ٹرینڈنگ
عالمی مذاہب میں حیات بعد الممات کا تصور: ایک تقابلی جائزہجولائی ۲۰۲۶: وہ مہینہ جب ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کے زوال سے انکار ناممکن ہو گیا*جنتر منتر احتجاج۔۔۔ اور ہمارے لیے کچھ کام کی باتیںکوکروچ تحریک کی پہلی بڑی کامیابیمعروف سعودی عالمِ دین مفتی محمد عمر شفیق حجازی حفظہ اللہ کا مرکزالمعارف، ممبئی کا دورہدیوبند میں "Concept of Life After Death in World’s Major Religions” کی تقریبِ اجراعالمی یومِ آبادی: مسئلہ آبادی ہے ہی نہیں!اہل ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس اعلی سطحی وفد کی چیف الیکٹورل آفیسر مہاراشٹر سے اہم ملاقاتعالمی مذاہب میں حیات بعد الممات کا تصور: ایک تقابلی جائزہجولائی ۲۰۲۶: وہ مہینہ جب ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کے زوال سے انکار ناممکن ہو گیا*جنتر منتر احتجاج۔۔۔ اور ہمارے لیے کچھ کام کی باتیںکوکروچ تحریک کی پہلی بڑی کامیابیمعروف سعودی عالمِ دین مفتی محمد عمر شفیق حجازی حفظہ اللہ کا مرکزالمعارف، ممبئی کا دورہدیوبند میں "Concept of Life After Death in World’s Major Religions” کی تقریبِ اجراعالمی یومِ آبادی: مسئلہ آبادی ہے ہی نہیں!اہل ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس اعلی سطحی وفد کی چیف الیکٹورل آفیسر مہاراشٹر سے اہم ملاقات

اے آئی عہد میں انگریزی   تدریس میں انسانی رہنمائی کی اہمیت پر آن لائن لیکچر

0%
اے آئی عہد میں انگریزی   تدریس میں انسانی رہنمائی کی اہمیت پر آن لائن لیکچر
تعلیم

اے آئی عہد میں انگریزی   تدریس میں انسانی رہنمائی کی اہمیت پر آن لائن لیکچر

Eastern
1 min read0 views
Save this article for later

اے آئی عہد میں انگریزی   تدریس میں انسانی رہنمائی کی اہمیت پر آن لائن لیکچر

ای سی نیوز ڈیسک
ممبئی، 16 جون 2026

مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر (MMERC)، ممبئی کے زیرِ اہتمام اس سے منسلک ہندوستان بھر کے اداروں کے ڈپلومہ اِن انگلش لینگویج اینڈ لٹریچر (DELL) طلبہ کے لیے ایک اہم آن لائن لیکچر منعقد ہوا۔ اس پروگرام کا موضوع تھا: "انگریزی تدریس میں انسانی (Human Touch) رہنمائی؛ مصنوعی ذہانت (AI) کے دور میں ایک ناگزیر ضرورت”۔

اس موقع پر مہمان لکچرار کی حیثیت سے مولانا مدثر احمد قاسمی، نیشنل کوآرڈینیٹر، ڈپلومہ اِن انگلش لینگویج اینڈ لٹریچر (DELL)، ایم ایم ای آر سی، ممبئی و ڈائریکٹر، الغزالی انٹرنیشنل اسکول، ارریہ (بہار) نے طلباء سے بات کی۔ پروگرام کی نگرانی و نظامت مفتی جسیم الدین قاسمی، لیکچرر، ایم ایم ای آر سی، ممبئی نے انجام دی۔

اس آن لائن لیکچر میں مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی کے طلبہ کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں میں واقع DELL سے منسلک اداروں کے طلبہ و اساتذہ نے بھرپور شرکت کی، جن میں مرکز اسلامی ایجوکیشن اینڈ ریسرچ، سینٹرانکلیشور (گجرات)، مدرسہ اسلامیہ، سورت (گجرات)، مدرسہ اشرف العلوم، شالوک پارہ، ہاوڑہ (بنگال)، جامعہ جلالیہ، وجائی (آسام)، جامعہ دارالحدیث، جے نگر، نوگاؤں (آسام)، المعہد العالی الاسلامی، حیدرآباد، مدرسہ اسلامیہ، بنجاری، اندور (مدھیہ پردیش) اور دیگر ادارے شامل ہیں۔

اے آئی عہد میں انگریزی تدریس میں انسانی رہنمائی کی اہمیت پر آن لائن لیکچر

واضح رہے کہ مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی اور اس سے منسلک ہندوستان بھر کے دس اداروں میں فضلائے مدارس کے لیے دو سالہ ڈپلومہ اِن انگلش لینگویج اینڈ لٹریچر (DELL) کورس چلایا جاتا ہے، جس کا آغاز سن 1994ء میں محسنِ ملت حضرت مولانا بدرالدین اجمل صاحب اور ان کے رفقاء نے کیا تھا۔ اس کورس کا مقصد مدارس کے فضلاء کو دعوتی پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے عصری تقاضوں کے مطابق انگریزی زبان و ادب اور ٹکنالوجی سے آراستہ کرنا ہے۔اس وقت یہ نظام مصنف، صحافی و معلم مولانا محمد برہان الدین قاسمی کی نگرانی میں رواں دواں ہے۔

اپنے لکچر میں مولانا مدثر احمد قاسمی نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات کے تناظر میں اساتذہ کی ناگزیر اہمیت کو مختلف پہلوؤں سے اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ محض معلومات فراہم نہیں کرتے بلکہ طلبہ کی حوصلہ افزائی، ذہنی و جذباتی رہنمائی اور شخصیت سازی کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت بنیادی طور پر معلومات کی فراہمی تک محدود ہے۔

Advertisement

انہوں نے واضح کیا کہ اساتذہ طلبہ کی صلاحیتوں، کمزوریوں اور احساسات کو سمجھ کر ان کی انفرادی رہنمائی کرتے ہیں، ان کے اندر اعتماد پیدا کرتے ہیں اور سیکھنے کے فطری ذوق کو پروان چڑھاتے ہیں۔ مزید برآں اساتذہ حکمت اور بصیرت کے ساتھ طلبہ کی غلطیوں کی اصلاح کرتے ہیں، کردار سازی اور نظم و ضبط کی تربیت دیتے ہیں، جب کہ مصنوعی ذہانت ان پہلوؤں میں انسانی رہنمائی کا متبادل نہیں بن سکتی۔

مہمان لکچرار نے اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلائی کہ مصنوعی ذہانت کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے کے لیے بھی انسانی ذہانت اور رہنمائی درکار ہوتی ہے۔ ان کے مطابق AI معلومات میں اضافہ اور تعلیمی معاونت فراہم کر سکتی ہے، لیکن انسان کی ہمہ جہت تربیت اور زندگی کی تعمیر میں استاد کا کردار بنیادی اور ناقابلِ بدل ہے۔

Advertisement
Advertisement

انہوں نے اپنے لکچر کے اختتام پر کہا کہ موجودہ دور میں کامیابی کا راستہ اساتذہ کی بصیرت اور مصنوعی ذہانت کی وسعت کو یکجا کرنے میں مضمر ہے۔ صرف AI پر انحصار کرنے سے حقیقی اور دیرپا ترقی ممکن نہیں، جبکہ جدید ٹیکنالوجی سے مکمل بے اعتنائی اختیار کرنا بھی وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ لہٰذا متوازن طرزِ فکر اپناتے ہوئے انسانی رہنمائی اور جدید ٹیکنالوجی دونوں سے استفادہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

تقریباً 45 منٹ کے لکچر کے بعد 45 منٹ پر مشتمل سوال و جواب کا سیشن منعقد ہوا، جس میں طلبہ نے موضوع سے متعلق متعدد اہم سوالات پیش کیے۔ مقرر نے نہایت مدلل اور اطمینان بخش جوابات دیے۔ شرکاء نے اس سیشن کو بے حد مفید، بصیرت افروز اور نتیجہ خیز قرار دیا۔

Eastern

Eastern

Staff writer at Eastern Crescent Urdu.

View all posts →

Comments (0)

Leave a Comment

اوپر تک سکرول کریں۔