جنتر منتر احتجاج۔۔۔ اور ہمارے لیے کچھ کام کی باتیں
✍️محمد ابو امامہ قاسمی
1️⃣ سوشل میڈیا کی اہمیت
مین اسٹریم میڈیا کے کور نہ کرنے کے باوجود سوشل میڈیا کے ذریعہ اس تحریک کی آواز ہر ہر شخص تک پہنچی، سارے ایپس کی فیڈ پر یہ چھا گئے،اور ایوان حکومت کو ہلا کے رکھ دیا۔
اس سے موجودہ دور میں سوشل میڈیا کی بڑی اہمیت پھر سے واضح ہوئی ہے، اس لیے ہمیں بھی ان پلیٹ فارمز پر افراد تیار کر کے اتارنے کی ضرورت ہے، ہم جو مضمون نگاری اور تقریر کی مشق کرتے ہیں اسے اپڈیٹ کر کے اور موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھال کر ان پلیٹ فارمز پر لایا جاسکتا ہے، اور موجودہ نسل و اقوام جس زبان کو سمجھتی ہے جیسے انگلش و ہندی اور رومن اردو وغیرہ ان زبانوں میں بھی کام کرنے کی ضرورت ہے، پرنٹ اور ویزیبل میڈیا ہرسطح پر۔
ذرا سی توجہ و ترتبیت سے بہت بڑی تعداد اس کے لیے تیار ہوسکتی ہے، جو لوگ پہلے سے یہاں موجود ہیں اور کام کر رہے ہیں ان کو مربوط۔ ومنظم بھی کیا جاسکتاہے، اس سے اسلام و مسلمان کی بہتر نمائیندگی ہوسکتی ہے۔
ہم جتنی جلدی اس طرف متوجہ ہونگے اتنا ہی بہتر ہوگا، 30 سال پہلے قطر نے اس کی اہمیت کو سمجھا اور الجزیرہ شروع کیا، آج آپ اس کے اثرات کھلی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔

2️⃣ اپنے حصہ کا کام کرتے رہیں
جنید بھائی اور ہماری قوم کے دیگر افراد نے کھانا تقسیم کر کے اور خدمت کر کے وہاں ہماری موجودگی بنائے رکھی، اس سے معلوم ہوا کہ سارے کام کے لیے بڑی جمعیت و تنظیم کے نام و عنوان کے انتظار میں رہنے کی ضرورت نہیں ہے، نہ ہر جگہ ان کا آنا مناسب و مفید ہوتا ہے اور نہ یہ ممکن ہے، اس لیے جس کو جہاں موقع ملے اپنے حصہ و ہمت کے بقدر کام کرتا رہے، اور اپنی اپنی جگہ اسلام کا پرچم اٹھائے رکھے، اس سے اچھے نتائج ملینگے ان شاء اللہ۔
3️⃣ مین اسٹریم گودی میڈیا کی ذلت
مین اسٹریم میڈیا پر قابض گوڈی میڈیا نے اس احتجاج کو پہلے کور نہیں کیا، اور آخری مرحلہ پر جب کور کرنے پہنچے تو ان کو زبر دست ذلت و مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
اس صورتحال نے ہمیں بہت خوش کیا، جو لوگ ہمیں دن رات بدنام کرنے میں لگے تھے، وہ خود ایسی ذلت و بدنامی کے شکار ہوئے کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے، جس نفرت و بدسلوکی اور بائیکاٹ کا سبق وہ اسٹوڈیو میں بیٹھ کر دیا کرتے تھے، وہ خود اس کے شکار ہوئے ۔

اور یہ بھی واضح ہوا کہ ان کی ہزار کوشش و محنت کے بعد بھی بڑا طبقہ ایسا موجود ہے جو سچائی و حقیقت کو جانتا اور سمجھتا ہے، اس لیے ہمیں نا امید ہوئے بغیر اپنا کام کرتے رہنے کے ضرورت ہے۔
