
UCC: مسلم پرسنل لا بورڈ نے مہاراشٹر حکومت کے سوالات کے جوابات کے لیے QR کوڈ جاری کیا
UCC: مسلم پرسنل لا بورڈ نے مہاراشٹر حکومت کے سوالات کے جوابات کے لیے QR کوڈ جاری کیا
فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلم کا تعاون؛ بورڈ کے ذمہ داران کی عوام سے کوڈ عام کرنے، آن لائن جوابات داخل کرنے اور مساجد میں بیداری پیدا کرنے کی اپیل
ای سی نیوز ڈیسک
ممبئی، 30 اکتوبر: یونیفارم سول کوڈ (UCC) کے سلسلے میں مہاراشٹر حکومت کی جانب سے عوام سے آن لائن رائے طلب کیے جانے کے پس منظر میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے سوالات کے جوابات داخل کرنے میں رہنمائی کے لیے ایک خصوصی QR کوڈ جاری کیا ہے۔ اس کی تیاری میں فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلم کا بھی تعاون شامل ہے۔ بورڈ کے ذمہ داران نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ QR کوڈ کو زیادہ سے زیادہ عام کریں اور حکومت کے پورٹل پر اپنے جوابات ضرور درج کریں۔
مہاراشٹر حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی نے یونیفارم سول کوڈ کے سلسلے میں عوامی رائے جاننے کے لیے ایک آن لائن پورٹل جاری کیا ہے، جس پر مجموعی طور پر 37 سوالات کے جوابات طلب کیے گئے ہیں۔ ان میں 31 سوالات معروضی نوعیت کے ہیں، جن کے جوابات ’ہاں‘، ’نہیں‘ یا ’کوئی تبصرہ نہیں‘ کی صورت میں دیے جاسکتے ہیں، جب کہ باقی چھ سوالات کے جوابات محدود الفاظ میں تحریری طور پر دینا ہیں۔
بورڈ کی لیگل ٹیم کے مشورے سے تیار کردہ QR کوڈ میں سوالات کے جوابات درج کرنے کا طریقۂ کار آسان الفاظ میں سمجھایا گیا ہے۔ کوڈ کھولنے پر ایک مختصر ویڈیو کے ذریعے بتایا جاتا ہے کہ سرکاری پورٹل پر سوالات کے جوابات کس طرح داخل کیے جائیں۔ جن سوالات کے لیے تحریری جواب درکار ہے، ان کے لیے مجوزہ عبارت بھی فراہم کی گئی ہے، جسے نقل کرکے پورٹل پر درج کیا جاسکتا ہے۔ QR کوڈ کے آخر میں مہاراشٹر حکومت کے پورٹل کا لنک بھی شامل کیا گیا ہے۔

حکومت نے انفرادی افراد اور تنظیموں، دونوں سے جوابات طلب کیے ہیں۔ فی الحال آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے انفرادی جوابات داخل کرنے کے لیے QR کوڈ جاری کیا ہے، جب کہ تنظیموں کی جانب سے جواب داخل کرنے کے سلسلے میں رہنمائی بعد میں جاری کی جائے گی۔
QR کوڈ عام کرنے اور مساجد میں بیداری پیدا کرنے کی اپیل
QR کوڈ کے اجرا کے سلسلے میں بدھ کی شام چار بجے ممبئی امن کمیٹی میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلم کے ذمہ داران کی میٹنگ ہوئی۔ شرکاء نے اس اقدام پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس عمل میں حصہ لیں، QR کوڈ کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں اور اسے مساجد سمیت دیگر نمایاں مقامات پر آویزاں کریں۔
شرکاء نے بالخصوص علماء کرام اور ائمہ مساجد سے درخواست کی کہ وہ جمعہ کے خطبات میں یونیفارم سول کوڈ کے حوالے سے بیداری پیدا کریں، اس کے ممکنہ اثرات پر روشنی ڈالیں اور لوگوں کو حکومت کے سوالات کے جوابات داخل کرنے کی ترغیب دیں۔
اس موقع پر بعض لوگوں کی جانب سے اس خدشے کا ذکر بھی کیا گیا کہ ایسی سرگرمیوں سے فوری طور پر کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ اس کے جواب میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلسِ عاملہ کے رکن مولانا محمود احمد خان دریابادی نے کہا کہ اگرچہ فی الحال اس مخالفت کا فائدہ واضح طور پر نظر نہ آئے، لیکن اس طرح عوامی اختلاف ریکارڈ کا حصہ بن جاتا ہے، جسے مستقبل میں آنے والی حکومتیں بھی دیکھ سکتی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ حکومتیں عوامی مخالفت کو سامنے رکھتے ہوئے ایسے قوانین میں اصلاح کرسکتی ہیں۔

میٹنگ میں مولانا محمود احمد خان دریابادی، مفتی سعیدالرحمن فاروقی، حافظ اقبال چوناوالا، فرید شیخ، مولانا ظہیر عباس رضوی، ڈاکٹر عظیم الدین، عبدالحسیب بھاٹکر اور شاکر شیخ سمیت دیگر ذمہ داران شریک ہوئے۔
You May Also Like
نیوزدارالعلوم دیوبند میں رابطہ مدارس اسلامیہ کا کل ہند اجلاس، تعلیمی و انتظامی اصلاحات کے لیے اہم تجاویز منظور
دارالعلوم دیوبند میں رابطہ مدارس اسلامیہ کا کل ہند اجلاس، تعلیمی و انتظامی اصلاحات...
نیوزممبئی میں علماء کے لیے دو روزہ پیرا لیگل ٹریننگ ورکشاپ کا انعقاد
ممبئی میں علماء کے لیے دو روزہ پیرا لیگل ٹریننگ ورکشاپ کا انعقاد علماء...
نیوزمعروف سعودی عالمِ دین مفتی محمد عمر شفیق حجازی حفظہ اللہ کا مرکزالمعارف، ممبئی کا دورہ
معروف سعودی عالمِ دین مفتی محمد عمر شفیق حجازی حفظہ اللہ کا مرکزالمعارف، ممبئی...
تعلیممر کز المعارف ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقاد
مر کز المعارف ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقاد صرف دو مہینے میں...
تعلیماے آئی عہد میں انگریزی تدریس میں انسانی رہنمائی کی اہمیت پر آن لائن لیکچر
اے آئی عہد میں انگریزی تدریس میں انسانی رہنمائی کی اہمیت پر آن لائن...
نیوزمرکز المعارف کے طلباء کی مولانا بدر الدین اجمل القاسمی کے ساتھ ملاقات
مرکز المعارف کے طلباء کی مولانا بدر الدین اجمل القاسمی کے ساتھ ملاقات از:محمد...

Comments (0)
Leave a Comment