ٹرینڈنگ
مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ-اسرائیل اتحاد کو ایک اور بڑا دھچکامرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقادشیخ محمد یحییٰ باسکندی کی مرکز المعارف، ممبئی آمد؛ طلبہ سے خطاب، تعلیم، تزکیہ اور تعلق مع اللہ کی اہمیت پر زورکیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!تحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باباسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانیملی اداروں کا مستقبل اور نوکِ قلم پر لٹکتی تلوار: ایف سی آر اے (FCRA) ترمیمی بل 2026 کا ایک تجزیہہواہےگوتیزوتندلیکن چراغ اپناجلارہاہےمشرقِ وسطیٰ میں امریکہ-اسرائیل اتحاد کو ایک اور بڑا دھچکامرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقادشیخ محمد یحییٰ باسکندی کی مرکز المعارف، ممبئی آمد؛ طلبہ سے خطاب، تعلیم، تزکیہ اور تعلق مع اللہ کی اہمیت پر زورکیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!تحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باباسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانیملی اداروں کا مستقبل اور نوکِ قلم پر لٹکتی تلوار: ایف سی آر اے (FCRA) ترمیمی بل 2026 کا ایک تجزیہہواہےگوتیزوتندلیکن چراغ اپناجلارہاہے

جمہوریت میں اکثریت کے جذبات کو مجروح کرنا نقصاندہ ہوتاہے

0%
جمہوریت میں اکثریت کے جذبات کو مجروح کرنا نقصاندہ ہوتاہے
اداریہ

جمہوریت میں اکثریت کے جذبات کو مجروح کرنا نقصاندہ ہوتاہے

Eastern
1 min read5 views
Save this article for later

جمہوریت میں اکثریت کے جذبات کو مجروح کرنا نقصاندہ ہوتاہے

محمد برہان الدین قاسمی

میں پہلے ہی محسوس کر رہا تھا کہ ہمارے معزز مولانا کے سیاسی بیانات اور ایک فہرست کا باضابطہ شائع کرنا نہ صرف ان کی شخصیت کے لیے بلکہ مجموعی طور پر مہاراشٹر کے انتخابات کے لیے بھی بہت نقصان دہ ہوگا۔ مولانا کی ٹیم میں شامل ہونے کی دعوت مجھے بھی دی گئی تھی۔ میں نے نہ صرف اس دعوت کو قبول کرنے سے انکار کیا بلکہ جس شخصیت نے مجھ سے بات کی، انہیں واضح طور پر یہ بھی بتایا کہ میں ان کے خیالات سے کیوں متفق نہیں ہوں اور یہ خیالات انتخابات پر کیا منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

اب انتخابی نتائج نے میرے خدشات کو درست ثابت کر دیا ہے، جس سے میں افسردہ اور تکلیف میں ہوں۔ یہ سیاست کا ایک عام اصول ہے کہ اکثریت اور اقلیت والے جمہوری نظام میں، اقلیت کی طرف سے کوئی بھی ایسا نعرہ یا عمل جو اکثریت کے جذبات کو بھڑکا دے، اقلیت کے حق میں انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔  سیاست میں جذباتیت کے بجائے حکمت عملی اور عملی اقدامات ہی کامیابی کی کنجی ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ ہمیں یہ آسان سی بات سمجھنے میں اتنی دشواری کیوں پیش آتی ہے اور ہم جذباتی سیاست سے کب باہر نکل پائیں گے؟

مہاراشٹر کے انتخابی نتائج پر نظر ڈالیں تو بی جے پی کی کامیابی کے پیچھے مائکرو پلاننگ، زمینی سطح پر مسلسل کام، ہر فرد تک رسائی، اور عین انتخابات سے قبل وزیر اعلیٰ کی طرف سے خواتین کے اکاؤنٹ میں رقم جمع کرنے جیسے اقدامات اہم عوامل بنے۔ دوسری جانب، کانگریس کی ناقص منصوبہ بندی، MVA اتحاد کی کمزوری، اور جناب ادھو ٹھاکرے و جناب شرد پوار کا پارلیمانی انتخابات کی کامیابی پر غیر ضروری اعتماد، شکست کے بڑے اسباب تھے۔

Eastern

Eastern

Staff writer at Eastern Crescent Urdu.

View all posts →

Comments (0)

Leave a Comment

اوپر تک سکرول کریں۔