ٹرینڈنگ
ممبئی میں علماء کے لیے دو روزہ پیرا لیگل ٹریننگ ورکشاپ کا انعقادقوتِ گویائی ایک عظیم ترین نعمتآذربائیجان کے الہام علیوف اپنی ہی سیاسی قبر کھود رہے ہیںعربی زبان کے نامور ادیب اور کئی نسلوں کے استاذ مولانا سعید الاعظمی کی وفات کا سانحہعقابی  روح رکھنے والے ” قاری شبیر احمد صاحب” رخصت ہوئے ـالیکشن کمیشن کی غلطیوں کا خمیازہ عوام کیوں بھگتے؟خودکشی کا بڑھتا رجحان: اسباب، پس منظر اور تدارکمشرقِ وسطیٰ میں امریکہ-اسرائیل اتحاد کو ایک اور بڑا دھچکاممبئی میں علماء کے لیے دو روزہ پیرا لیگل ٹریننگ ورکشاپ کا انعقادقوتِ گویائی ایک عظیم ترین نعمتآذربائیجان کے الہام علیوف اپنی ہی سیاسی قبر کھود رہے ہیںعربی زبان کے نامور ادیب اور کئی نسلوں کے استاذ مولانا سعید الاعظمی کی وفات کا سانحہعقابی  روح رکھنے والے ” قاری شبیر احمد صاحب” رخصت ہوئے ـالیکشن کمیشن کی غلطیوں کا خمیازہ عوام کیوں بھگتے؟خودکشی کا بڑھتا رجحان: اسباب، پس منظر اور تدارکمشرقِ وسطیٰ میں امریکہ-اسرائیل اتحاد کو ایک اور بڑا دھچکا

ممبئی میں علماء کے لیے دو روزہ پیرا لیگل ٹریننگ ورکشاپ کا انعقاد

0%
ممبئی میں علماء کے لیے دو روزہ پیرا لیگل ٹریننگ ورکشاپ کا انعقاد
نیوز

ممبئی میں علماء کے لیے دو روزہ پیرا لیگل ٹریننگ ورکشاپ کا انعقاد

Eastern
1 min read51 views
Save this article for later

ممبئی میں علماء کے لیے دو روزہ پیرا لیگل ٹریننگ ورکشاپ کا انعقاد

علماء و ائمہ کو آئینی حقوق، قانونی ذمہ داریوں اور شہری شعور سے آراستہ کرنے کی کوشش

ای سی خصوصی رپورٹ
از: محمد توقیر رحمانی
ممبئی، 21 اکتوبر 2026ء: گلوبل کیئر فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام 19 اور 20 اکتوبر 2026ء کو ممبئی کے مرین لائنز اسلام جمخانہ میں ’’علماء کے لیے پیرا لیگل ٹریننگ‘‘ کے عنوان سے دو روزہ تربیتی ورکشاپ منعقد کی گئی۔ ورکشاپ کا بنیادی مقصد علمائے کرام اور ائمہ مساجد میں قانونی شعور بیدار کرنا اور انہیں ملکی آئین، قانونی حقوق اور شہری ذمہ داریوں سے واقف کرانا تھا، تاکہ وہ اس آگاہی کو معاشرے کے دیگر افراد تک بھی پہنچا سکیں۔

گلوبل کیئر فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر ایڈوکیٹ احمد کنڈلم کے مطابق، علماء اور ائمہ کرام کا عوام سے گہرا تعلق ہے اور وہ مساجد و دینی اجتماعات کے ذریعے لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ اس لیے ان کی قانونی آگاہی معاشرے میں بیداری پیدا کرنے اور عوام کو ان کے حقوق و فرائض سے روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

ورکشاپ میں شریک علماء کرام
ورکشاپ میں شریک علماء کرام

ورکشاپ کے دوران ممبئی اور اس کے اطراف میں سرگرم مختلف تنظیموں، سرکاری اسکیموں، آئینی و قانونی حقوق، فوجداری قوانین، جائیداد و وراثت، خاندانی تنازعات اور سائبر سیکیورٹی سمیت متعدد اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔

ممبئی کی معروف شخصیت مفتی اشفاق قاضی نے ممبئی اور اس کے اطراف میں سرگرم مختلف تنظیموں کا تعارف پیش کیا اور ان کے طریقۂ کار پر روشنی ڈالی۔ معروف سماجی کارکن ذاکر شکالگر نے سرکاری اسکیموں کا تعارف کراتے ہوئے ان سے استفادے کے طریقوں کو واضح کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلم سماج کے متعدد طبقات بھی معاشی و سماجی پسماندگی کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کے لیے مختلف سرکاری اسکیمیں موجود ہیں، لیکن معلومات اور رہنمائی کی کمی کے باعث بہت سے مستحق افراد ان سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔

حکومتی نظامِ انتظام و انصرام، مختلف محکموں کے دائرۂ کار اور ان کی ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی معلومات فراہم کی گئیں۔ ایڈوکیٹ شہنواز پٹھان نے قیدیوں کی صورتِ حال اور ان سے متعلق قانونی امور پر تفصیلی گفتگو کی، جب کہ بچوں کے تحفظ سے متعلق قانون، یعنی POCSO ایکٹ، کے اہم پہلوؤں اور اس کے تحت عائد قانونی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا۔

ممبئی ہائی کورٹ کے تجربہ کار وکیل ایڈوکیٹ مبین سولکر نے فوجداری قوانین پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے دستورِ ہند کے آرٹیکل 25، بنیادی حقوق، ایف آئی آر (FIR) کے اندراج اور اس کی مختلف اقسام، نیز فوجداری کارروائیوں سے متعلق اہم قانونی پہلوؤں کی وضاحت کی۔ اس موقع پر انہوں نے قانونی پیچیدگیوں، شہریوں کے حقوق اور متعلقہ قانونی طریقۂ کار سے بھی شرکاء کو واقف کرایا۔ ایڈوکیٹ فیضان قریشی نے وقف، مدارس و مساجد سے متعلق قانونی امور اور دستاویزات کی اہمیت پر گفتگو کی۔

Advertisement
Advertisement

ورکشاپ کا دوسرا دن بھی معلوماتی اور مفید رہا۔ سینئر ایڈوکیٹ یوسف مچھالا نے دستورِ ہند، شہریوں کے بنیادی حقوق اور آئینی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔ ایڈوکیٹ زین خان نے جائیداد سے متعلق قوانین اور وراثتی مسائل کی وضاحت کی، جب کہ ایڈوکیٹ فیصل قاضی نے ازدواجی تعلقات اور خاندانی تنازعات سے متعلق قانونی امور پر گفتگو کی۔

جناب رضوان شیخ نے موبائل فون کے استعمال اور سائبر سیکیورٹی کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے موبائل فون کی حفاظت سے متعلق عام تصورات کا جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی ڈیوائس کی سلامتی صرف اس کے برانڈ یا آپریٹنگ سسٹم پر منحصر نہیں، بلکہ اس میں حفاظتی ترتیبات، سافٹ ویئر کی تازہ کاری اور صارف کے طرزِ استعمال کا بھی اہم کردار ہوتا ہے۔ انہوں نے موبائل فون میں غیر معمولی طور پر ہینگ ہونے، بیٹری تیزی سے ختم ہونے اور میموری کے اچانک بھرنے جیسی علامات کا ذکر کیا اور بتایا کہ ایسی صورتِ حال میں احتیاط کے ساتھ ڈیوائس کی جانچ کرنا ضروری ہے، اگرچہ یہ علامات بذاتِ خود ہیکنگ کا قطعی ثبوت نہیں ہیں۔
انہوں نے ذاتی معلومات کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے غیر ضروری حساس معلومات موبائل فون میں محفوظ رکھنے سے گریز، مضبوط حفاظتی ترتیبات اختیار کرنے اور ڈیجیٹل رازداری کے معاملے میں محتاط رہنے کی تلقین کی۔

پروگرام کے منتظم ایڈوکیٹ عابد احمد کنڈلم بھی مختلف مواقع پر ضروری قانونی امور کی وضاحت کرتے رہے۔ انہوں نے شخصیت سازی اور انفرادی صلاحیتوں کی نشوونما کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔

انگریزی زبان کے سہ ماہی کورس میں داخلے جاری ہیں
انگریزی زبان کے سہ ماہی کورس میں داخلے جاری ہیں

ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں۔ شریک علمائے کرام نے پروگرام کے انعقاد کو مفید اور معلومات افزا قرار دیتے ہوئے اپنے مثبت تاثرات کا اظہار کیا اور اس نوعیت کے ورکشاپ کو مستقبل میں بھی جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی۔

Eastern

Eastern

Staff writer at Eastern Crescent Urdu.

View all posts →

Comments (0)

Leave a Comment

اوپر تک سکرول کریں۔