ٹرینڈنگ
مقبوضہ فلسطین کے عربوں اور ہندوستانی مسلمانوں کی سیاست کا قیاس نامعقول ہےUCC: مسلم پرسنل لا بورڈ نے مہاراشٹر حکومت کے سوالات کے جوابات کے لیے QR کوڈ جاری کیادارالعلوم دیوبند میں رابطہ مدارس اسلامیہ کا کل ہند اجلاس، تعلیمی و انتظامی اصلاحات کے لیے اہم تجاویز منظورممبئی میں علماء کے لیے دو روزہ پیرا لیگل ٹریننگ ورکشاپ کا انعقادقوتِ گویائی ایک عظیم ترین نعمتآذربائیجان کے الہام علیوف اپنی ہی سیاسی قبر کھود رہے ہیںعربی زبان کے نامور ادیب اور کئی نسلوں کے استاذ مولانا سعید الاعظمی کی وفات کا سانحہعقابی  روح رکھنے والے ” قاری شبیر احمد صاحب” رخصت ہوئے ـمقبوضہ فلسطین کے عربوں اور ہندوستانی مسلمانوں کی سیاست کا قیاس نامعقول ہےUCC: مسلم پرسنل لا بورڈ نے مہاراشٹر حکومت کے سوالات کے جوابات کے لیے QR کوڈ جاری کیادارالعلوم دیوبند میں رابطہ مدارس اسلامیہ کا کل ہند اجلاس، تعلیمی و انتظامی اصلاحات کے لیے اہم تجاویز منظورممبئی میں علماء کے لیے دو روزہ پیرا لیگل ٹریننگ ورکشاپ کا انعقادقوتِ گویائی ایک عظیم ترین نعمتآذربائیجان کے الہام علیوف اپنی ہی سیاسی قبر کھود رہے ہیںعربی زبان کے نامور ادیب اور کئی نسلوں کے استاذ مولانا سعید الاعظمی کی وفات کا سانحہعقابی  روح رکھنے والے ” قاری شبیر احمد صاحب” رخصت ہوئے ـ

مقبوضہ فلسطین کے عربوں اور ہندوستانی مسلمانوں کی سیاست کا قیاس نامعقول ہے

0%
مقبوضہ فلسطین کے عربوں اور ہندوستانی مسلمانوں کی سیاست کا قیاس نامعقول ہے
اداریہ

مقبوضہ فلسطین کے عربوں اور ہندوستانی مسلمانوں کی سیاست کا قیاس نامعقول ہے

Eastern
1 min read2 views
Save this article for later

مقبوضہ فلسطین کے عربوں اور ہندوستانی مسلمانوں کی سیاست کا قیاس نامعقول ہے

از: محمد برہان الدین قاسمی
ایڈیٹر: ایسٹرن کریسنٹ

حالیہ اسرائیلی انتخابات میں عرب فلسطینی جماعتوں کے کنگ میکر بننے کی بات سے ہندوستان میں بعض مسلمانوں کا یہ اچھل کود کرنا کہ ’’امام الہند‘‘ کی قیادت میں ہم بھی بادشاہ گر بن جائیں گے، معقول نہیں لگتا۔ کیونکہ کبھی کبھی ایک ہی بیماری کے لیے جگہ، آب و ہوا اور مریض کی جسمانی حالت وغیرہ کے فرق کی وجہ سے دوا اور علاج مختلف اور متنوع ہوتے ہیں۔ سیاسی طور پر اسرائیل کا ہندوستان سے قیاس کرنا تو دور کی بات ہے، ہندوستان کی ایک ریاست کا دوسری ریاست سے قیاس کرنا بھی معقول نہیں ہے۔

جنوبی ہند، خاص طور پر کیرالہ، کے سیاسی حالات اور سوجھ بوجھ شمالی ہند، خاص طور پر یوپی، سے یکسر مختلف ہیں۔ اسی طرح کشمیر، آسام، مغربی بنگال، تلنگانہ، مہاراشٹر اور گجرات وغیرہ کے سیاسی حالات، لوگوں کے باہمی تعلقات اور بین المذاہب روابط بھی الگ الگ ہیں۔ ان سب کو ایک ہی ڈبے میں ڈال کر کوئی پالیسی نہیں بنائی جا سکتی۔ اگر کوئی ایسا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یا تو وہ جان بوجھ کر اپنے فائدے کے لیے غلط راستہ دکھا رہا ہے یا پھر نادانی میں فاش غلطی کر رہا ہے۔

Advertisement
Advertisement

مسلمانوں نیز دنیا بھر کے حقوق انسانی اور فلسطین و غزہ کی حمایت کرنے والوں کے لیے اسرائیل کے انتخابی نتائج سے بہت زیادہ خوش ہونے کی کوئی خاص وجہ نہیں ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ مستقبل قریب میں عرب فلسطینیوں سے ووٹ ڈالنے کا حق بھی چھینا جا سکتا ہے۔ اب تک اسرائیلی کنیسٹ (پارلیمنٹ) میں 8 سے 10 عرب مسلمانوں کی موجودگی سے صہیونیت کو کوئی خاص پریشانی نہیں ہوتی تھی، بلکہ دنیا بھر میں وہ اس بات کی تشہیر کرتے تھے کہ عرب بھی ان کی پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھتے ہیں اور مسلمان بھی وہاں موجود ہیں۔ لیکن اس بار مقبوضہ فلسطین میں آباد عرب آبادی کے 80 سے 85 فیصد افراد کی ووٹنگ نے ان صہیونیوں کو پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ لہٰذا، وہ اس پریشانی کا علاج تلاش کرنے کی کوشش ضرور کریں گے اور غالباً جلد ہی کریں گے۔

مزید یہ کہ موجودہ حزبِ اختلاف کے رہنما آئزنکوٹ سابق اسرائیلی فوجی سربراہ ہیں اور عملی طور پر نتن یاہو سے بھی زیادہ مسلم اور فلسطین دشمن ہیں۔ اب عرب مسلمان نظریاتی طور پر نہ تو نتن یاہو کے ساتھ جا سکتے ہیں اور نہ ہی آئزنکوٹ کے ساتھ جو موجودہ حزبِ اختلاف کا لیڈر ہے۔ دوسری طرف، ان دونوں میں سے کوئی بھی ان عرب مسلمانوں کو خوشی سے اپنے ساتھ جوڑنے کے لیے آمادہ نظر نہیں آتا۔

اب اسرائیل میں تین ہی صورتیں ہو سکتی ہیں:

1. عرب فلسطینیوں کی حمایت سے متحدہ حکومت بنے: اگر ایسی کوئی حکومت بن بھی جاتی ہے تو غالباً بہت کم عرصے کے لیے ہوگی، اور اس سے لڑائی، قتل و غارت گری اور خونریزی میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔

2. ہندوستان کی طرح چھوٹی جماعتوں میں توڑ پھوڑ ہو: دوسری پارٹیوں کے ساتھ ان عرب جماعتوں میں بھی پھوٹ ڈالی جا سکتی ہے۔ واضح رہے کہ عرب فلسطینی بھی کسی ایک جماعت یا ایک سربراہ کے ماتحت نہیں ہیں، اس لیے ان میں سے بعض کو خریدا یا بلیک میل کیا جا سکتا ہے۔

Advertisement
Advertisement

3. دوبارہ انتخابات ہوں: نئے انتخابات بہت جذباتی ماحول میں ہوں گے۔ اس وقت مسلم فلسطینی جماعتوں کو شاید اتنی نشستیں نہ مل سکیں کہ وہ کنگ میکر بن پائیں۔ میرے خیال میں دونوں بڑے اتحادوں میں سے نتن یاہو کا اتحاد دوبارہ جیت سکتا ہے اور اکثریت کے ساتھ حکومت بنا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں نتن یاہو کا پہلا نشانہ وہی عرب اور مسلم سیاسی جماعتیں ہوں گی جو آج اس کے راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

لہٰذا، نہ ہندوستان کی سیاست کا اسرائیل سے قیاس کرنا معقول ہے اور نہ ہی اسرائیل میں عرب فلسطینیوں کی عارضی انتخابی کامیابی ان کے لیے یا فلسطین کے حق میں بہت زیادہ مفید ثابت ہوتی نظر آتی ہے۔

Eastern

Eastern

Staff writer at Eastern Crescent Urdu.

View all posts →

Comments (0)

Leave a Comment

اوپر تک سکرول کریں۔