
مقبوضہ فلسطین کے عربوں اور ہندوستانی مسلمانوں کی سیاست کا قیاس نامعقول ہے
مقبوضہ فلسطین کے عربوں اور ہندوستانی مسلمانوں کی سیاست کا قیاس نامعقول ہے
از: محمد برہان الدین قاسمی
ایڈیٹر: ایسٹرن کریسنٹ
حالیہ اسرائیلی انتخابات میں عرب فلسطینی جماعتوں کے کنگ میکر بننے کی بات سے ہندوستان میں بعض مسلمانوں کا یہ اچھل کود کرنا کہ ’’امام الہند‘‘ کی قیادت میں ہم بھی بادشاہ گر بن جائیں گے، معقول نہیں لگتا۔ کیونکہ کبھی کبھی ایک ہی بیماری کے لیے جگہ، آب و ہوا اور مریض کی جسمانی حالت وغیرہ کے فرق کی وجہ سے دوا اور علاج مختلف اور متنوع ہوتے ہیں۔ سیاسی طور پر اسرائیل کا ہندوستان سے قیاس کرنا تو دور کی بات ہے، ہندوستان کی ایک ریاست کا دوسری ریاست سے قیاس کرنا بھی معقول نہیں ہے۔
جنوبی ہند، خاص طور پر کیرالہ، کے سیاسی حالات اور سوجھ بوجھ شمالی ہند، خاص طور پر یوپی، سے یکسر مختلف ہیں۔ اسی طرح کشمیر، آسام، مغربی بنگال، تلنگانہ، مہاراشٹر اور گجرات وغیرہ کے سیاسی حالات، لوگوں کے باہمی تعلقات اور بین المذاہب روابط بھی الگ الگ ہیں۔ ان سب کو ایک ہی ڈبے میں ڈال کر کوئی پالیسی نہیں بنائی جا سکتی۔ اگر کوئی ایسا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یا تو وہ جان بوجھ کر اپنے فائدے کے لیے غلط راستہ دکھا رہا ہے یا پھر نادانی میں فاش غلطی کر رہا ہے۔

مسلمانوں نیز دنیا بھر کے حقوق انسانی اور فلسطین و غزہ کی حمایت کرنے والوں کے لیے اسرائیل کے انتخابی نتائج سے بہت زیادہ خوش ہونے کی کوئی خاص وجہ نہیں ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ مستقبل قریب میں عرب فلسطینیوں سے ووٹ ڈالنے کا حق بھی چھینا جا سکتا ہے۔ اب تک اسرائیلی کنیسٹ (پارلیمنٹ) میں 8 سے 10 عرب مسلمانوں کی موجودگی سے صہیونیت کو کوئی خاص پریشانی نہیں ہوتی تھی، بلکہ دنیا بھر میں وہ اس بات کی تشہیر کرتے تھے کہ عرب بھی ان کی پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھتے ہیں اور مسلمان بھی وہاں موجود ہیں۔ لیکن اس بار مقبوضہ فلسطین میں آباد عرب آبادی کے 80 سے 85 فیصد افراد کی ووٹنگ نے ان صہیونیوں کو پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ لہٰذا، وہ اس پریشانی کا علاج تلاش کرنے کی کوشش ضرور کریں گے اور غالباً جلد ہی کریں گے۔
مزید یہ کہ موجودہ حزبِ اختلاف کے رہنما آئزنکوٹ سابق اسرائیلی فوجی سربراہ ہیں اور عملی طور پر نتن یاہو سے بھی زیادہ مسلم اور فلسطین دشمن ہیں۔ اب عرب مسلمان نظریاتی طور پر نہ تو نتن یاہو کے ساتھ جا سکتے ہیں اور نہ ہی آئزنکوٹ کے ساتھ جو موجودہ حزبِ اختلاف کا لیڈر ہے۔ دوسری طرف، ان دونوں میں سے کوئی بھی ان عرب مسلمانوں کو خوشی سے اپنے ساتھ جوڑنے کے لیے آمادہ نظر نہیں آتا۔
اب اسرائیل میں تین ہی صورتیں ہو سکتی ہیں:
1. عرب فلسطینیوں کی حمایت سے متحدہ حکومت بنے: اگر ایسی کوئی حکومت بن بھی جاتی ہے تو غالباً بہت کم عرصے کے لیے ہوگی، اور اس سے لڑائی، قتل و غارت گری اور خونریزی میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔
2. ہندوستان کی طرح چھوٹی جماعتوں میں توڑ پھوڑ ہو: دوسری پارٹیوں کے ساتھ ان عرب جماعتوں میں بھی پھوٹ ڈالی جا سکتی ہے۔ واضح رہے کہ عرب فلسطینی بھی کسی ایک جماعت یا ایک سربراہ کے ماتحت نہیں ہیں، اس لیے ان میں سے بعض کو خریدا یا بلیک میل کیا جا سکتا ہے۔

3. دوبارہ انتخابات ہوں: نئے انتخابات بہت جذباتی ماحول میں ہوں گے۔ اس وقت مسلم فلسطینی جماعتوں کو شاید اتنی نشستیں نہ مل سکیں کہ وہ کنگ میکر بن پائیں۔ میرے خیال میں دونوں بڑے اتحادوں میں سے نتن یاہو کا اتحاد دوبارہ جیت سکتا ہے اور اکثریت کے ساتھ حکومت بنا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں نتن یاہو کا پہلا نشانہ وہی عرب اور مسلم سیاسی جماعتیں ہوں گی جو آج اس کے راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔
لہٰذا، نہ ہندوستان کی سیاست کا اسرائیل سے قیاس کرنا معقول ہے اور نہ ہی اسرائیل میں عرب فلسطینیوں کی عارضی انتخابی کامیابی ان کے لیے یا فلسطین کے حق میں بہت زیادہ مفید ثابت ہوتی نظر آتی ہے۔
You May Also Like
اداریہآذربائیجان کے الہام علیوف اپنی ہی سیاسی قبر کھود رہے ہیں
آذربائیجان کے الہام علیوف اپنی ہی سیاسی قبر کھود رہے ہیں از: محمد برہان...
اداریہالیکشن کمیشن کی غلطیوں کا خمیازہ عوام کیوں بھگتے؟
الیکشن کمیشن کی غلطیوں کا خمیازہ عوام کیوں بھگتے؟ از: محمد برہان الدین قاسمی...
اداریہجولائی ۲۰۲۶: وہ مہینہ جب ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کے زوال سے انکار ناممکن ہو گیا
جولائی ۲۰۲۶: وہ مہینہ جب ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کے زوال سے انکار ناممکن...
اداریہکوکروچ تحریک کی پہلی بڑی کامیابی
کوکروچ تحریک کی پہلی بڑی کامیابی از: محمد برہان الدین قاسمی ایڈیٹر: ایسٹرن کریسنٹ،...
آراءکرئیر بنانے کے چکر میں آپ بھی خدا کو بھول گئے!
کرئیر بنانے کے چکر میں آپ بھی خدا کو بھول گئے! مدثر احمد قاسمی...
آراءمسلمان نوجوانوں کی خدمت میں تین اہم گزارشات
مسلمان نوجوانوں کی خدمت میں تین اہم گزارشات محمد برہان الدین قاسمی ایڈیٹر ایسٹرن...

Comments (0)
Leave a Comment