ٹرینڈنگ
خودکشی کا بڑھتا رجحان: اسباب، پس منظر اور تدارکمشرقِ وسطیٰ میں امریکہ-اسرائیل اتحاد کو ایک اور بڑا دھچکامرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقادشیخ محمد یحییٰ باسکندی کی مرکز المعارف، ممبئی آمد؛ طلبہ سے خطاب، تعلیم، تزکیہ اور تعلق مع اللہ کی اہمیت پر زورکیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!تحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باباسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانیملی اداروں کا مستقبل اور نوکِ قلم پر لٹکتی تلوار: ایف سی آر اے (FCRA) ترمیمی بل 2026 کا ایک تجزیہخودکشی کا بڑھتا رجحان: اسباب، پس منظر اور تدارکمشرقِ وسطیٰ میں امریکہ-اسرائیل اتحاد کو ایک اور بڑا دھچکامرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقادشیخ محمد یحییٰ باسکندی کی مرکز المعارف، ممبئی آمد؛ طلبہ سے خطاب، تعلیم، تزکیہ اور تعلق مع اللہ کی اہمیت پر زورکیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!تحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باباسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانیملی اداروں کا مستقبل اور نوکِ قلم پر لٹکتی تلوار: ایف سی آر اے (FCRA) ترمیمی بل 2026 کا ایک تجزیہ

خودکشی کا بڑھتا رجحان: اسباب، پس منظر اور تدارک

0%
خودکشی کا بڑھتا رجحان: اسباب، پس منظر اور تدارک
سماج

خودکشی کا بڑھتا رجحان: اسباب، پس منظر اور تدارک

Eastern
1 min read10 views
Save this article for later

خودکشی کا بڑھتا رجحان: اسباب، پس منظر اور تدارک

از: محمد توقیر رحمانی

آخر وہ کون سا لمحہ ہوتا ہے جب انسان، جو زندگی سے محبت کرتا ہے، اپنی ہی زندگی کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیتا ہے؟ وہ ہاتھ جو کبھی اپنے پیاروں کا ہاتھ تھامنے کے لیے اٹھتا تھا، ایک دن اپنی زندگی کا چراغ بجھانے کی طرف کیوں بڑھ جاتا ہے؟ وہ دل جو کل تک مستقبل کے خواب دیکھ رہا تھا، اچانک کیوں سمجھنے لگتا ہے کہ آگے صرف اندھیرا ہے؟ اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ایسا انسان واقعی زندگی کا خاتمہ چاہتا ہے، یا وہ اس ناقابلِ برداشت تکلیف سے نجات چاہتا ہے جس سے نکلنے کا کوئی راستہ اسے دکھائی نہیں دے رہا؟

خودکشی صرف ایک فرد کی موت کا واقعہ نہیں؛ یہ اس فرد کے گرد موجود خاندان، تعلقات، معاشرتی ماحول اور ذہنی کیفیت کا بھی ایک دردناک آئینہ ہے۔ اس کے پیچھے اکثر ایک ایسا بحران ہوتا ہے جو باہر سے دکھائی نہیں دیتا۔ شدید ناامیدی، مسلسل ذہنی دباؤ، تنہائی، رشتوں کی شکست، مالی مشکلات، تعلیمی یا پیشہ ورانہ ناکامی، ازدواجی مسائل، تشدد، سماجی تحقیر، نشہ، ذہنی بیماری اور اچانک پیش آنے والے شدید واقعات انسان کی برداشت کو اس مقام تک پہنچا سکتے ہیں جہاں اسے اپنی تکلیف سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ اسی لیے خودکشی کو محض بزدلی، کمزور ارادے یا ایمان کی کمی قرار دینا مسئلے کو سمجھنے کے بجائے اسے مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ بعض اوقات ایک شخص کو نصیحت سے پہلے سماعت، فیصلے سے پہلے ہمدردی اور ملامت سے پہلے مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

دنیا میں خودکشی ایک اہم عوامی صحت کا مسئلہ ہے۔ عالمی سطح پر ہر سال لاکھوں افراد خودکشی کے نتیجے میں اپنی جان سے محروم ہوتے ہیں، جب کہ اس سے کہیں زیادہ لوگ خودکشی کے خیالات یا کوششوں کے مرحلے سے گزرتے ہیں۔ لیکن اعداد و شمار صرف مسئلے کا حجم بتاتے ہیں؛ وہ اس درد کی پوری کہانی نہیں بتاتے جس سے گزر کر کوئی شخص اس مقام تک پہنچتا ہے۔ یہاں ایک غلط فہمی کو دور کرنا بھی ضروری ہے کہ "غیر مسلموں میں خودکشی زیادہ ہوتی ہے”۔ اس طرح کا مطلق دعویٰ علمی طور پر درست نہیں۔  لیکن اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں، کیونکہ اعداد و شمار اسی کی ترجمانی کرتے ہیں۔ یقینا اسلام خود کشی کی راہ میں ڈھال ہے۔ اسلام جہاں خودکشی کو حرام قرار دیتا ہے وہی مشکل حالات میں  رہنمائی اور حوصلہ افزائی  بھی کرتا ہے،  ملاحظہ ہو سورۃالشرح۔

انقلاب کا یہ رپورٹ حقیقت کی عکاس ہے
انقلاب کا یہ رپورٹ حقیقت کی عکاس ہے

خودکشی کی شرح مختلف ممالک اور معاشروں میں مذہب کے علاوہ عمر، جنس، معاشی حالات، ذہنی صحت، خاندانی تعلقات، سماجی تنہائی، نشہ، ثقافتی عوامل، شہری یا دیہی ماحول اور رپورٹنگ کے نظام جیسے متعدد عوامل سے متاثر ہوتی ہے۔ مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان موازنہ کرتے وقت بھی آبادی کی ساخت اور سماجی حالات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

البتہ متعدد تحقیقی مطالعات میں مذہبی وابستگی اور خودکشی کے خطرے کے درمیان ایک ممکنہ حفاظتی تعلق کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مذہبی افراد خودکشی سے محفوظ ہوتے ہیں یا غیر مذہبی افراد لازماً اس خطرے سے زیادہ دوچار ہوتے ہیں۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ مذہب کا ممکنہ حفاظتی اثر بعض حالات میں عقیدے کے ساتھ ساتھ اجتماعی تعلق، سماجی حمایت، زندگی کے مقصد، امید، اخلاقی ذمہ داری اور خودکشی کی شدید ممانعت جیسے عناصر سے پیدا ہوسکتا ہے۔ چنانچہ درست بات یہ ہے کہ مذہبی وابستگی بعض معاشروں اور بعض افراد کے لیے خودکشی کے خلاف ایک حفاظتی قوت بن سکتی ہے، لیکن خودکشی کی شرح کو صرف مذہب یا عدمِ مذہب کی بنیاد پر سمجھنا درست نہیں۔

انسان خود اپنا دشمن کب بن جاتا ہے؟
بہت سے معاملات میں خودکشی کا خیال اچانک پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے کئی دنوں، مہینوں یا کبھی برسوں کی تکلیف جمع ہوتی رہتی ہے۔ ایک ناکامی، ایک طلاق، ایک قرض، ایک امتحان یا ایک رشتہ بظاہر آخری واقعہ محسوس ہوسکتا ہے، لیکن اکثر وہ پہلے سے موجود ذہنی اور جذباتی بوجھ پر پڑنے والا آخری دباؤ ہوتا ہے۔

انسان مشکلات برداشت کرسکتا ہے، لیکن جب اسے یقین ہونے لگے کہ حالات کبھی بہتر نہیں ہوں گے تو مشکل کی شدت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ ناامیدی انسان کے مستقبل کے تصور کو محدود کردیتی ہے۔ اسے آج کا درد مستقل دکھائی دینے لگتا ہے اور کل کے امکانات نظر آنا بند ہوجاتے ہیں۔‌ یہاں ایک نہایت اہم بات سمجھنے کی ہے: کسی شخص کو مستقبل نظر نہ آنا اور مستقبل کا واقعی ختم ہوجانا، دونوں ایک چیز نہیں۔ بحران ذہن کی نظر کو محدود کرسکتا ہے۔

آج رابطے کے ذرائع پہلے سے کہیں زیادہ ہیں، مگر حقیقی تعلق کا بحران بھی بڑھتا محسوس ہوتا ہے۔ ہزاروں آن لائن رابطوں کے باوجود بعض لوگ اپنی اصل تکلیف کسی ایک انسان سے بھی بیان نہیں کرپاتے۔‌ گھر میں لوگ موجود ہوں، دوست موجود ہوں، سوشل میڈیا پر سیکڑوں رابطے ہوں، پھر بھی انسان اندر سے تنہا ہوسکتا ہے۔ کسی کا خاموش ہوجانا، لوگوں سے الگ رہنا، مسلسل اداس رہنا، اپنی قدر کے بارے میں منفی باتیں کرنا یا بار بار یہ کہنا کہ "میری زندگی کا کوئی فائدہ نہیں” معمولی بات سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

Advertisement
Advertisement

خاندان انسان کے لیے سب سے پہلا حفاظتی حصار ہوسکتا ہے، مگر یہی حصار جب مسلسل جھگڑے، تحقیر، تشدد، غیر ضروری موازنہ، سخت توقعات یا جذباتی بے اعتنائی سے کمزور ہوجائے تو فرد کا تناؤ بڑھ سکتا ہے۔ بچے سے ہر وقت یہ کہنا کہ فلاں کے نمبر تم سے زیادہ ہیں، نوجوان کو مسلسل ناکام قرار دینا، بیٹی یا بیٹے کے جذبات کو محض ضد سمجھنا، شوہر یا بیوی کی ہر پریشانی کو شکایت کہہ کر رد کردینا، یہ سب بظاہر معمولی رویے ہیں، مگر مسلسل تکرار کے ساتھ کسی انسان کے اندر گہرا زخم پیدا کرسکتے ہیں۔ گھر صرف کھانے اور رہنے کی جگہ نہیں؛ گھر وہ جگہ ہونا چاہیے جہاں انسان دنیا سے شکست کھا کر بھی واپس آ سکے۔

قرض، بے روزگاری، کاروباری نقصان، مسلسل مالی دباؤ اور خاندان کی ضروریات پوری نہ کر پانے کا احساس انسان کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کرسکتا ہے۔ خصوصاً ایسے معاشروں میں جہاں کامیابی کو دولت اور ناکامی کو مالی حیثیت سے ناپا جاتا ہو، معاشی بحران انسان کی خود اعتمادی کو بھی متاثر کرتا ہے۔ لیکن معاشی ناکامی زندگی کی ناکامی نہیں ہے۔ پیسہ دوبارہ حاصل کیا جاسکتا ہے، روزگار دوبارہ مل سکتا ہے، کاروبار دوبارہ شروع ہوسکتا ہے؛ زندگی واپس نہیں آتی۔

نوجوان نسل کے سامنے کامیابی کی دوڑ بہت تیز ہوگئی ہے۔ امتحان، داخلہ، ملازمت، مقابلہ، کیریئر اور مستقبل کی فکر بعض اوقات ذہنی دباؤ کو خطرناک حد تک بڑھا دیتی ہے۔ والدین اور اساتذہ کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایک امتحان کا نتیجہ کسی بچے کی پوری زندگی کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ ایک ناکامی اصلاح کا موقع ہوسکتی ہے، شناخت کا خاتمہ نہیں۔

محبت انسان کی بنیادی جذباتی ضرورتوں میں سے ایک ہے۔ اسی لیے تعلق کا ٹوٹنا بعض افراد کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔ ناکام محبت، طلاق، ازدواجی تنازع، خیانت یا کسی عزیز کی جدائی انسان کو شدید جذباتی بحران میں مبتلا کرسکتی ہے۔ لیکن تعلق کا ختم ہوجانا انسان کی قدر ختم نہیں کرتا۔ ایک رشتہ زندگی کا حصہ ہوسکتا ہے، پوری زندگی نہیں۔

گھریلو تشدد، جنسی یا جسمانی استحصال، اسکول یا کام کی جگہ پر ہراسانی، مسلسل تضحیک، بلیک میلنگ اور سماجی تحقیر انسان کے ذہن پر گہرے اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ ایسے معاملات میں صرف "صبر کرو” کہنا کافی نہیں؛ تحفظ، قانونی مدد، خاندان یا قابل اعتماد افراد کی مداخلت اور ضرورت کے مطابق پیشہ ورانہ مدد بھی ضروری ہوسکتی ہے۔

نشہ انسان کے فیصلوں، جذبات اور خود پر قابو رکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مالی، خاندانی، معاشرتی اور صحت کے مسائل بحران کو مزید شدید بنادیتے ہیں۔ اس لیے خودکشی کی روک تھام میں نشے سے بچاؤ اور علاج بھی اہم کردار رکھتا ہے۔

سوشل میڈیا نے دنیا کو قریب ضرور کیا ہے، مگر اس نے موازنے کا ایک نیا میدان بھی پیدا کردیا ہے۔ دوسروں کی بہترین تصاویر، کامیابیاں، مہنگی گاڑیاں، خوب صورت سفر اور بظاہر مکمل زندگی دیکھ کر انسان اپنی حقیقی زندگی کو کمتر سمجھنے لگتا ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ وہ دوسروں کی زندگی کا منتخب شدہ منظر دیکھ رہا ہے اور اپنی زندگی کا پورا پس منظر۔ یہ مسلسل موازنہ نوجوانوں میں ناکافی ہونے، پیچھے رہ جانے اور بے وقعت ہونے کا احساس پیدا کرسکتا ہے۔

اسلام انسان کو زندگی کے بارے میں ایک بنیادی تصور عطا کرتا ہے: زندگی بے مقصد نہیں۔ انسان محض حالات کا شکار مخلوق نہیں بلکہ اللہ کی عطا کردہ زندگی کا ذمہ دار ہے۔ خوشی ہو یا غم، کامیابی ہو یا ناکامی، آسانی ہو یا آزمائش، ہر حالت کے اندر ایک معنویت موجود ہے۔

قرآن انسان کو مایوسی کے اندھیرے میں چھوڑنے کے بجائے اللہ کی رحمت سے امید وابستہ کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ آزمائش کو زندگی کے اختتام کی دلیل نہیں بلکہ صبر، دعا، رجوع اور جدوجہد کا موقع سمجھنے کا شعور عطا کرتا ہے۔ یہی مذہبی شعور انسان کو یہ احساس دے سکتا ہے کہ وہ تنہا نہیں ہے۔ اللہ سے تعلق، دعا، صبر اور توکل ایک داخلی سہارا فراہم کرتے ہیں، جبکہ خاندان، مسجد، جماعت، رشتہ داری اور باہمی تعاون ایک خارجی سماجی حصار قائم کرسکتے ہیں۔

لیکن یہاں بھی ایک نازک توازن ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص شدید ذہنی بیماری، ڈپریشن یا کسی خطرناک نفسیاتی بحران میں مبتلا ہے تو اسے صرف یہ کہہ دینا کہ "ایمان مضبوط کرو” مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ جیسے جسمانی بیماری میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا توکل کے خلاف نہیں، اسی طرح ذہنی بیماری میں ماہرِ نفسیات یا ماہرِ صحت سے مدد لینا بھی ایمان کے منافی نہیں۔ دعا روح کو سہارا دے سکتی ہے اور علاج ذہن کو سنبھالنے میں مدد دے سکتا ہے؛ دونوں کو ایک دوسرے کا مخالف بنا دینا درست نہیں۔

اسی طرح خودکشی کے خیال میں مبتلا شخص کو گناہ گار کہہ کر خوف زدہ کرنا، شرمندہ کرنا یا خاندان کے سامنے رسوا کرنا بھی مددگار نہیں۔ اسے اپنی تکلیف بیان کرنے کا محفوظ موقع، ہمدردانہ سماعت اور فوری مدد کی ضرورت ہے۔

تدارک صرف "صبر کرو” نہیں، بلکہ ساتھ کھڑے ہونا ہے۔ خودکشی کی روک تھام کسی ایک فرد یا ادارے کی ذمہ داری نہیں۔ خاندان، تعلیمی ادارے، مذہبی مراکز، طبی ماہرین، میڈیا اور پورا معاشرہ اس میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔

Advertisement
Advertisement

پہلا قدم: گھر کو گفتگو کی جگہ بنایا جائے۔
ایسا ماحول ہو جہاں بیٹا اپنی ناکامی بتانے سے نہ ڈرے، بیٹی اپنی پریشانی بیان کرسکے، شوہر یا بیوی اپنی ذہنی کیفیت پر بات کرسکیں اور بزرگ بھی اپنی کمزوری تسلیم کرنے میں شرمندگی محسوس نہ کریں۔

دوسرا قدم: ذہنی بیماری کو کردار کی خرابی نہ سمجھا جائے۔ ڈپریشن، شدید اضطراب اور دیگر ذہنی مسائل کو محض کمزور ایمان، سستی یا کمزور شخصیت قرار دینا مدد حاصل کرنے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ ضرورت کے وقت مستند طبی اور نفسیاتی مدد حاصل کی جائے۔

تیسرا قدم: والدین صرف نتائج نہیں، بچوں کے جذبات بھی دیکھیں۔ بچے کے نمبر، ملازمت اور کامیابی اہم ہیں، مگر اس سے زیادہ اہم اس کا ذہنی سکون اور احساسِ تحفظ ہے۔ ہر ناکامی کے بعد سوال یہ بھی ہونا چاہیے: "تم کیسا محسوس کر رہے ہو؟”

چوتھا قدم: علامات کو سنجیدگی سے لیا جائے۔
اگر کوئی شخص بار بار موت، بے فائدگی، ناامیدی یا زندگی ختم کرنے جیسی باتیں کرے، اچانک سب سے الگ ہوجائے، اپنی اہم چیزیں بانٹنے لگے یا شدید بحران کے بعد غیر معمولی تبدیلی دکھائے تو اسے نظر انداز نہ کیا جائے۔ ایسی صورت میں تنقید کے بجائے براہِ راست پوچھنا، اس کے ساتھ رہنا اور مناسب پیشہ ورانہ مدد تک پہنچانا ضروری ہے۔

پانچواں قدم: مذہبی اداروں کو رحمت اور مدد کا مرکز بنایا جائے۔ ائمہ، خطباء اور دینی رہنما اگر ذہنی صحت کے مسائل کو صرف ملامت کے زاویے سے دیکھنے کے بجائے رحمت، امید، صبر، علاج اور انسانی ہمدردی کے ساتھ پیش کریں تو بہت سے لوگ بروقت مدد لینے کی طرف آسکتے ہیں۔

چھٹا قدم: بحران کے وقت انسان کو اکیلا نہ چھوڑا جائے۔ اگر کسی شخص کے بارے میں فوری خطرے کا خدشہ ہو تو اسے تنہا چھوڑنے کے بجائے کسی قابل اعتماد شخص کو ساتھ رکھا جائے، فوری طبی یا ہنگامی مدد حاصل کی جائے اور ممکنہ خطرناک ذرائع تک اس کی رسائی محدود کی جائے۔ عالمی ادارۂ صحت بھی ایسے ذرائع تک رسائی محدود کرنے کو خودکشی کی روک تھام کے مؤثر اقدامات میں شمار کرتا ہے۔

ساتواں قدم: معاشرہ ناکامی کو جرم نہ بنائے۔ ہمیں ایسا معاشرہ چاہیے جہاں بے روزگار نوجوان کو حقارت نہ ملے، ناکام طالب علم کو زندگی کا ناکام انسان نہ سمجھا جائے، طلاق یافتہ عورت یا مرد کو سماجی موت نہ دی جائے، کاروباری نقصان کو کردار کی خرابی نہ سمجھا جائے اور ذہنی بیماری کو شرمندگی کا عنوان نہ بنایا جائے۔

آخرکار خودکشی کی روک تھام صرف موت کو روکنے کا نام نہیں؛ یہ انسان کو دوبارہ زندگی کی طرف دیکھنے کی وجہ فراہم کرنے کا نام ہے۔ کسی کے لیے وہ وجہ ایک ماں کی آواز ہوسکتی ہے، کسی کے لیے دوست کا ایک فون، کسی کے لیے استاد کی توجہ، کسی کے لیے امام کی ہمدردی، کسی کے لیے ڈاکٹر کی مدد اور کسی کے لیے اللہ کی رحمت پر دوبارہ پیدا ہونے والا یقین۔

اس لیے ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ "لوگ خودکشی کیوں کرتے ہیں؟” ہمیں یہ بھی پوچھنا ہوگا کہ "ہم نے ان لوگوں کو زندگی کی طرف واپس آنے کے کتنے راستے فراہم کیے ہیں؟”

Advertisement
Advertisement

شاید ایک انسان کو بچانے کے لیے ہمیشہ کوئی بہت بڑا کام درکار نہ ہو۔ کبھی ایک توجہ، ایک گفتگو، ایک گلے لگانا، ایک فون، ایک محفوظ جگہ، ایک ماہر تک پہنچانا اور یہ احساس دلانا ہی کافی ہوسکتا ہے کہ "تم اکیلے نہیں ہو، تمہاری تکلیف سنی جاسکتی ہے اور حالات ہمیشہ ایسے نہیں رہیں گے۔”

زندگی میں ایسے مرحلے آسکتے ہیں جہاں راستے بند دکھائی دیتے ہیں، لیکن راستہ دکھائی نہ دینا اس بات کا ثبوت نہیں کہ راستہ موجود نہیں۔ بحران کی سب سے بڑی دھوکا دہی یہی ہے کہ وہ انسان کو عارضی اندھیرے میں مستقل رات کا یقین دلا دیتا ہے۔‌ اس اندھیرے میں ہمارا کام فیصلہ سنانا نہیں، چراغ جلانا ہے؛ ملامت کرنا نہیں، سہارا دینا ہے؛ اور صرف صبر کی تلقین نہیں، بلکہ صبر کے ساتھ مدد، علاج، تعلق، امید اور عملی راستہ فراہم کرنا ہے۔ کیونکہ کبھی کبھی کسی انسان کو موت سے نہیں، صرف تنہائی سے بچانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

Eastern

Eastern

Staff writer at Eastern Crescent Urdu.

View all posts →

Comments (0)

Leave a Comment

اوپر تک سکرول کریں۔