتھ نئے بہاؤ کا عادی بنانا پڑتا ہے۔ یہی اصول بچوں کی تربیت پر بھی صادق آتا ہے۔

اس تبدیلی کی ابتدا گھر کے ماحول سے ہوتی ہے، کیونکہ ماحول وہ خاموش معلم ہے جو بغیر بولے تعلیم دیتا ہے۔ اگر گھر کی فضا ہر لمحہ اسکرینوں کی روشنی میں ڈوبی ہو، اگر ہر فرد اپنی الگ دنیا میں گم ہو، تو بچے سے یہ توقع رکھنا کہ وہ خود کو اس کشش سے بچا لے گا، فطرت کے خلاف مطالبہ ہے۔ اس لیے سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ گھر کو حتی الامکان موبائل فری ماحول دیا جائے جہاں موبائل صرف ضرورت کا آلہ ہو، زندگی کا مرکز نہ ہو۔ بچے کے سامنے غیر ضروری استعمال سے گریز کیا جائے۔ جب وہ دیکھے گا کہ اس کے والدین گفتگو، مطالعہ، باہمی تعلق اور عملی مشغولیات کو ترجیح دیتے ہیں تو وہ غیر محسوس طریقے سے اسی طرزِ زندگی سے اثر قبول کرے گا، کیونکہ بچے کانوں سے کم اور آنکھوں سے زیادہ سیکھتے ہیں۔ صرف کسی چیز کو چھین لینا مسئلے کا حل نہیں ہوتا، جب تک اس کا بہتر متبادل فراہم نہ کیا جائے۔ انسانی فطرت خلا کو برداشت نہیں کرتی؛ اگر ایک دروازہ بند کیا جائے تو دوسرا کھولنا پڑتا ہے۔ بچے سے موبائل لے کر اگر اسے تنہائی، اکتاہٹ اور بے سمتی کے حوالے کردیا جائے تو وہ لازماً اسی طرف لوٹنے کی کوشش کرے گا۔ اس کے برعکس اگر اس کے لیے کھیل، تخلیقی سرگرمیاں، باہمی گفتگو، جسمانی مصروفیات اور دلچسپ مشغلے فراہم کیے جائیں تو اس کی توجہ فطری طور پر تقسیم ہونے لگتی ہے۔ ذہن کو جس لذت کا بہتر نعم البدل مل جائے، وہ پہلی کشش کی گرفت سے نکلنا شروع کر دیتا ہے۔

Advertisement
Advertisement

اسی سلسلے کی ایک نہایت اہم کڑی مطالعے کی عادت ہے۔ کتاب محض صفحات کا مجموعہ نہیں، بلکہ وہ خاموش رفاقت ہے جو ذہن کو ارتکاز، تخیل کو وسعت اور شخصیت کو گہرائی عطا کرتی ہے۔ مگر کتاب سے دوستی بھی اچانک پیدا نہیں ہوتی۔ اس کے لیے ماحول بنانا پڑتا ہے۔ اگر والدین خود کتاب کے ساتھ وقت گزاریں، اگر گھر میں روزانہ چند لمحے ایسے ہوں جب سب کچھ تھم جائے اور مطالعہ زندگی کا حصہ بن جائے، تو بچے کے اندر بھی اس طرف رغبت پیدا ہوتی ہے۔ ابتدا صرف چند منٹ سے ہو، تصویروں والی اور اس کی دلچسپی کے مطابق کتابیں ہوں، تو یہی مختصر لمحے رفتہ رفتہ ایک ایسی وابستگی میں بدل سکتے ہیں جو اس کے ذہن کو اسکرین کی سطحی چمک سے نکال کر فکر کی گہرائیوں سے آشنا کردے۔

اس پورے سفر میں ایک بنیادی غلطی وہ ہے جو اکثر اصلاح کے نام پر کی جاتی ہے: سختی، ڈانٹ ڈپٹ، مسلسل تنقید، خوف اور شرمندگی کا ماحول۔ بظاہر یہ طریقے فوری اطاعت پیدا کرتے دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ بچے کے اندرونی اعتماد کو کمزور کرتے ہیں۔ خوف وقتی خاموشی تو پیدا کرسکتا ہے، لیکن شعوری تبدیلی نہیں لاسکتا۔ جس پودے کو مسلسل جھٹکے دیے جائیں، وہ سیدھا ہونے کے بجائے اندر سے کمزور ہوجاتا ہے۔ اسی طرح وہ بچہ جسے ہر لمحہ تنقید کا سامنا ہو، یا تو دب جاتا ہے یا پھر ضد اور بغاوت کو اپنی ڈھال بنا لیتا ہے۔ دونوں صورتوں میں اس کی تخلیقی صلاحیتوں کا راستہ مسدود ہوجاتا ہے۔
اس کے برعکس حوصلہ افزائی ایک ایسی قوت ہے جو شخصیت کے بند دریچے کھول دیتی ہے۔ جب بچے کے اچھے عمل کو بروقت سراہا جاتا ہے، تو اس کے اندر اس عمل کو دہرانے کی رغبت پیدا ہوتی ہے۔ البتہ اس باب میں اعتدال اور شفافیت ناگزیر ہے۔ اگر آج کسی عمل پر تعریف کی جائے اور کل اسی پر ناراضی ظاہر کی جائے تو بچہ ذہنی انتشار کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس کی فطرت تذبذب میں مبتلا ہو جاتی ہے، اور وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہتا ہے کہ درست رویہ آخر ہے کیا۔ تربیت میں یکسانیت وہ روشنی ہے جو بچے کے ذہن کو سمت عطا کرتی ہے۔

Advertisement
Advertisement

آخرکار یہ حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ بچے الفاظ سے زیادہ فضا سے تربیت پاتے ہیں۔ وہ نصیحتوں سے کم اور رویوں سے زیادہ اثر لیتے ہیں۔ اگر والدین خود مثبت ہوں، اپنے معمولات میں توازن پیدا کریں، اپنے رویوں میں شفافیت لائیں اور گھر کو محبت، اعتماد اور فکری نمو کی آماجگاہ بنائیں، تو تبدیلی محض ایک خواہش نہیں رہتی بلکہ ایک تدریجی حقیقت بن جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تربیت حکم سے نکل کر اثر میں ڈھل جاتی ہے، اور بچہ محض موبائل سے دور نہیں ہوتا بلکہ ایک ایسی شخصیت میں ڈھلنے لگتا ہے جو اپنی توجہ، اپنی صلاحیت اور اپنی داخلی دنیا کی اصل قدر کو پہچاننے لگتی ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Trending News

مرکزالمعارف ممبئی میں اکیسواں جلسۂ تقسیمِ اسناد کا شاندار انعقاد

مرکزالمعارف ممبئی میں اکیسواں جلسۂ تقسیمِ اسناد کا شاندار انعقاد ای سی…

Eastern

ایران، عالمی مزاحمت اور مغربی بالادستی کا زوال

ایران، عالمی مزاحمت اور مغربی بالادستی کا زوال از: محمد برہان الدین…

Eastern

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل مسعود

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل…

Eastern

ٹریل بلیزر: فکر، ایمان و سائنس کا سنگم

ٹریل بلیزر: فکر، ایمان و سائنس کا سنگم از____ محمد توقیر رحمانی…

Eastern

ماہ ربیع الاول اور اسوۂ نبوی ﷺ کا تقاضا

ماہ ربیع الاول اور اسوۂ نبوی ﷺ کا تقاضا از____ محمد توقیر…

Eastern

انسان کی تخلیق محض وجود کیلئےنہیں ، خلافتِ ارضی کی عظیم ذمہ داری کیلئے ہے

انسان کی تخلیق محض وجود کیلئےنہیں ، خلافتِ ارضی کی عظیم ذمہ…

Eastern

Quick LInks

موبائل کی کشش اور تربیت کی ذمہ داری

موبائل کی کشش اور تربیت کی ذمہ داری از: محمد توقیر رحمانی…

Eastern

بچے اپنے والدین کے کردار کا عکس ہیں، والدین ہی ان کے خاموش مگر حقیقی معلم و مربی ہیں

بچے اپنے والدین کے کردار کا عکس ہیں، والدین ہی ان کے…

Eastern

آسام اور بنگال میں بی جے پی ہندو اکثریت کو متحد کرنے میں کامیاب رہی

آسام اور بنگال میں بی جے پی ہندو اکثریت کو متحد کرنے…

Eastern