ٹرینڈنگ
دارالعلوم دیوبند میں رابطہ مدارس اسلامیہ کا کل ہند اجلاس، تعلیمی و انتظامی اصلاحات کے لیے اہم تجاویز منظورممبئی میں علماء کے لیے دو روزہ پیرا لیگل ٹریننگ ورکشاپ کا انعقادقوتِ گویائی ایک عظیم ترین نعمتآذربائیجان کے الہام علیوف اپنی ہی سیاسی قبر کھود رہے ہیںعربی زبان کے نامور ادیب اور کئی نسلوں کے استاذ مولانا سعید الاعظمی کی وفات کا سانحہعقابی  روح رکھنے والے ” قاری شبیر احمد صاحب” رخصت ہوئے ـالیکشن کمیشن کی غلطیوں کا خمیازہ عوام کیوں بھگتے؟خودکشی کا بڑھتا رجحان: اسباب، پس منظر اور تدارکدارالعلوم دیوبند میں رابطہ مدارس اسلامیہ کا کل ہند اجلاس، تعلیمی و انتظامی اصلاحات کے لیے اہم تجاویز منظورممبئی میں علماء کے لیے دو روزہ پیرا لیگل ٹریننگ ورکشاپ کا انعقادقوتِ گویائی ایک عظیم ترین نعمتآذربائیجان کے الہام علیوف اپنی ہی سیاسی قبر کھود رہے ہیںعربی زبان کے نامور ادیب اور کئی نسلوں کے استاذ مولانا سعید الاعظمی کی وفات کا سانحہعقابی  روح رکھنے والے ” قاری شبیر احمد صاحب” رخصت ہوئے ـالیکشن کمیشن کی غلطیوں کا خمیازہ عوام کیوں بھگتے؟خودکشی کا بڑھتا رجحان: اسباب، پس منظر اور تدارک

آہ! قتل کا یہ کھیل

0%
آہ! قتل کا یہ کھیل
آراء

آہ! قتل کا یہ کھیل

Eastern
1 min read17 views
Save this article for later

آہ! قتل کا یہ کھیل

"بھتیجا نے چچا کو گولی ماری, ماں نے داماد کے عشق میں بیٹی کا گلا گھونٹا، نامراد عاشق نے معصوم لڑکی کی جان لی۔۔۔۔۔ایک ہفتے میں یہ واقعات ایک ہی علاقے میں پیش آئے ۔۔۔اور ہر نئے دن قتل کی کوئی نئی خبر آرہی ہے۔۔۔۔۔قاتل و مقتول سب مسلمان ہیں۔”

مدثر احمد قاسمی
اسسٹنٹ ایڈیٹر ایسٹرن کریسنٹ، ممبئی

جس علاقے میں میں رہتا ہوں، رواں ہفتے تقریباً پانچ ایسے افسوسناک واقعات پیش آئے ہیں جن میں ایک رشتہ دار نے دوسرے رشتہ دار کو قتل کر دیا۔ ان میں بعض واقعات کی بنیاد لین دین کے تنازعات تھے، جبکہ بعض ناجائز تعلقات اور اخلاقی بے راہ روی کے نتیجے میں رونما ہوئے۔ ان سانحات نے پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ایک مسلمان اس قدر سنگین جرم کا ارتکاب کیسے کر سکتا ہے، جبکہ اسلام نے انسان کی جان، مال اور عزت کو انتہائی محترم قرار دیا ہے؟ قرآنِ کریم نے انسانی جان کی حرمت کو اس قدر اہمیت دی ہے کہ ایک جگہ ارشاد فرمایا: "جس نے کسی شخص کو ناحق قتل کیا، گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا، اور جس نے کسی ایک جان کو بچایا گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا۔” (سورۃ المائدہ: 32)۔

Advertisement
Advertisement

عام طور پر اس طرح کے بیشتر واقعات مادیت پرستی اور دنیا کی بے جا محبت سے جنم لیتے ہیں۔ جب دولت، جائیداد، زمین، کاروبار اور مالی مفادات انسان کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بن جائیں تو رشتوں کی اہمیت کم ہونے لگتی ہے۔

اسی طرح بعض واقعات نفسانی خواہشات کی غلامی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ جب کسی شخص کی خواہشات کے راستے میں کوئی رکاوٹ آتی ہے یا اس کے غلط تعلقات بے نقاب ہونے کا اندیشہ پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنے جرم کو چھپانے یا اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے انتہائی خطرناک اقدامات تک پہنچ جاتا ہے۔

اب معاشرے کے سمجھدار، بااثر اور ذمہ دار افراد کو نہایت اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ معاشرے میں بڑھتی ہوئی مادیت پرستی، اخلاقی بے راہ روی اور رشتوں کے تقدس کو پامال کرنے والے رجحانات کے خلاف مؤثر آواز بلند کرنا ہوگا۔ اگر آج بھی ہم نے اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہ کیا تو ایسے المناک واقعات مزید بڑھ سکتے ہیں!

Eastern

Eastern

Staff writer at Eastern Crescent Urdu.

View all posts →

Comments (0)

Leave a Comment

اوپر تک سکرول کریں۔