ٹرینڈنگ
مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقادشیخ محمد یحییٰ باسکندی کی مرکز المعارف، ممبئی آمد؛ طلبہ سے خطاب، تعلیم، تزکیہ اور تعلق مع اللہ کی اہمیت پر زورکیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!تحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باباسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانیملی اداروں کا مستقبل اور نوکِ قلم پر لٹکتی تلوار: ایف سی آر اے (FCRA) ترمیمی بل 2026 کا ایک تجزیہہواہےگوتیزوتندلیکن چراغ اپناجلارہاہےعالمی مذاہب میں حیات بعد الممات کا تصور: ایک تقابلی جائزہمرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقادشیخ محمد یحییٰ باسکندی کی مرکز المعارف، ممبئی آمد؛ طلبہ سے خطاب، تعلیم، تزکیہ اور تعلق مع اللہ کی اہمیت پر زورکیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!تحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باباسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانیملی اداروں کا مستقبل اور نوکِ قلم پر لٹکتی تلوار: ایف سی آر اے (FCRA) ترمیمی بل 2026 کا ایک تجزیہہواہےگوتیزوتندلیکن چراغ اپناجلارہاہےعالمی مذاہب میں حیات بعد الممات کا تصور: ایک تقابلی جائزہ

عالمی یومِ آبادی: مسئلہ آبادی ہے ہی نہیں!

0%
عالمی یومِ آبادی: مسئلہ آبادی ہے ہی نہیں!
اداریہ

عالمی یومِ آبادی: مسئلہ آبادی ہے ہی نہیں!

Eastern
1 min read6 views
Save this article for later

عالمی یومِ آبادی: مسئلہ آبادی ہے ہی نہیں!

مدثر احمد قاسمی
اسسٹنٹ ایڈیٹر ایسٹرن کریسنٹ، ممبئ

آج 11 جولائی کو دنیا بھر میں عالمی یومِ آبادی منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر ایک مخصوص ذہن رکھنے والے حلقے بار بار یہ تاثر دیتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی آبادی ہی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، گویا انسان خود ایک بوجھ ہے۔ حالانکہ تاریخ، مشاہدہ اور زمینی حقائق اس تصور کی تائید نہیں کرتے۔ اصل مسئلہ آبادی کی تعداد نہیں بلکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم، معیاری تعلیم، بہتر منصوبہ بندی اور مؤثر قیادت کا فقدان ہے۔

اگر کثرتِ اولاد بذاتِ خود ترقی کی دشمن ہوتی تو دنیا میں بے شمار ایسی کامیاب اور خوشحال مثالیں موجود نہ ہوتیں جہاں بڑے خاندانوں نے معاشی، سماجی اور تعلیمی میدانوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ اسی طرح عرب ممالک میں کثرت اولاد کے باوجود اللہ تعالیٰ نے فراوانیِ رزق، خوشحالی اور ترقی سے نوازا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ خوشحالی کا تعلق آبادی کی کمی یا زیادتی سے نہیں بلکہ صحیح حکمتِ عملی، محنت اور وسائل کے درست استعمال سے ہے۔

Advertisement
Advertisement

اسلام بھی رزق کے معاملے میں انسان کو خوف اور مایوسی سے نکالتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتے ہیں: "اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم ہی انہیں بھی رزق دیتے ہیں اور تمہیں بھی۔” (سورۂ بنی اسرائیل: 31)

لہٰذا آبادی کو مسئلہ بنا کر پیش کرنا حقیقت کا صرف ایک رخ دکھانا ہے۔ اگر حکومتیں اور معاشرے اپنی ترجیحات درست کرلیں تو بڑھتی ہوئی آبادی بوجھ نہیں بلکہ ایک عظیم انسانی سرمایہ ثابت ہو سکتی ہے۔

Advertisement
Advertisement

مسلمانوں کو بھی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے، مگر اس کا رخ افراد کی تعداد کم کرنے کی طرف نہیں ہونا چاہیے بلکہ اپنے خاندانوں میں علم، کردار، تجارت، صنعت، سیاست، معیشت، سماجی خدمت اور قیادت کو فروغ دینے کی طرف ہونا چاہیے۔ ایسی نسل تیار کی جائے جو امت کا سہارا بنے، معاشرے کی رہنمائی کرے اور ملک و ملت کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرے۔ یہی مثبت منصوبہ بندی ہے، اور یہی ایک مضبوط اور باوقار مستقبل کی ضمانت بھی۔

Eastern

Eastern

Staff writer at Eastern Crescent Urdu.

View all posts →

Comments (0)

Leave a Comment

اوپر تک سکرول کریں۔